دینہکالم و مضامین

دینہ کے مسائل اور ہماری بے حسی

تحریر: سید توقیر آصف شاہ

پنجاب کے 36 اضلاع کی تحصیلوں میں دینہ وہ واحد تحصیل ہے جہاں پر 15 سال گزرنے کے باوجود تحصیلی ڈھانچہ نہیں بن سکا، کاغذات و فائلوں میں تو اسے تحصیل کہا جا سکتا ہے لیکن عملاً اسے تحصیل تو درکنار ٹاؤن کمیٹی کہنا بھی زیادتی ہو گی کیونکہ 45 سال قبل 1977 میں دینہ کو کمیٹی کا درجہ دیا گیا جس کا پہلا چیف آفیسر محمد مشتاق راجہ آف اڈرانہ نے 45 اہلکاروں کے ساتھ چارج سنبھال کر کام شروع کیا۔

میونسپل کمیٹی (بلدیہ) دینہ کے پہلے عوامی نمائندے چیئرمین بلدیہ دینہ چوہدری لطیف آف مفتیاں تھے۔ اس وقت بلدیہ دینہ کے نمایاں محلوں میں میانہ محلہ، ڈومیلی محلہ، محلہ شیخاں، محلہ مہاجرین، محلہ آزاد شاہ، محلہ معصوم شاہ، ٹھیکریاں، محلہ اسلام پورہ، نیا محلہ، مفتیاں وغیرہ جبکہ سڑکوں میں منگلا روڈ، ریلوے روڈ، مین بازار اور ڈاکخانہ روڈ قابل ذکر تھیں۔

اُس وقت بلدیہ دینہ کی آبادی تقریباً 30 ہزار نفوس پر مشتمل تھی۔ 45 سال پہلے بننے والی اس کمیٹی کو تحصیل کا درجہ ملے بھی 15 سال گزر چکے ہیں۔ آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ میونسپل کمیٹی (بلدیہ) دینہ میں گورنمنٹ شیڈول کے مطابق ورکرز صرف سات ہیں جبکہ عارضی تعیناتی 55 افراد پر مشتمل ہے جو زیادہ تر بیورو کریٹس اور سیاسی گھرانوں میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ اگر ہم دینہ شہر کی موجودہ صورتحال پر نظر دوڑائیں تو ہر طرف لاقانونیت، ناجائز تجاوزات کی بھرمار، گندگی کے ڈھیر، تعفن مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں کیونکہ بلدیہ دینہ اسوقت چند افراد کی مرہون منت ہے، اس لیے پولیس اہلکاروں اور دوسرے اداروں کو مورد الزام ٹھہرانا سراسر زیادتی ہو گی کیونکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

محتاط اندازے کے مطابق دینہ شہر میں 22 سو سے زائد دوکانیں، 135 سے زائد مارکیٹیں اور 75 کے قریب پلازے ہیں۔ دو سے تین پلازوں کی پارکنگ کہنے کو تو ہے مگر عملاً موجود نہیں جبکہ ٹریفک کی بات کی جائے تو 1999 ء میں تانگے کی جگہ چنگ چی نے لے لی تو اسوقت ان کی تعداد تین سو کے لگ بھگ تھی جبکہ اس وقت دینہ میں چنگ چی رکشوں کی تعداد 45 سو سے زائد ہو چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ریڑھیوں کی جگہ دو سو لوڈر رکشہ۔ 80 سے زائد مسافر وین اور 60 سے زائد مسافر بسوں کے علاؤہ سینکڑوں کی تعداد میں دیگر ٹرانسپورٹ اس شہر میں موجود ہے لیکن یہاں جنرل بس اسٹینڈ اور کار اسٹینڈ کے علاوہ کوئی پارکنگ ایریا موجود نہیں جبکہ اسی ٹرانسپورٹ کی مد میں کروڑوں روپے کا ریونیو سالانہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔

ناجائز تجاوزات کا یہ عالم ہے کہ بلدیہ اور دوکانداروں کی ملی بھگت سے دوکانوں کے سامنے فٹ پاتھ پر سامان کے ساتھ ساتھ روڈ پر ریڑھی بانوں نے رہی کسر پوری کردی ہے، اس وقت دینہ شہر میں تقریباً 13 سو سے زائد ریڑھیاں موجود ہیں جو تجاوزات کا سب سے بڑا سبب بن چکی ہیں۔ دو سے تین پولیس اہلکار اس بے ہنگم ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

2006ء میں پہلے تحصیل ناظم چوہدری جاوید حسین نے اپنی مدد آپ کے تحت اس شہر کو ماڈل سٹی بنانے کے لیے چند عملی اقدامات کیے جن میں ریسکیو کی بلڈنگ اور جدید فائر بریگیڈ کی گاڑی قابل ذکر ہیں۔ 2010 ء میں دینہ کی شائستہ عوام نے واپڈا کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس بلڈنگ اور گاڑیوں کو جلا کر راکھ کر دیا تھا، اس کے بعد اس تحصیل کی قسمت ایسے پھوٹی کہ اس کے بعد دینہ میں کوئی ترقیاتی کام عمل میں نہ لایا جا سکا۔

یہ ہم سب کے لیے لمہ فکریہ ہے کہ کیا ان تمام مسائل کو صرف بلدیہ اور پولیس کے اہلکار ہی حل کر سکتے ہیں یا ہم بحیثیت ایک قوم اپنی ہٹ دھرمی سے ان مسائل کو برقرار رکھے ہوئے ہیں یا ان مسائل کی بنیادی وجہ وہ عوامی نمائندے ہیں جو اس عہد پر منتخب ہوتے ہیں کہ وہ عوام کے مسائل کو ہر قیمت پر حل کریں گے۔ فیصلہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں کیونکہ بقول شاعر

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button