پنجاب بھر کے SSE اساتذہ اور AEOs کی مستقلی

تحریر: احسان شاکر

0

جس طرح کسی بھی معاشرے میں تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں اسی طرح شعبہ تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت استاد کی ہوتی ہے۔ کیونکہ استاد کے پاس علم کا خزانہ موجود ہوتا ہے جو اس نے نئی نسل تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے اگر استاد کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا تو وہ بڑے اچھے انداز سے علم کا یہ خزانہ آنے والی نسل تک منتقل کرے گا لیکن اگر اسے نامناسب ماحول دیا جائے گا تو وہ علم کا یہ خزانہ آنے والی نسلوں تک منتقل نہیں کرپائے گا اور ایسے معاشرے کے بااختیار افراد کی لمحوں میں کی جانے والی اس خطا کی سزا صدیوں میں بھگتنا پڑے گی۔

پاکستان کی بدنصیبی رہی ہے کہ یہاں پالیسیاں اورہرمالی سال کا بجٹ بناتے وقت شعبہ تعلیم کو بھی دیگر شعبہ جات کے برابر رکھ کے فیصلے کیے جاتے ہیں مگرایسا ہونا نہیں چاہیے کیونکہ دیگر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کرنے سے ایک سال ہی میں نفع یا نقصان سامنے آ جاتا ہے مگر شعبہ تعلیم میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد نتائج ایک طویل عرصے کے بعد سامنے آتے ہیں۔لیکن شعبہ تعلیم سے آنے والے اچھے نتائج ناصرف دیرپا ہوتے ہیں بلکہ ان اچھے اثرات کے نتائیج دیگر تمام شعبہ جات کو بھی بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں۔اس لیے اگر شعبہ تعلیم پر سالانہ بجٹ میں اچھی رقم مختص کی جائے تو دیگر شعبہ جات میں بھی بہتری لائی جاسکتی ہے۔

سال 2000ء سے حکومت پنجاب محکمہ تعلیم میں کنٹریکٹ پر بھرتی کرتی چلی آرہی ہے۔حالانکہ شعبہ تعلیم میں اساتذہ کی اہمیت کے پیش نظر ان کی کنٹریکٹ پر بھرتی مناسب دکھائی نہیں دیتی۔ان کی یہ بھرتی کنٹریکٹ کی بجائے مستقل بنیادوں پر ہونی چاہیے تاکہ اساتذہ مطمئن ہوکر اپنی تمام ترتوجہ طلبا وطالبات کی تدریس پر دے سکیں اور نہ ہی وہ اس شعبہ کو چھوڑنے کا سوچیں کیونکہ اگر یہاں کنٹریکٹ پر بھرتی ہوں گے تو ہمہ وقت وہ اسی سوچ میں رہیں گے کہ کب اس ملازمت کو چھوڑ کر کسی ایسی ملازمت کا انتخاب کی جائے جہاں ملازمت کی سکیورٹی ہو۔ بہرحال سال 2000ء سے کنٹریکٹ پر جاری بھرتی کے بعد پہلی مرتبہ سال 2009ء میں کنٹریکٹ اساتذہ کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں مستقل کیا گیا۔

یوں سال 2009ء میں تینوں کیٹاگریز(ESE,SESEاورSSE)کے اساتذہ جو بغیر کسی ادارے کے ٹیسٹ کے صرف محکمانہ انٹرویو دے کے آئے تھے مستقل کردیے گئے۔اس کے بعداسی طرح کنٹریکٹ اساتذہ کو مستقل کی جاتا رہا لیکن جب باری آئی سال 2014ء میں کنٹریکٹ پر بھرتی اساتذہ کی مستقلی کی تو سب ارباب اختیار سوچ میں پرگئے۔

سال 2014ء میں تینوں کیٹاگریز کے اساتذہ صرف محکمانہ انٹرویو کے ذریعے نہیں بلکہ NTSکا ٹیسٹ بھی دے کرایک صاف اور شفا ف طریقے کے ذریعے میرٹ پربھرتی ہوکر آئے تھے۔اس لحاظ سے ان کی مستقلی کے لیے سوچ میں پڑ جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے تھا۔پھر یہ ہوا کہ دو کیٹاگریز(ESEاورSESE)کے اساتذہ کو تو مستقل کردیا گیا مگر سکیل 16کے SSEاساتذہ کو مستقل نہ کیا گیا ۔

جب اپریل 2019ء میں ان اساتذہ کا 5سالہ کنٹریکٹ ختم ہو ا توپنجاب بھرمیں ان اساتذہ کے کنٹریکٹ میںایک سال کی توسیع کردی گئی۔اسی دوران اپریل 2018ء میں سابقہ حکومت پنجاب نے پنجاب اسمبلی سے ایک ایکٹ پاس کرایا جس کے مطابق ہر وہ ملازم جس کی کنٹریکٹ مدت ملازمت 4سال ہوجائے گی اسے مستقل کردیا جائے گا۔

اس کے بعد مارچ 2019ء میں موجودہ حکومت پنجاب نے پنجاب اسمبلی سے ایک ایکٹ پاس کرایا جس کے مطابق ہر وہ ملازم جس کی کنٹریکٹ مدت ملازمت 3سال ہوجائے گی اسے فوری طور پر مستقل کردیا جائے گا۔لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ اس وقت سال 2014ء میں بھرتی ہونے والے SSEاساتذہ کی مدت ملازمت 6سال ہوچکی ہے مگر ابھی تک یہ کنٹریکٹ پر ہی کام کررہے ہیں۔

حالانکہ مارچ 2019ء میں پاس ہونے والے ایکٹ کے مطابق اب تک سال 2015ء اور سال 2016ء میں بھرتی ہونے والے SSEاساتذہ کو بھی مستقل کردیا جانا چاہیے تھا۔اسی طرح اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرزAEOsکوبھی کنٹریکٹ پر بھرتی ہوئے 3سال ہونے کو ہیں ۔ان کو بھی اب مستقل کردیا جانا چاہیے۔

گزشتہ ایک سال سے SSE اساتذہ کی مستقلی کے لیے فائلیں تیار کراکے محکمہ تعلیم پنجاب تک پہنچا دی گئی ہیں مگر تاحال ان کو مستقل نہیں کیا گیا۔بلکہ اب اس سلسلے میں اب ایک نئی غیرحقیقی اور غیر فطری بات سامنے آ رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اب ان SSEاساتذہ کو مستقلی کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ یا انٹرویو میں شامل ہونا پڑے گا۔

یہ بات غیر فطری اور مزحقہ خیز اس لیے ہے کہ میں اس مضمون کے شروع میں بھی کہہ چکا ہوں کہ سال 2014ء میں بھرتی ہونے والے یہ SSEاساتذہ NTSکے ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر بھرتی ہوکر آئے تھے۔اس لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ یا انٹرویو میں شامل ہونا ایک غیر ضروری اور فضول سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔

چنانچہ قصہ مختصر حکومت پنجاب کو چاہیے کہ سال 2014ء اور اس کے بعد پنجاب بھر میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے تمام ایس ایس ای اساتذہ اور اے ای اوز کو فوری طور پر مستقل کیا جائے اور مستقلی کے لیے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ اور انٹرویو کی شرط عائد نہ کی جائے تاکہ وہ جس ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکارہیں اس سے انھیں نجات ملے اور وہ اپنی تمام تر توجہ طلبا وطالبات کی تدریس پر دے سکیں۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.