کالم و مضامین

القادر یونیورسٹی: ’خاتون اول کے دل کے قریب‘

تحریر: سحرش قریشی

وزیراعظم بننے سے قبل عمران خان ریاست مدینہ کے تصور کی ترویج کیا کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد ان سے کئی مرتبہ سوال کیا گیا کہ انہوں نے ریاست مدینہ کی تکمیل کے لیے عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے۔

اسی طرح اکثر انٹرویوز اور تقاریر میں وزیراعظم عمران خان پاکستان کے تدریسی نظام اور اس سے جنم لینے والے مسائل کا ذکر بھی کرتے رہے ہیں اور اس کا تدارک ایک ایسے تعلیمی نظام کو قرار دیتے ہیں جہاں دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم دی جائے۔

اپنے اسی خیال کو حقیقت میں بدلنے کے لیے انہوں نے صوبہ پنجاب کے شہر جہلم کے علاقے سوہاوہ میں القادر یونیورسٹی بنانے کا اعلان کیا، جہاں دنیاوی تعلیمات کو صوفی ازم اور سیرت النبی کے ساتھ نہ صرف ملا کر پڑھا جائے گا بلکہ اس پر ریسرچ بھی کی جائے گی۔

اس یونیورسٹی میں نہ صرف تعلیم دی جائے گی بلکہ آکسفورڈ ریذیڈینشل کالج کی طرز پر طلبہ کو مینٹورز بھی اسائن کیے جائیں گے جو نہ صرف کلاس ختم ہونے کے بعد بھی طلبہ کے ساتھ ہوں گے بلکہ ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کریں گے۔ اس جامعہ میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں طلبہ و طالبات کو جدید علوم قرآن و سنت کی روشنی میں نہ صرف سکھائے جائیں گے بلکہ اصل روح کے مطابق ان تعلیمات پر عمل کرنے کی تربیت بھی دی جائے گی۔

بطور وزیراعظم عمران خان کا یہ ایک ایسا پراجیکٹ ہے جو ان کے ریاست مدینہ کے تصور کی تکمیل کے لیے ایک عملی قدم ہے۔ گلوبل سکوپ رکھنے والی یہ ٹرسٹ بیسڈ یونیورسٹی اس لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہاں کی فیکلٹی کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہے۔

القادر یونیورسٹی کی ایڈوائزری کمیٹی میں شیخ حمزہ یوسف، شیخ عبدالحکیم مراد، شیخ امین کھولوادیا اور ڈاکٹر رجب سینٹرک جیسے عالمی سطح پر مشہور نام شامل ہیں۔

اس ٹرسٹ بیسڈ جامعہ کی فیکلٹی میں لمز، آئی بی اے اور کے ایس بی ایل جیسی پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے ڈاکٹر ذیشان احمد، ڈاکٹر جمشید حسن خان، ڈاکٹر عارف زمان، ڈاکٹر انور خورشید اور ڈاکٹر عارف اقبال رانا شامل ہیں۔

یہ ایک پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹی ہے اور اس کے انتظامات ایک ٹرسٹ کے تحت کیے گئے ہیں تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کا اس پر کوئی اثر نہ پڑے۔ اس پراجیکٹ کا ایک منفرد پہلو یہ بھی ہے کہ خاتون اول بشریٰ بی بی اس پراجیکٹ کے ٹرسٹیز میں شامل ہیں۔

گفتگو کرتے ہوئے اس پراجیکٹ کے ڈین ڈاکٹر ذیشان احمد کا کہنا تھا: ’یہ پراجیکٹ خان صاحب کا ایک بہت پرانا خواب تھا کہ وہ ایک ایسی یونیورسٹی بنائیں جہاں سیرت اور صوفی تعلیم کو سائنسی علوم کے ساتھ ملا کر پڑھایا جائے۔ یہ پراجیکٹ نہ صرف وزیراعظم کا خواب ہے بلکہ خاتون اول کے دل کے بھی بہت قریب ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اسلام کے نام پر بنا مگر عملی طور پر قردادِ مقاصد اور چند آئینی ترامیم کے علاوہ ایسے اقدامات نہیں کیے گئے، خاص طور پر جو چیز قوم میں داخل ہوتی ہے وہ ان کے نظام تعلیم اور میڈیا سے داخل ہوتی ہے مگر دونوں طرف دیکھیں تو واضح طور پر ایک دنیاوی اور سیکولر سوچ ہے جس میں اکثر اسلام کے آئیڈیاز شامل نہیں ہوتے۔ کم از کم مرکزی دھارے میں نہیں ہوتے تو ایک ایسی یونیورسٹی کی ضرورت محسوس کی گئی جہاں ہم قرآن، سنت، سیرت، علما و مشائخ کے اقوال اور تصوف پر تحقیق کریں اور اس کو ماڈرن سائنس اور ریسرچ کے ساتھ ملائیں۔‘

