سچ برداشت کرو — تحریر: محمد امجد بٹ

0

بادشاہ سلامت کا دربار لگا ہوا تھا دربار میں شاہی مسخرہ اپنے لطائف اور جگتوں سے درباریوں کے ساتھ ساتھ بادشاہ کا دل بہلا رہا تھا مسخرے کی باتوں سے سارے درباری ہنس رہے تھے بادشاہ بھی اس کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا جیسے جیسے بادشاہ ہنستا مسخرہ اور بلند آواز میں جگت بازی کرتا، وہ کہتا بادشاہ لنگڑا ہے اندھا ہے بادشاہ بہرہ ہے بادشاہ جھوٹا ہے وہ کنجوس ہے ڈرپوک ہے مسخرے کی ان باتوں سے درباری خوب ہنستے اور بادشاہ بھی ہنسی سے بے حا ل ہو اجاتا ، مسخرے کو اور زیادہ جوش آیا اس نے زور زور سے کہا بادشاہ گنجا ہے ، پاگل ہے اس بات پر بادشاہ سیخ پا ہو گیا او اس نے حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر لیا جائے حکم سنتے ہی دربار میں ہو کا عالم چھا گیا ہر کوئی پریشان تھا کہ بادشاہ تھوڑی دیر قبل تو خوب مزے لے لے کر جگت بازی پر قہقہے لگا رہا تھا اب اچانک اسے کیا ہو گیا ؟؟؟

بادشاہ کے حکم پر مسخرے کو گرفتار کر لیا گیا بادشاہ نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ کل اسے بھوکے شیر کے پنجرے میں ڈال کر شیر کی خوراک بنا دیا جائے ۔بادشاہ کی یہ انوکھی سزا سن کر ہر کوئی انگشت بدنداں تھا مگر حکم حاکم کے سامنے کس کو دم مارنے کی مجال ٹھہری،،، سپاہی مسخرے کو زندان میں ڈال آئے۔ ادھر لوگوں نے مسخرے بے چارے کی جان بچانے کیلئے ایک ترکیب سوچی وہ یہ کہ بھوکے شیر کا پیٹ صبح سے پہلے بھر دیاجائے تاکہ جب مسخرہ پنجرے میں داخل ہو تو شیر اسے کچھ نہ کہے ،، مسخرے کے حمایتی رات بھر شیر کو مختلف جانوروں کا گوشت کھلاتے رہے جس سے شیر شکم سیر ہو گیا صبح دربار سجا ،، لوگ اکٹھے ہوئے ہر کو ئی دعا گو تھا کہ بادشاہ سلامت مسخرے کی جان بخشی کردے مگر بادشاہ تھا کہ اپنا فیصلہ تبدیل کرنے کو محال تصور کررہا تھا شاہی حکم پر پنجرے میں قید شیر کو میدان میں لایا گیا سپاہیوں نے دروازہ کھولا اور مسخرے کو اندر دھکیل دیا اب رات بھر گوشت کھانے والا شہر اور مسخرہ ایک پنجرے میں قید تھے عوام کا جم غفیر یہ ہولناک منظر دیکھ رہا تھا شیر مسخر ے کو دیکھ کر غرایا مسخرہ شیر کو دیکھ کر موت کو یاد کرنے لگا شیر نے تھوڑی حرکت کی اور مسخرے کے پاس آ کر رک گیا اسی اثنا میں مسخرے نے موقع پا کر پنجرے کا دروازہ کھولا اور بھاگ نکلا ، لوگوں نے نعرہ لگایا ، بچ گیا،،،،،،، ، بچ گیا ،،،،،،،،،مسخرہ بچ گیا ۔

یہ بھی پڑھیں: جہلم کے موجودہ حلقہ این اے 62کا سیاسی منظر

ہر کوئی اس کے بچنے پر خوش تھا بادشاہ بھی خوش ہوا اور اپنے پاس بلا کر مبارک دی مسخرے نے بادشاہ سے عرض کی ۔۔۔۔
بادشاہ سلامت جان کی امان پاوں تو ایک بات پوچھوں بادشاہ نے کہا پوچھو اس نے کہا میں نے آپ پر بہت جگتیں کیں جس سے آپ محظوظ ہوئے اور درباری بھی،،،،،،مگر ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے مجھے ایسی سزا سنائی گئی۔؟

بادشاہ نے کہا کہ تم نے کہا بادشاہ لنگڑا ہے ، بہرہ ہے اندھا ہے مگر مجھے پتہ تھا کہ سب جانتے ہیں کہ میں ایسا نہیں جب تم نے کہا کہ بادشاہ کنجوس او ر لالچی ہے تو مجھے ہنسی آئی کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں ایسا نہیں لیکن جب تم نے کہا کہ بادشاہ گنجا ہے اور مجھے غصہ آیا کہ میں گنجا ہوں اور تم نے یہ بات میرے منہ پر کہہ دی ہے اس لئے میں نے تم کو شیر کی خوراک بنانے کا حکم دے دیا ۔۔۔

اخلاقیات اور برداشت کی چڑیا کب کی ہمارے منڈیروں سے اڑ چکی ہے۔ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا،معیوب زبان استعمال کرنا،الزامات لگانا، سچ برداشت کرنے کی بجائے سچی بات کو انا کا مسئلہ بنا کرکسی کی ذات سے لیکر خاندان تک گل افشانی کرنا ہمارا وطیرہ بن چکا ہے۔

آج کل اکثر دیکھنے اور سننے میں آتا ہے کہ دوست اپنی محفلوں میں ، شادی بیاہ پر ایک دوسرے پر جگتیں کستے ہیں اور محفلوں کو کشت زعفران بناتے ہیں مگر اچانک ایک دوست کی بات پر دوسرا بھڑک اٹھتا ہے اور بات دور تک چلی جاتی ہے اصل میں وہی سچی بات ہوتی ہے جس پر کسی کو غصہ آتا ہے آج کل سیاست دانوں میں یہ بات زیادہ پائی جاتی ہے کسی شو میں باتیں ہوتی ہیں اور اپنے اپنے خیالات پیش کیئے جاتے ہیں مگر جب کسی سیاست دان کا سچ سامنے آتا ہے جو اس نے عوام سے چھپا رکھا ہوتا ہے تو و ہ آپے سے باہر ہو جاتا ہے اور پھر وہی ہلڑ بازی ہوتی ہے جو اس ملک کے سیاست دانو ں کا وطیرہ بن چکی ہے۔

اگر سچ بولا جائے تو ہم خود بھی بیمار ہیں او اپنے معاشرے کو بھی بیمار کررہے ہیں جس طرح کسی جانورکے منہ خون لگ جائے تو وہ خون خوار ہو جاتاہے اسی طرح ہمارے پر حرام اور جھوٹ لگ چکا ہے اور ہم اس کی خاطر اخلاقیات ، انسانیت ،بھائی چارہ، ہمدردی، اخوت، حقوق کو اپنے پاوں تلے روندتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اگر ہمارا جھوٹ پکڑا جائے اور سچ سامنے آجائے تو ہم اپنی اصلاح کرنے کی بجائے دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

آج کل بعض سیاست دانوں کے اصل چہرے بے نقاب ہورہے ہیں قوم کو چاہئیے وہ ان کو سچ کا سامنا کرنے پر مجبو ر کرئے اگرررررررررررررررررررریہ جھوٹے اسی طرح سچ کا لبادہ اوڑھ کر قوم کو بے وقوف بناتے رہے تو پھررررررررررر ’’ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.