کالم و مضامین

یوم مئی اور پاکستان

تحریر: پروفیسر افتخار محمود

درویشی و انقلاب مسلک ہے میرا
صوفی مومن ہوں ، اشتراکی مسلم
اپنے تاریخی کالم کا آغاز ممتاز عالم دین مولانا حسرت موہانی کے حقیقی انقلابی شعر سے کر تے ہوئے فخر کا مقام ہے کیونکہ پاکستان میں قیام سے قبل ہی بر صغیر میں چلنے والی کیمونسٹ تحریک تو موجود تھی تاہم 1967ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اعزاز حاصل ہوا کہ اشتراکیت ( سوشلزم )کا تعارف جو اب تک صرف چند شعرا یا ادیبوں یا پردوں میں پائی جانے والی کیمونسٹ پارٹی آف پاکستان یا پھر انجمن ترقی پسند مصنفین تک محدود تھا، چیئر مین پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے پارٹی مینی فیسٹو (منشور)میں شامل کر کے عوام تک پہنچا دیا ۔ پاکستانی محنت کش کی سیاسی آبیاری میں یہ درست ہے کہ صرف پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ نہیں ہے تاہم لفظ سوشلزم کو عوام میںزبان زد عام تک لانے میں اس سیاسی جماعت کا کلیدی کردار مانا جا سکتا ہے ۔ اسی جد وجہد کو جاری رکھتے ہوئے زیر نظر سطور پر عالمی سوشلسٹ تحریک میں حصہ ڈالنے کی ایک قلمی کاوش کے طور پر دنیا کے خالق یا دست دولت آفرین محنت کشوں /مزدوروںکے نام کی جارہی ہیں۔قصہ مختصر کہ آج سے 136سال قبل اس کرہ ارضی پر ایک ظلم بھرا واقع رونما ہوا جب امریکہ کے شہر شکاگو میں ’’ہائی مارکیٹ روئیٹ‘‘ کارخانہ اور دیگر کارخانوں کے 3لاکھ سے زائد مزدوروں نے یکم مئی کے روز بالکل پر امن جلسہ کر کے اوقات کار 12سے18گھنٹے کی بجائے صرف آٹھ گھنٹے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ۔جلسہ کے بعد ہزاروں محنت کش ہڑتا ل پر چلے گئے دو دن تک مسلسل ہڑتا ل اور احتجاج کے بعد تیسرے دن پر امن تحریک کو نہ صرف روکنے بلکہ کچلنے کے لئے ظلم و بربریت کی داستان رقم کرتے ہوئے’جلسہ کے شرکاء کو’ ریاستی جبر کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو مزدور شہید اور 40سے زائد زخمی ہو گئے اگلے روز موسم کی خرابی اور رابطے کے فقدان کی وجہ سے صرف تین ہزار مزدور احتجاج میں شامل ہو سکے جو اپنے دو عظیم ساتھیوں کے خون ناحق بہانے کا ریاست سے حق مانگ رہے تھے کہ ریاستی اداروں نے ان نہتے مظاہرین پرایک مرتبہ پھر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں لاتعداد مزدور شہید ہو گئے تعدا د زیادہ ہونے کی وجہ سے رپورٹ نہ ہو سکی ۔ریاستی گولیوں کی بوچھاڑ کی زد میں کئی پولیس کے سپاہی بھی لقمہ اجل بن گئے لیکن انتظامی اداروں نے انتظامیہ کے اہلکاران کی ہلاکت کا ذمہ دار نہتے مزدوروں کو ٹھہرایا اور 8مزدور رہنماؤں (البرٹ پارسنسز ، اگست سپائیز ، سموئیل فیڈن ، آسکر نیب ، مائیکل شوباب ، جارج انجیل، ایڈ ولف فریشر اور لوئیس لنگکو) کو موت اور قید کی سزائیں سنائیں گئی ، تاریخی حقائق حقائق ہوتے ہیں جو مقدس ہوتے ہیں چند برس بعد کارخانوں میں 8گھنٹے اوقات کار کے مطالبے کو تسلیم کر لیا گیا ۔تین سال بعد 1889ء میں عالمی سوشلسٹ گروپوں کی قائم کر دہ سیکنڈ انٹرنیشنل میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال یکم مئی کے روز امریکی شہر شکاگو کے کارخانہ کے مزدورں کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج کے دوران انتظامیہ کی طرف سے کی گئی فسطائیت اور بربریت کے نتیجے میں رتبہ شہادت پر فائز ہونے والے عظیم محنت کشوں کی یاد میں عالمی سطح پر یوم مئی یا انٹرنیشنل لیبر ڈے ( عالمی یوم مزدوراں ) کے طور پر منایا جا ئے گا ۔1890ء کے دوران دنیا میں اشتراکی نظریہ معیشت کے بانی کارل مارکس کے ساتھی فریڈرک اینگلز نے یکم مئی کو پہلی مرتبہ یوم مزدور کے طور پر عالمی سطح پر منانے کا اعلان کیا ۔ اب یہ سلسلہ 133سال سے جاری ہے ۔ یہاں راقم محنت یا محنت کش/مزدور کی وہ تعریف کرنا قارئین کی معلومات میں اضافہ کے لئے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہے ’’ معاشی اعتبار سے دنیا کا ہر وہ فرد ( بلا تمیز جنس ) ہفتہ بھر کے دوران 43گھنٹے معاوضہ کے عوض کوئی بھی پیداواری یا خدماتی سرگرمی کرتا ہے محنت کش کہلاتا ہے ‘‘لہٰذا محنت کا مطلب ہر گز صرف ہاتھ سے کی جانے والی محنت یا سخت مشکل کام کا نام نہیں ہے بلکہ ہر وہ سرگرمی جس کے بدلے میں کوئی اجرت بطور معاوضہ وصول کرے گا محنت کے زمرے میں آتی ہے یہ تعریف اس لئے پیش کی ہے کہ جس طرح انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ تقاضے اور ضروریات تبدیل ہوتے ہیں ، اسی طرح محنت کی تعریف بھی تقاضائے وقت کے ساتھ تبدیل ہو رہی ہے ۔اس وقت تک عالمی سطح پر مزدوں کسان کے لئے ’’درانتی اور ہتھوڑے ‘‘ کا نشان بطور علامت مانا جاتا ہے جبکہ آج بات بہت آگے جا چکی ہے ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے انقلاب کے بعد محنت کش کے لئے( کمپیوٹر سکرین اور ’’کی‘‘ بورڈ)کو بھی عالمی محنت کشوں کے نشان میں شامل کر لینا چاہیے کیونکہ تقریباً دنیا کا بیشتر حصہ اس وقت دیجیٹل ٹیکنالوجی اپنا چکا ہے جو نہیں ہے وہاں بھی کوشش جاری ہے ، اگر استحصال کی بات کی جائے تو محنت اور اس کااستحصال تو اس وقت سے شروع ہو گیا تھا جب ہزاروں سال قبل انسان نے جنگل کی زندگی سے نکل کرآبی ذخائر کے نزدیک میدانی زندگی کا آغاز کیا اور’’ سکہ‘‘ کا آغاز ہوا ،سکہ کو نظام تبادلہ ( اشیاء کے بدلے اشیاء کا نظام) میں پائی جانے والی مشکلات پر قابو پانے کا ذریعہ تصور کیا گیا ۔ انسانی تاریخ میں یہ وہ دور ہے جب قدیم اشتراکی نظام دم توڑنے لگا اس صورت حال کے نتیجے میں طاقتور آقا ٹھہرے جبکہ کمزور غلام محنت کش قرار پائے اور قدیم غلام داری نظام شروع ہوا ۔ ’’سکہ ‘‘طاقتور ہو نے لگا تو بچت ، دولت ، نفع اور سرمایہ کاری کے تصورات ابھرنے لگے جن کو نظام سرمایہ داری کا نام دیا گیا ۔ اس وقت وطن عزیز پاکستان میں سرمایہ داری اور آزاد منڈی کی معیشت نیز جاگیرداری کا نظام پوری قوت سے نافذ العمل ہے جس کے تحت ریاست شہریوں کوبنیادی حقوق کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتی ۔حالآنکہ 1973ء کے متفقہ دستور میں بنیادی انسانی حقوق (روز گار ، رہائش ، تعلیم اور صحت )کی شکیں موجود ہیں۔طبقاتی اور خاندانی نظام سیاست کی وجہ سے ان شکوں پر عمل در آمد ممکن نہیں ہے۔ اسی لئے وطن عزیز پاکستان میں اس عالم یوم مزدور کے موقع پر بھی صرف 27.5فیصد افرادی قوت دستاویزی معیشت سے وابستہ ہے جبکہ 72.5فیصد محنت کش غیر دستاویز ( بلیک اکانومی ) سے وابستہ ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 4.5فیصدسے بڑھ کر 6.3فیصد تک پہنچ گئی ہے یہ اعداد و شمار پاکستان لیبر فورس سروے کے نتیجے میں سامنے آئے ہیں اسی طرح صوبہ پنجاب میں بے روزگاری کی شرح 6.8فیصد ، صوبہ سندھ 3.9فیصد ، صوبہ خیبر پختون خواہ 8.8فیصد ، اور صوبہ بلوچستان میں بے روزگاری کی شرح 4.3فیصد ریکارڈ کی گئی ہے ۔ شماریات بیور پاکستان کے مطابق اس وقت ملک میں 37.4فیصد محنت کش زراعت ،37.2فیصد خدمات اور 25.4فیصد صنعتی شعبہ سے وابستہ ہیں اسی طرح پاکستان میں صنعت کاری نہ ہونے کی وجہ سے مردوں میں 5.5فیصد بے روزگاری پائی جاتی ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح 8.9فیصد ہے ۔مرد محنت کشوں کی فی کس تنخواہ 24,643/- روپے اور محنت کش خواتین کی فی کس اوسط تنخواہ مبلغ 20,120/-روپے ریکارڈ کی گئی ہے ۔ صرف ہاتھ اور جسمانی محنت کے حوالے سے پاکستان میں 7کروڑ 17لاکھ 60ہزار محنتی افرادی قوت ریکارڈ کی گئی ہے جن میں سے 67,250,000/- بر سر روزگار اور 4,510,000/- بے روز گار محنت کش افرادموجود ہیں ۔ان اعداد و شمار سے خوب اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز پاکستان میںمزدور انقلاب کے بغیر عوام کے سیاسی ، معاشی مسائل کا حل ممکن نہیں اس وقت پاکستان میں مخصوص اشرافیہ حکمران قوتیں ہیں جو عوام کو زیر نگین رکھنے کو اپنا بنیادی حق تصور کرتے ہیں اور حاکم ، محکوم کا سلسلہ قائم و دائم ہے ۔ حقیقت میں پاکستان میں بڑے صنعتی اور زرعی انقلاب کی بنیادی ضرورت ہے نیز جب تک محنت کشوں کے حقیقی نمائندگان ایوان اقتدار تک پہنچ نہیں پاتے اس وقت موجودہ معاشی نظام میں کسی قسم کی بہتری کی توقع کرنا ایک دیوانے کے خواب سے سوا کچھ نہیں ہے ۔یوم مئی کے حوالے سے پاکستان کے لاکھوں کروڑوں محنت کشو کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ سرکاری سطح پر مزدور انجمن سازی جن میں ، اساتذہ ، دفتری اہلکاران ، کارکنان ، کان کنی کے صنعت سے وابستہ ، منضبط طریقے سے سوشلسٹ نظام معیشت کی تعلیم حاصل کر کے منظم نہیں ہو پائیں گے اس وقت تک یوم مئی سال بھر میں ایک ہی مرتبہ منایا جاتا رہے گا ۔نیشنل انڈسٹریل کمشن کے اعداد شمارکے مطابق2016ء تک پاکستان میں 1390ٹریڈ یونینز رجسٹرڈ تھیں جن میں 1.4ملین مزدور محنت کش بطور ممبران شامل تھے ، جہاں تک ٹریڈ یونین اور لیبر یونین کا تعلق ہے تو دو تین اور چار تک اقسام پائی جاتی ہیں جن میں لوکل یونین ، کرافٹ یونین ، جنرل یونین ، انڈسٹریل یونین ، فیڈریشن اور کنفیڈریشن جیسی اصطلاحات محنت کش انجمنوں کے استعمال کی جاتی ہیں کتنا ہی اچھا ہو کہ بیان بالا تمام قسم کی مزدور ، محنت کش یا کسان انجمنیں عوامی سطح اس تاریخی عالمی دن کو منائیں اور پاکستان کے دست دولت آفرین طبقے یعنی محنت کش طبقے کو باور کرانے کی کوشش کریں کہ وطن عزیز کے ایوانوں تک جب تک ہاتھ یا کسی بھی قسم کی دماغی یا جسمانی محنت سے متعلقہ افراد کے حقیقی نمائندگان نہیں پہنچیں گے اس وقت عوام کی حقیقی نمائندگی کا خواب ادھورا رہے گا ۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے عالمی سطح پر یوم مزدور کو صرف ایک دن تک محدود نہ کیا جائے ملک بھر میں موجود صنعتی یا دیگر محنت کشوں کے ایام وفات پر ، ایسے رہنما جنہوں نے تاریخ میں محنت کش طبقے کی شعور و آگہی کے لئے کوئی کردار ادا کیا ہو ان کی یاد میں ان محنتی انجمنوں کو یادگاری دن منانے چاہیں تا کہ سال بھر دیگر تقریبات کی طرح مزدور اور محنت کش طبقے کی شعوری بیداری کے لئے ایک سلسلہ جاری رہے ان شخصیات میں مزور رہنما ، مرزا ابراہیم، دادا امیر حیدر ، ڈاکٹر مبشر حسن ،حضرو ضلع اٹک کے میر داد خان اسی طرح کے دیگر کئی کرداروں کو سال بھر یاد کیا جا سکتا ہے ۔ تجویز اس لئے دی گئی ہے کہ اس وقت تک کیفیت یہ کہ ہمارا اصل محنت کش طبقہ اپنے وجود کی اہمیت سے مکمل طور پر واقفیت ہی نہیں رکھتا ، پاکستان کے بائیں بازو کو از حد تک محنت کی ضرور ت جو کہ ہو نہیں پا رہی ہے ۔ یوم مئی کے موقع پر پاکستان بھر کے محنتی حلقوںکو پیغام دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ واقعی اپنے طبقاتی کردار کا وجود چاہتے ہیں تو پھر اس یوم مئی سے تمام تفریقی تصورات ختم کرتے ہوئے مسلسل ایک سلسلہ کا آغاز کریں جس کے ذریعے پاکستان میں نہ صرف صنعتی بلکہ دیگر دفتری اور کان کنی تک کے محنت کشوں کی سیاسی تعلیم و تربیت کا انتظا م کیا جائے تا کہ یوم مئی کے اصل مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔

فون نمبر :۔0301/03065430285
[email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button