ڈاکٹر ذیشان احمد نے یونیورسٹی کی فیکلٹی کے بارے میں بتایا: ’یہاں کی فیکلٹی کو منتخب کرنے میں ہماری پہلی کوشش یہی رہی ہے کہ ان کا رجحان اسلامی ہو اور وہ اپنے مضمون کے بھی ماہر ہوں لیکن ان کی بنیاد اسلام میں ہو۔ اس ادارے کا سکوپ گلوبل ہے۔ ہم نے کچھ معاہدے ترکی اور ملیشیا کے ساتھ بھی کیے ہیں تاکہ طلبہ اور فیکلٹی ایکسچینج پروگرام ہو سکیں اور طلبہ اور اساتذہ اس سے فائدہ حاصل کر سکیں۔‘

’آہستہ آہستہ یہاں بیرون ممالک سے طلبہ اور اساتذہ آئیں گے۔ ابھی بھی کچھ بیرون ممالک کے اساتذہ کو آن بورڈ لیا گیا ہے جو آن لائن کلاسز بھی دیں گے اور کچھ یہاں آ کر بھی پڑھائیں گے۔‘

مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا ایک اور پلان ہے کہ مدرسے کے طلبہ کے لیے ماسٹرز کے کورس ڈیزائن کیے جائیں، جہاں پر سائنس اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ریسرچ کے طریقے سکھائے جائیں تاکہ وہ موثر انداز میں اپنی دعوت دنیا تک پہنچا سکیں۔‘

اس سوال پر کہ کیا یہ یونیورسٹی صرف مسلمان طلبہ اور اساتذہ کے لیے ہی بنائی گئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ یہ یونیورسٹی صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہاں پر کئی پروفیسر بھی ہوں گے، جو کوئی مضمون پڑھا رہے ہوں اور ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمان نہ ہوں۔ کئی طلبہ بھی ایسے ہوسکتے ہیں۔‘

انہوں نے امید بھی ظاہر کی کہ یہ یونیورسٹی دنیا بھر میں مسلمانوں کے بارے میں پائے جانے والے انتہاپسندی کے تاثر کو زائل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

ڈاکٹر ذیشان نے بتایا کہ ’کچھ اس طرح کے لوگ ہیں جو مجھے کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کی اچھی تعلیم کے ساتھ اچھی تربیت بھی چاہتے ہیں تو ہم انہیں کہاں بھیجیں۔ ابھی تک میرے پاس انہیں دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا، مگر اب میں انہیں کہوں گا کہ اپنے بچوں کو القادر یونیورسٹی بھیجیں۔‘

لمز یونیورسٹی چھوڑ کر القادر یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طالب علم عمار بشارت نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’عمرہ کرنے کے بعد میرا رجحان مذہب کی جانب زیادہ ہوگیا۔ میری بہت خواہش تھی کہ میں نہ صرف دنیاوی بلکہ دینی تعلیم کی طرف بھی جاؤں۔ میں چاہتا تھا کہ ایسی صحبت والی جگہ ہو جہاں تربیت بھی دی جائے۔ آپ کے ساتھ اساتذہ ہوں جو آپ کو سب کچھ بتائیں اور بتانے کے ساتھ کرکے بھی دکھائیں اور القادر یونیورسٹی ایک ایسا ہی ادارہ ہے۔‘

ڈسٹرکٹ نارووال شکر گڑھ سے تعلق رکھنے والی القادر یونیورسٹی کی طالبہ اقصیٰ نصرت نے بتایا کہ انہوں نے ایف ایس سی پری میڈیکل کیا ہے اور یہاں اپنے شوق کی وجہ سے آئی ہیں۔ بقول اقصیٰ: ’میں پنے ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتی ہوں اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ اپنے کیریئر کا راستہ میں خود بناؤں۔ جب میں نے القادر کا ویژن دیکھا تو اس نے مجھے بہت متاثر کیا۔‘

القادر یونیورسٹی کے پہلے بیچ کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے۔ ابتدائی طور پر یونیورسٹی بی ایس آنرز (مینجمنٹ) کی ڈگری آفر کر رہی ہے اور پہلے بیج میں 16 طلبہ اور 21 طالبات یہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button