کالم و مضامین

طاہر آصف چوہدری کا انتقال اور شرپسندی کی سیاست

قارئین! چند روز قبل پاکستان تحریک انصاف پنڈدادنخان کے متحرک راہنماء سابق سٹی ناظم طاہر آصف چوہدری تھانہ جلالپورشریف پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گئے، ان کے لواحقین نے پولیس پر تشدد کا الزام عائد کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری ان کے بھائی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فیصل فرید چوہدری ،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شاکر حسین داوڑ اور ڈی ایس پی پنڈدادنخان پر الزامات کی بارش کر دی۔

پنڈدادنخان تا جہلم روڈ کئی گھنٹے تک بلاک رکھی گئی، پوسٹمارٹم رپورٹ سے قبل چند مظاہرین نے واقع کو سیاسی رنگ دیکر وفاقی وزیر فواد چوہدری ،فیصل فرید چوہدری اورڈی پی او شاکر حسین داوڑ کو قاتل ڈکلیئر کر دیا،سوشل میڈیا پر شرپسند عناصر نے طوفان بدتمیزی برپا کیے رکھا جو تاحال جاری ہے۔

جب ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق بنگش کی نگرانی میں پانچ رکنی ٹیم نے پوسٹمارٹم کیا،متوفی طاہر آصف چوہدری کے جسم کے 25 سے زائد ایکسرے کیے گئے (اس موقع پر میں خود بھی موجود تھا)لیکن نہ تو بظاہر تشدد پایا گیا نہ ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی۔

افسوس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں بھی کسی دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نعش کو سوشل میڈیا پر متوفی طاہر آصف چوہدری کی نعش ظاہر کر کے بے بنیاد پراپیگینڈا اور الزام تراشی کی گئی کسی نے ذرا برابر بھی یہ نہیں سوچا ایک انسان کی جان گئی اور نہ ہی کسی نے حقائق جاننے کی کوشش کی ۔

حقیقت تو یہ ہے کہ تحصیل پنڈدادانخان میں جرائم پیشہ عناصر بے لگام ہیں چوری ڈکیتی کی وارداتیں بڑھ چکی ہیں اور ان وارداتوں کی روک تھام کے لیے جتنا احتجاج طاہر آصف چوہدری اور دیگر افراد نے کیا شائد ان وارداتوں پر اس سے بڑھ کر تحفظات کا اظہار وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی کیا ہو اور یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے جہلم میں چوری ڈکیتی کی بڑھتی وارداتوں اور امن و امان کی صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا یہاں تک کہ ڈی پی او رانا عمر فاروق کو تبدیل ہونا پڑا اور اسی غفلت کی پاداش میں تھانہ جلالپورشریف پولیس کے ایس ایچ او عبدالرحمٰن کو بھی تبدیل کیا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طاہر آصف چوہدری عوامی حقوق کی جدوجہد کرتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے اور میرے خیال میں دل کا دورہ پڑنے کا مؤجب تھانہ جلالپورشریف پولیس بنی، اس سے قبل کھیوڑہ میں بھی ایک شخص پولیس حراست میں دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوا، یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟کب تک لوگ پولیس حراست میں جاں بحق ہوتے رہیں گے ؟کب تک ہم شریف لوگوں کی اموات کا سبب بننے والے پولیس اہلکاروں کو چھوڑ کر سیاست سیاست کھیلتے رہیں گے ۔

اس تحصیل میں 35سال بعد تبدیلی آئی،ترقیاتی کام بھی شروع ہوئے،جلالپورشریف تا کندوال نہر کے پانی سے زمینیں سہراب ہوں گی تو پینے کے پانی کا مسئلہ بھی حل ہو گا، شاید اس تحصیل کی تعمیر و ترقی سے کچھ شرپسند عناصر حسد کا شکار اور بغض فواد چوہدری میں ہر واقعہ کا مورد الزام فواد چوہدری کو قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور افسوس کہ حقائق جاننے کے باوجود کچھ پڑھے لکھے افراد بھی اس شرپسندی کا حصہ ہیں ۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ طاہر آصف چوہدری کی موت کی ذمہ دار متعلقہ پولیس ہے جو انکی موت کا سبب بنی اور انکے خلاف دفعہ 322کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے تھا لیکن واقع کو مکمل سیاسی رنگ دیکر غیر متعلقہ افراد کو مرد الزام ٹھہرایا گیا اور نہ مقدمہ درج ہوا نہ کسی کو تبدیل کیا گیا ۔

میرا ذاتی خیال یہ بھی ہے کہ چوری ڈکیتی کی وارداتوں کے پیچھے بھی کچھ شرپسند اور سیاسی عناصر ملوث ہیں جو امن و امان کی آڑ میں وفاقی وزیر کو نشانہ بنا کر سیاست چمکا رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button