الیکشن کو چند دن باقی، منافقانہ سیاسی سرگرمیاں عروج پر — سروے رپورٹ: محمد امجد بٹ

حلقہ این اے 67 میں فواد چوہدری اور مطلوب مہدی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع

0

انتخابات کے انعقاد میں دو عشروں سے بھی کم دن باقی انتخابی مہم روائتی جوش و خروش سے محروم مگر منافقانہ سیاسی سرگرمیاں عروج پر ۔جہلم کا حلقہ این اے 67 نواز شریف کے حمایت یافتہ نوابزادہ خاندان اپنی مسلسل 9ویں فتح برقرار رکھنے کے لئے پر عزم۔ این اے 67 کو فتح کرنے کے لئے پی پی پی ،ق لیگ اور پی ٹی آئی مسلسل آٹھ بار بڑے بڑے سیاسی سورمائوں کو آزمانے کے باوجود شکست سے دوچار رہیں۔

حالیہ انتخابات میں این اے 67 میں کامیابی کا ہما اپنے سر سجانے کے لئے پی ٹی آئی نے اس حلقہ میں گزشتہ ضمنی انتخاب میں شکست خوردہ امیدوار مرکزی ترجمان چوہدری فواد حسین کو ایک بار پھر میدان میں اتارا ہے ۔چوہدری فواد حسین کا مقابلہ اپنے روائتی حریف نوابزادہ مطلوب مہدی سے ہے ۔علاوہ ازیں اس حلقہ میں ن بمقابلہ ن اور پی ٹی آئی بمقابلہ پی ٹی آئی بھی جاری ہے ۔

انتخابی سروے کے مطابق جہلم کا حلقہ این اے63جو حالیہ حلقہ بندیوں کے بعد این اے67 ہو چکا ہے میں انتخابی سرگرمیوں میں وہ تیزی اور روائتی جوش و خروش کم نظر آتا ہے جو عام انتخابات میں ہونا چاہیے اسکے باوجود اس حلقہ کے امیدوار اپنے اپنے تائیں اپنی فتح یقینی بنا نے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں حلقہ این اے 67 جو 1988سے ابتک نوبزادہ اقبال مہدی (مرحوم) کے بعد انکے فرزند نوابزادہ مطلوب مہدی کی دسترس میں ہے کو انکی دسترس سے چھننے کے لئے قبل ازیں اس حلقہ میں بڑے بڑے سیاسی سورمائوں جن میں ڈاکٹر غلام حسین ،راجہ شاہد نواز جنجوعہ، راجہ ناصر علی خان ،سید شمس حیدر ، چوہدری شہباز حسین ، محمود مرزا جہلمی اور پی ٹی آئی کے مرکزی ترجمان چوہدری فواد حسین اس حلقہ میں میاں نواز شریف کے حمایت یافتہ امیدواروں سے مسلسل آٹھ مرتبہ شکت سے دوچار ہو چکے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے حوالے سے پی پی پی، ق لیگ اور پی ٹی آئی کا بھی اس حلقہ میں کامیابی کا خواب اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔آمدہ انتخابات میں پی ٹی آئی نے اپنی مسلسل تیسری شکست کے بعداس حلقہ میں مقابلے کے لئے دوبارہ مرکزی ترجمان چوہدری فواد حسین کو میدان میں اتارا ہے ۔پی ٹی آئی نے اس حلقہ میں اپنے قدم جمانے کے لئے چوہدری فواد حسین کو نہ صرف این اے67کے ٹکٹ سے نوازا بلکہ اس سے وابستہ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی27کا بھی ٹکٹ جاری کر کے چوہدری فواد حسین کو قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر قسمت آزمائی کا موقع فراہم کیا ہے۔

چوہدری فواد حسین کے از خود دو نشستوں جبکہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے66میں اپنے چچا زاد بھائی چوہدری فرخ الطاف کو ٹکٹ جاری کروا کے پی ٹی آئی پر اپنے خاندانی تسلط کے قائم کرنے کی کوشش کی ہے جسکی وجہ سے پی ٹی آئی کے نظریاتی حلقے نہ صرف انکے خلاف ہو گئے ہیں بلکہ انہوں نے انکی شکست کو یقینی بنانے کے لئے قومی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں اپنے امیدوار اتار کر انکی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

چوہدری فواد حسین اپنی دونوں نشستوں پر کامیابی یقینی بنانے کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں معتبر سیاسی حلقوں کی حمایت حاصل کرنے کے دعوے دار ہیں تاہم ا ن کا اصل مقابلہ اپنے مد مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار اور ضمنی انتخاب میں ان کے فاتح نوابزادہ مطلوب مہدی سے ہے جنہوں نے قومی اسمبلی میں از خود جبکہ تحصیل پنڈ دادنخان سے صوبائی حلقہ پی پی 27 میں ان کے مدمقابل انکے سابقہ ساتھی حاجی ناصر للہ کو امیدوار کھڑا کر کے تحصیل پنڈدادنخان کے عوام یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ تحصیل پنڈ دادنخان کے باسی حاجی ناصر للہ کو ووٹ دیں یا پنڈدادنخان کی بجائے تحصیل دینہ سے وارد ہونے والے امیدوار چوہدری فواد حسین کی حمایت کریں ۔

ایک بات اظہر المن شمس ہے کہ مقامی امیدوار نامزد کرنے سے علاقائی سطح پر مسلم لیگ ن نے چوہدری فواد حسین کی صوبائی اسمبلی کی نشت پر مقابلہ سنسنی خیز بنا دیا ہے ۔حلقہ این اے67 میں پی ٹی آئی کی طرح مسلم لیگ ن کو بھی ن لیگ کے ناراض حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مسلم لیگ ن کے متعدد دھڑے بعض مطلوب میں اپنی جماعت ن لیگ کی بجائے پی ٹی آئی کو سپورٹ کرتے نظر آ رہے ہیں منافقانہ سیاست کا یہ کھیل جو اب تک جاری ہے 25جولائی کو کیا نتائج دے گا اسکا فیصلہ آئندہ چند روز میں متوقع ہے مسلم لیگ ن جو اس حلقہ میں مسلسل آٹھ مرتبہ اپنی فتح کو برقرار رکھے ہوئے ہے اگر نویں مرتبہ بھی اس میں کامیابی حاصل کرلیتی ہے تو یہ کہنا بجا ہو گا کہ یہ حلقہ آئندہ کسی بھی جماعت اور امیدوار کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار سے کم نہ ہو گا اور اگر پی ٹی آئی اپنی سیاسی بصیرت کے تحت اس حلقہ میں کامیاب ہو جاتہ ہے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ناکامیوں کے مسلسل آٹھ ادوار کے بعد اس نے یہ سیاسی کوہ ہمایہ سر کر لیا ہے ۔

حلقہ این اے67ماضی کے آئینے میں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.