جہلم

ٹیوٹا پنجاب کے انجینئرز ٹیکنیکل الاؤنس سے محروم، احتجاجی تحریک کی شروعات کردی گئی

جہلم: ٹیوٹا پنجاب کے انجینئرز ٹیکنیکل الاؤنس سے محروم’ اپنے حق کے مطالبے کے لیے احتجاجی تحریک کی شروعات کردی گئی۔

تفصیلات کے مطابق ٹیوٹا انجینئرز پنجاب کا اپنے جائز حقوق ٹیکنیکل الاؤنس کے مطالبے کے لیے جہلم سمیت پنجاب بھر کے تمام اضلاع میں پرامن احتجاج کیا۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ 2 سال سے زائد عرصہ سے اپنی آواز بلند کر رہے ہیں متعدد مرتبہ ارباب اختیار تک اپنا پیغام اور تحفظات پہنچائے لیکن وزیر اعلیٰ سمیت ذمہ دار افسران بالا نے معاملہ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ٹیکنیکل ادارہ کے انجینئرز ملازمین میں اب مزید سکت نہیں رہی کہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو برداشت کردیں۔

چیئرمین ٹیوٹا پنجاب علی سلمان صدیقی کی خصوصی دلچسپی کوشش و کاوشوں اور ٹیوٹابورڈ سے منظوری کے باوجود فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث سینکڑوں انجینئر ملازمین اپنے جائز حقوق سے تا حال محروم ہیں۔ احتجاجی شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کابینہ نے سرکاری محکموں میں کام کرنے والے انجینئرز کو پچھلے سال اپریل کے مہینے میں بنیادی تنخواہ کا ڈیڑھ گنا بطور ٹیکنیکل الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا افسوس کہ پنجاب کے محکمہ فنانس نے امتیازی سلوک برتا اور چند مخصوص محکموں کا الاؤنس فوری جاری کر دیا اور باقی محکموں کو اپنا فیصلہ خود کر کے الاؤنس جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔

اس سلسلہ میں چیرمین ٹیوٹا پنجاب علی سلمان صدیق نے بورڈ اجلاس میں ٹیکنیکل الاؤنس منظور کیا چونکہ ٹیوٹا پنجاب دیگر محکموں کی طرح کوئی زیادہ فنڈز پیدا کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق صوبہ پنجاب میں نہایت کم فیسوں پر اور بالکل مفت فنی تعلیم دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اس لیے فنڈز کی قلت کے باعث محکمہ فنانس سے فنڈز کی فراہمی کی درخواست کی جس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہ آیا بلکہ معاملہ کو طول دینے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی گئی لیکن سال گزرنے کے باوجود انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

اس ضمن میں ٹیوٹا پنجاب کے انجینئرز میں نہایت اضطرابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار معاملے کا فوری نوٹس لے کر فنڈز جاری کرنے کا حکم صادر فرمائے۔ فنڈز کا سالانہ حجم صرف 23کروڑ روپے ہے جس سے سینکڑوں ملازمین کے گھر والے مستفید ہوں گے، شرکا نے کہا کہ اگر حکام بالا نے معاملہ پر سنجیدگی سے غور کر کے معاملہ حل نہ کیاتو اگلے چند روز میں اس احتجاجی تحریک کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اور دھرنے کی کال دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button