کالم و مضامین

عالمی یوم خواتین — تحریر: عثمان احمد سندھو

آج 8 مارچ 2017ء کو 109واں عالمی یوم خواتین منایاجا رہا ہے۔ خواتین کے حقوق کا پہلا عالمی دن 28 فروری 1909ء کو امریکہ میں منایا گیا تھا۔ اس دن کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب امریکہ کے شہر نیو یارک میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین نے طویل اوقات کار اور کم تنخواہوں پر احتجاج کیا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کی ڈیوٹی آٹھ گھنٹے کی جائے اور معقول تنخواہ دی جائے۔ یہ احتجاج جاری رہے لیکن قابل ذکر احتجاج 1908ء میں کیا گیا تقریباً پندرہ ہزار خواتین نے کیا کا مطالبہ یہ تھا کہ عورت کو مکمل حقوق دئیے جائیں۔ 1910ء میں پہلی خواتین کانفرنس کوپن ہیگن میں ہوئی جس میں عورتوں کے حقوق کا مطالبہ کیا گیا اس کے بعد دوسری خواتین کانفرنس معروف جرمن سوشلسٹ کلیرا ڈینکن نے کی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک سے سو سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ 1917ء میں روس میں سیاسی انقلاب برپا ہوا اور روس نے عالمی یوم خواتین کو تعطیل کا درجہ دینے کی منظوری دے دی۔ روس، بلغاریہ بوسنیا، البانیہ، امریکہ، کیوبا، چین، اٹلی، ازبکستان اور مختلف ملکوں میں آٹھ مارچ کو چھٹی کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔

دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی آٹھ مارچ کو ہر سال خواتین کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس دن مختلف تنظیمیں اور این جی اوز تقریبات اور ریلیوں کا اہتمام کرتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کی حالت میں بہتری کے لئے تجاویز دینے کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت نے خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی توجہ دی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ترقی کے سفر میں خواتین کی ضرورت اور اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے مثالی اقدامات کئے ہیں۔ ان میں تمام سرکاری محکموں میں ملازمت کے لئے خواتین کا 15 فیصد کوٹہ مختص ، سرکاری ملازمتوں کیلئے عمر کی حد میںخواتین کیلئے 3 سال کی رعایت، پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کونسل کے تحت 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد خواتین کو فنی تربیت کی فراہمی ، پنجاب سکل ڈویلپمنٹ فنڈ کے تحت 14 ہزار سے زائد دیہی خواتین کو فنی تربیت کی فراہمی جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے خواتین ڈاکٹرز،انجینئرزبن کرملک کی تعمیر وترقی میں اپنا کردارادا کررہی ہیں ۔ خواتین کے حقوق کے تحفظ اورانہیں بااختیار بنانے کیلئے موثر قانون سازی کی گئی ہے ۔خواتین کے وراثت میں حق کو یقینی بنانے کیلئے بھی موثر اقدامات کئے گئے ۔ جبکہ خواتین کے خلاف تشددکے خاتمے کے حوالے سے داد رسی سنٹرتکمیل کے آخری مراحل میں ہے ۔حقوق نسواں بل کی منظوری نے بھی خواتین کو ان کے حقوق کی دستیابی یقینی بنادی گئی ہے۔ حکومت پنجاب نے خواتین کی شرح خواندگی بڑھانے میں خاص دلچسپی لی ہے۔ بچیوں میں تعلیم و تربیت بڑھانے کی طرف بھر پور توجہ دی گئی ہے۔ سرکاری اداروں کے بورڈز میں خواتین کی نمائندگی 33 فیصد ہے۔پنجاب میں خاتون محتسب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ قانون سازی اور لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ذریعے خواتین کے جائیداد میں وراثتی حق کو یقینی بنایا گیا ہے۔ خواتین کے مسائل کے حل کیلئے ویمن کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔

ہمارے ملک کی آبادی 51 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔ اگر اس غالب آبادی کو جدید تعلیم و تربیت اور علوم و فنون سے آراستہ کر کے ملکی تعمیر و ترقی میں شامل کیا جائے تو ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ معاشرے میں ترقی خواتین کے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح قیام پاکستان میں عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کیا اسی طرح ملکی ترقی کے لئے خواتین کو آگے لانا ہو گا۔مرد اور عورت زندگی کی گاڑی کے دو پہیّے ہیں ظاہر ہے کہ جب تک گاڑی کے دونوں پہیّے صحیح طور پر کام نہ کریں یہ کبھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتی۔ کوئی معاشرہ اور قوم اس وقت تک شاہراہ ترقی پر گامزن نہیں ہو سکتی۔ جب تک مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہ کیا جائے۔

دانائوں کا قول ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے بچہ جو کچھ اس درس سے سیکھتا ہے وہ اس کی آئندہ زندگی پر بہت اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے کی بہترین تربیت کے لئے ماں کا تعلیم یافتہ ہونا از حد ضروری ہے۔ مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم ہوتی ہے مگر عورت کی تعلیم ایک پورے خاندان کی تعلیم ہے۔ یہ عورت ہی ہے جو خاندان کے نظام کو چلا سکتی ہے اور گھر کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ دراصل عورت ہی گھر کی حکمران ہوتی ہے۔ نپولین کا مشہور قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپ کو ایک بہترین قوم دوں گا۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف گھر کا انتظام خوش اسلوبی کے ساتھ چلا سکتی ہے بلکہ گھر کا حساب کتاب بھی باقاعدگی سے رکھ سکتی ہے اور کفایت شعاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر گھر کی آمدن کو ٹھیک طریقہ سے خرچ کر سکتی ہے۔

عورت کی تعلیم کا یہ مقصدنہیں کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت ہی کرے بلکہ تعلیم یافتہ عورت بچوں کی تربیت اور دیکھ بھال زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی ہے۔ اچھی تعلیم سے لڑکیوں میں سمجھ بوجھ اور شعور اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کی اس غالب اکثریت کو اچھی تعلیم اور معیاری تربیت سے آراستہ کیا جائے اس ضمن میں آنے والی حکومتوں کو ہر طبقہ کی حواتین کے لئے الگ سے پالیسی بنانا ہو گی اور اس کا عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہو گا۔ ملک کے عام شہریوں کے لئے بھی آج کا دن تجدید عہد کا یوم ہے کہ وہ اپنے اپنے گھر کی سطح پر خواتین بچیوں کو خصوصی توجہ اور نگہداشت کا مرکز بنائے۔

جس معاشرے نے خواتین کی ترقی کو اہمیت دی ہمیں اس معاشرے نے ترقی کے منازل طے کی ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ خواتین کو توانا بنائے بغیر مطلوبہ مقام حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لئے ملک کی تعمیر و ترقی اور پر امن معاشرے کی تشکیل میں خواتین کے حقوق لازم ہیں۔ جو معاشرہ خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے حقوق کے تحفظ میں ناکام رہتاہے وہ معاشرہ کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ہمیں معاشرے میں خواتین کی عزت اور ان کے حقوق کے بارے میں مثبت سوچ اپنانا ہو گی تو وہ دن دور نہیں ہماری خواتین ترقی یافتہ ممالک کی طرح ملکی ترقی و خوشحالی میں پیش پیش ہوں گی۔ حکومت خواتین کو با اختیار بنانے اور ان کے تحفظ کے حقوق کیلئے اپنا فرض ادا کر رہی ہے۔ اب خواتین کو بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہو گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button