اقتصادی امور کمیٹی — تحریر: شہباز بٹ

0

قارئین:وطن عزیز کی بھاگ دوڑعرصہ دراز سے ان کاروباری افراد کے ہاتھ میں تھی جو اپنا کاروبار چمکاتے اور بنک بیلنس بڑھاتے رہے آئی ایم ایف سے اتنا قرض لے لیا کہ ماں کے پیٹ میں موجود بچہ دنیا میں آنے سے قبل ہی مقروض ہو گیا ملکی دولت غیر قانونی طریقوں سے بیرون ممالک منتقل ہوتی رہی کسی نے برطانیہ میں محل بنائے تو کسی نے فرانس میں،ہمارے حکمران امیر سے امیر تر جبکہ غریب آدمی غریب سے غریب تر ہوتا گیا ملکی معشیت تباہی تک پہنچ گئی۔

اقتصادی امور کیطرف کوئی توجہ نہ دی گئی وزیر خزانہ بھی گھر کے افراد کو بنایا گیا جنہوں نے ملکی معشیت بہتر بنانے کی بجائے ذاتی کاروبار کی طرف زیادہ توجہ دی،اقتصادی امور کے ماہرین سے مشاورت کرنے اور کمیٹی تشکیل دینے کی بجائے ملکی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا پچیس جولائی کو پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی حکومت بنی تو ملکی خزانہ خالی اور قرضوں کا بوجھ تھا،،وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں ملکی معشیت کو بہتر بنانے کے لیے اقتصادی امور کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جس میں ماہر اقتصادی امور میاں عاطف کو بھی بطور ممبر شامل کیا گیا۔

ملکی معشیت کو بہتر بنانے کے عملی اقدامات کیا شروع ہوئے حکومت مخالف جماعتوں نے میاں عاطف کی نامزدگی پر شور واویلا شروع کر دیا،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا بیان آیا تو اس کو بھی بات کا بتنگڑ بنایا گیا اور فتوے شروع ہو گئے،الحمد اللہ ہم بھی مسلمان سچے عاشق رسول اور ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں میں بھی سمجھتا ہوں قادیانی دائرہ اسلام سے خارج ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کرکٹ،ہاکی اور دیگر ملکی ٹیموں کے کوچز غیر مسلم تعینات کیے جائیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔

پاکستان میں اسوقت آغا خان اسپتال،یونیورسٹی،سرینہ ہوٹل اور دیگر کاروبار پرنس کریم آغا خان کی ملکیت ہیں اور سب کے علم میں ہے آغا خان غیر مسلم ہے لیکن بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا پاکستانی بھی بیمار ہو جائے تو آغا خان اسپتال سے علاج کروانے کو ترجیح دیتا ہے،یہاں تک کے بڑے بڑے علماء کرام بھی مذکورہ اسپتال سے علاج کروا چکے ہیں،ہمارے ملک کے وڈیروں اور سرمایہ داروں کے زیادہ تر بچے آغا خان یونیورسٹی اور میڈیکل کالج سے تعلیم یافتہ ہیں، ہماری زیادہ تر اعلی سطحی تقریبات اسلام آباد کے سرینہ ہوٹل میں منعقد ہوتی ہیں جس میں اسلام کے بڑے بڑے ٹھیکیدار بھی روزانہ کی بنیادوں پر وہاں دکھائی دیتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمارے اوورسیز پاکستانی جو غیر مسلم ممالک میں محنت مزدوری کر رہے ہیں کسی کو شائد ہی معلوم ہو کہ جس جگہ وہ کاروبار کر رہے اسکا مالک قادیانی ہے عیسائی ہے یا مسلمان۔

اگر ملکی اداروں کی بات کی جائے تو تمام محکموں میں قادیانی اعلی عہدوں پر فائز ہیں،،،لیکن کوئی شور نہیں کوئی واویلا نہیں،،قادیانی آپکے دوست،محلے دار اور پڑوسی ہوں انکے ساتھ کھائیں پائیں مزے اڑائیں کوئی واویلا نہیں،،،لیکن مسئلہ صرف اس بات کا ہے کہ عمران خان نے ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے اقتصادی ماہرین پر مشتمل ٹیم دی اور اسکا ایک ممبر قادیانی ہے،،، او بھائی میاں عاطف وزیر نہیں،،مشیر نہیں صرف کمیٹی کا ممبر ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں۔

اقتصادی کمیٹی کا ممبر ہے جنکو ملک کی معاشی حالت بہتر بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے،،، اگر اعتراض بنتا ہے تو پھر میرا اعتراض یہ ہے کہ وطن عزیز کے تمام سرکاری اور نجی اداروں سے قادیانیوں کو فی الفور فارغ کیا جائے اور ان کے قائم کردہ اداروں سے علاج معالجہ کروانے، ڈگریاں حاصل کرنیاور انکے ہوٹلوں میں جانے پے تمام مسلمانوں پر پابندی عائد کی جائے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.