منتر۔۔۔ بھُوت اور کُتے کی دُم

تحریر: محمد امجد بٹ

0

ایک شخص کو بھوت قابو کرنے کا جنون ہو گیا ۔۔۔۔۔۔۔بہت چلے کاٹے ۔۔۔۔۔جنتر منتر سیکھے ۔۔۔۔۔ بستی بستی ۔۔۔۔۔۔نگر نگر ۔۔۔۔۔گلی گلی ۔۔۔۔۔قریہ قریہ یہ گھوما کہ کوئی ایسا پیر مل جائے جو جن بھوت قابو کرنے کا طریقہ سکھا دے ۔۔۔۔۔کئی سالوں کی ریاضت کے بعد اسے پتا چلا کہ ایک خوبصورت شہر کے پہاڑ کے دامن میں ایک سادھو رہتا ہے جو بھوتوں کو قابو کرنے کا علم رکھتا ہے اس شخص نے سادھو تک رسائی حاصل کرنے کے جتن کرنا شروع کر دئیے۔

آخر کار ایک طویل تلاش کے بعد سادھو تک رسائی حاصل کی اور خاموشی سے اسکی خدمت میں لگ گیا ۔۔۔۔۔۔لمحے دنوں میں ۔۔۔۔۔۔دن ہفتوں ۔۔۔۔۔۔ہفتے مہینوں اور مہینے سالوں میں گزرنے لگے ایک دن سادھو نے اسے مخاطب کرہی لیا سادھو نے اسے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تم میرے پاس کس غرض سے آئے ہو مگر میں تمہارے منہ سے سننا چاہتا ہوں بتاو کیا چاہتے ہوکس بات کا جنون تجھے میر ے پاس لایا ہے ؟؟؟؟

اس شخص نے سادھو سے عرض کی ۔۔۔۔۔ سرکار۔۔۔۔۔۔مجھے بھوت قابو کرنے کا شوق ہے اور میں بھوتوں کو قابو کرنے کا علم سیکھنے کیلئے آپ کے پاس آیا ہوں اور اسی جنون کی وجہ سے سالوں آپ کی خدمت کی ہے ۔۔۔۔۔۔سادھو نے کہا میں جانتا ہوں ۔۔۔۔۔۔مگرتم علم سیکھنے کے باوجود بھوتوں کو قابو میں نہیں رکھ سکوگے۔

اس شخص نے کہا آپ منتر سیکھاؤ بھوت کو میں قابو کر لوں گا۔۔۔۔ سادھو نے اس کو بھوت قابو کرنے کا منتر سیکھا دیا ۔۔۔۔ منتر سیکھ کر وہ خوشی خوشی اپنے شہر میں آ گیا۔ گھر پہنچ کر اس نے بھوت کو حاضر کرنے کا منتر پڑھا ۔۔۔۔۔منتر ختم ہوتے ہی ایک بھوت ہا ہا ہا ہا ہا ہا۔۔۔۔۔کرتا حاضر ہو گیا۔

جس نے حاضر ہوتے ہی عرض کی۔ کیا حکم ہے میرے آقا!!!!
اس شخص نے کہا تم کیا کر سکتے ہو میرے لئے ؟؟؟؟؟

بھوت نے کہا میں ہر کام کر سکتا ہوں اور کروں گا مگر جب تمھارے پاس کوئی کام کروانے کو نہ رہا تو پھرررررررررررررر وہ دن تمھاری زندگی کا آخری دن ہو گا۔اس شخص نے کہا مجھے منظور ہے۔

میرا پہلا حکم یہ ہے کہ فوراََ میرے لئے300 کنال پر مشتمل محل تعمیر کروایا جائے۔۔۔۔۔۔بھوت نے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے فوراََ محل تعمیر کروا دیا۔۔۔۔ اب اس محل میں دیدہ زیب قسم کا فرنیچر بھی لایا جائے اور محل کی تزئین و آرائش کی جائے ۔۔۔۔ میری سواری کے لئے ہیلی کاپٹر کا بندوبست کیا جائے ۔۔۔ محل میں انواع و اقسام کے پھل وغیرہ لائے جائیں۔۔بھوت ہر حکم کی تعمیل کرتا چلا گیا۔ اب اس شخص کے پاس بھوت کو بتانے والے کام کم پڑنے لگے وہ پریشانی کے عالم میں بھاگتا ہوا اپنے سادھو کے پاس گیا اور عرض کی !

سرکار مددکرو ورنہ میں مر جاؤں گا۔ سادھو نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں کیا ہوا؟؟؟؟

اس شخص نے عرض کی سرکار منتر پڑھنے سے بھوت تو حاضر ہو گیا اور حکم بھی ماننے لگا مگر اسکی یہ شرط کہ جب کوئی کام نہ ملا تو مجھے مار ڈالے گامجھے پریشان کیے ہوئے ہے۔ سادھو نے کہا ! میں نہ کہتا تھا کہ تم بھوت کو قابو نہیں رکھ سکو گے۔چلو کوئی بات نہیںتم نے میرے بڑی خدمت کی ہے میں تمھیں ایسا کام بتاؤں گا جو بھوت کا باپ بھی نہیں کر سکے گا۔

سادھو نے کہا کہ جب بھوت کے تمام کام ختم ہو جائیں تو اسے ایک کتا دینا اور کہنا کہ وہ اسکی دم سیدھی کر دے۔سادھو کی بتائی گئی بات پلے باندھ کر وہ واپس لوٹا اس وقت تک بھوت تام کام مکمل کر چکا تھا۔بھوت نے کہا اب کیا حکم ہے؟؟؟؟؟ اس شخص نے کتا آگے کیا اور کہا کہ اسکی دم سیدھی کر دو۔بھوت نے کہا یہ کون سا مشکل کام ہے اس نے کتے کی دم کو پکڑا اور سیدھا کر دیا مگر جوں ہی دم چھوڑی وہ واپس اپنی جگہ پہ آ گئی اب بھوت اور دم کا مقابلہ جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص آرام سے اپنے محل میں زندگی گزارنے لگا ۔ کیونکہ اسے اب اطمینان حاصل ہو چکا ہے کہ نہ دم سیدھی ہو گی نہ جان جائے گی ۔۔۔۔۔۔اگر دم سیدھی ہو جاتی تو جان چلی جاتی۔

سادھو نے اپنے چیلے کی خدمت کا صلہ اسکی جان بخشی کی صورت میں دے دیا۔۔۔۔وطن عزیر میں بھی ایسے ہی منتر سیکھنے والوں نے بھوت تو حاضر کر لئے اور اپنی خواہشات بھی پوری کروا لیں مگر بھوت سے بچنے کے لئے اسکو ایسے کام پہ لگا دیا کہ نہ دم سیدھی ہو نہ جان جائے ۔۔۔۔حالات پھر ررررررررررر ٹیڑھی دم کی طرح بنا کر ان کو سیدھا کرنے اور کروانے والوں کی ذاتی خواہشات تو پوری ہوتی رہیں گے مگر رررررررررررررررررررر کیا حالات جوں کے توں رہیں گے؟؟؟؟؟؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.