پنڈدادنخان

ڈنڈوت آر ایس کے عوام مسائل کا شکار — رپورٹ: سلیمان شہباز

بین اقوامی شہرت کے حامل شہر کھیوڑہ کے نواحی علاقہ ڈنڈوت جو کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے معدنیات کا ایک بڑا ذخیرہ اپنے اندرسمائے ہوئے ہے اس علاقے سے حکومت کو کروڑوں روپے کا ریونیو میسرہو تا ہے تاہم اس علاقے کی عوام اس جدید دور میں بھی پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے جس کا سہرا مقامی منتخب سست اور نااہل سیاسی نمائندوں کے سر ہے۔

پا نی جیسی بنیادی سہولت کے علاوہ اور بھی بہت سی ایسی سہولیات ہیں جن سے مستفید ہو نا ڈنڈوت آر ایس کی آبادی کا حق ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ڈنڈوت کے عوام کا کو ئی پرسان حال نہیں نہ تو چھو ٹی سی آبادی والے انڈسٹریل ایریا کی سڑکیں ہیں نہ ہی گلیاں ہر طرف گردوغبار کے بادل چھائے رہتے ہیں صفائی کا نظام تو ہے ہی نہیں دوسری طرف ڈنڈوت سیمنٹ کمپنی کی اُڑتی گردوغبار نے عوام کا جینا محال کیا ہوا ہے فیکٹری مالکان کروڑں روے کما رہے ہیں لیکن مقامی آبادی کے لیے کوئی خاص سہولت میسر کرنے سے بھی قاصر ہے ۔

کمپنی کی قریبی آبادی عرصہ دراز سے صاف پانی پینے سے محروم اور نمکین پانی پینے پر مجبور ہے متعدد بار عوام نے اپنے حق کے لیے آواز بلند کی لیکن سیاسی نمائندوں کی ملی بھگت سے جھوٹے دعووں اور وعدوں کی بنا پر احتجاج ختم کروا دیا جاتا ہے اگر کھیوڑہ سے ڈنڈوت جانے والی اکلوتی سڑک کی بات کی جائے تو ایسا لگتا ہے کہ سڑک تھی ہی نہیں رکشوں اور کمپنی کا را میٹریل لے کر جانے والی گاڑیوں کی وجہ سے اُڑنے والے گرد و غبار سے سڑک کے اطراف پر مقیم آبادی شدد متاثر ہے جو کہ اس بھول بھلیاں میں مبتلا ہے کہ اپنی اکلوتی سڑک کی تعمیر کا مطالبہ فیکٹری انتظامیہ سے کریں یا ان کی منتخب کی گئی مقامی انتظامیہ سے کیو نکہ ماہانہ ہزاروں ٹن کے حساب سے اسی روڈ سے کمپنی کا را میٹریل کمپنی تک پہنچایا جاتا ہے۔

سڑک کی بدترین خستہ حالی کی اہم وجہ کمپنی کی ہیو ی ٹریفک ہے صفائی کا نظام بری طرح مفلوج ہے گنتی کی چند گلیوں میں نکاسی کا نظام ہے ہی نہیں گلیوں میں کھڑا گندہ پانی گندگی کے ڈھیر ڈنڈوت آر ایس کی زینت بنے ہوئے ہیں کیو نکہ صفا ئی کا عملہ کبھی ڈنڈوت کی طرف گیا ہی نہیں تین ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی کے حامل ڈنڈوت کے لوگ صاف اور میٹھے پانی کو ترس رہے ہیں کئی بار احتجاج کرنے کے بعد بھی مقامی انتظامیہ کان پر جوںتو رینگی اور انتظامیہ کی جانب سے پانی مہیا کیا جانے لگالیکن وہ کڑوا اور گندہ ہوتا ہے جو کہ ہر دوسرے دن آدھے گھنٹہ کے لیے دیا جاتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق اس کا ماہانہ ٹیکس سو روپے (100)ریگولر فی کنکشن وصول کیا جاتاہے۔انتظامیہ کی جانب سے صاف پانی کی فراہمی کے لیے کوئی متبادل نظام نہ ہونے کی وجہ سے مقامی آبادی مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بن چُکی ہے ایک طرف فیکٹری سے اُڑتی گرد دوسری طرف عوام کو پانی نما زہر دیا جا رہا ہے ڈنڈوت سیمنٹ کمپنی کو چاہیے کے کم از کم تھوڑی سی آبادی پر مشتمل ڈنڈوت کے عوام کو صاف پانی مہیا کرے یا فلٹریشن پلانٹ ہی لگوا دیں تاکہ لو گ صاف پانی جیسی نعمت سے مستفید ہو سکیں اگر ڈنڈوت کے عوام پانی کی فراہمی اپنی مدد آپ کے تحت بھی چاہیں تو نزدیک ترین چار کلومیٹرکے فاصلے پرکھیوڑہ شہر میں آئی سی آئی کمپنی کی جانب سے فراہم کردہ صاف پانی کے عام پبلک کے درجنوں پوائنٹس سے پانی لے کر جانا کوئی آسان کام نہیں ہے اور آبادی کی اکثریت مزدور پیشہ ہونے کیوجہ سے پانی کو خرید نے کی سکت بھی نہیں رکھتی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سیاسی نمائندے صرف الیکشن کے دنوں میں اپنی سیاست چمکانے کے لیے تشریف لاتے ہیں جو وقتی طور پر تمام مسائل کے حل کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن الیکشن کے بعد سلیمانی ٹوپی پہن کر غائب ہو جاتے ہیں غر ضیکہ ہمارا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ اس علاقے کے عوام کی متعلقہ ادار وں، انتظامیہ اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے پُر زور اپیل ہے کہ فی الفور صاف اور میٹھے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں اور واٹر فلٹریشن پلانٹ لگاکر اس علاقے کی غریب عوام کو مہلک امراض سے بچایا جائے جہاں پورے پنجاب میں سڑکوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں ایک چھوٹی اور سنگل سڑک جو کہ کھیو ڑہ سے ڈنڈوت جا رہی ہے تعمیر نہ سہی کم از کم اسکی مرمت ہی کروا دی جائے جو کہ ڈنڈوت کے باسیو ں کو جا ئز مطالبہ ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button