پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
64,028
+2,801 (24h)
اموات
1,317
+57 (24h)
صحت یاب
22,305
34.84%
زیر علاج
40,406
63.11%
کھیوڑہاہم خبریں

وزیراعظم ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری کے مزدوروں کو 6 ماہ کے بقایا جات دلوا کر بحران سے نکالیں، عابد اشرف

کھیوڑہ: کوروناوائرس کے دوران اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے سرانجام دینے پر ڈاکٹرز پاک فوج ریسکیو1122 و دیگر سرکاری ملازمین کی جرات کو سلام پیش کرتے ہیں کہ جنھوں نے دن رات ایک کر کے کورونا کے مریضوں کی صحت یابی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری وفاقی وزیر کے بھائی کی ہے وزیر اعظم عمران خان کو چاہیے کہ فی الفور مزدوروں کو چھ ماہ کے بقایاجات دلوا کر بحران سے نکالیں اور فیکٹری فوری طور پر چلوائیں تاکہ مزدوروں کے چولہے جلیں۔ موجودہ بحران میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام و مذہبی سکالرکا تعاون بھی قابل تعریف ہے کہ انھوں نے ایک مثالی کردار ادا کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار چوہدری عابد اشرف جوتانہ سابق تحصیل ناظم و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی کی جہلم اپڈیٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے موجودہ بحران ہے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں مضبوط اعصاب کی ضرورت ہے اور حکومت کی طرف سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں ان پر عمل کرنا چاہیے اس بیماری کا تعلق کسی بھی مذہبی فرقہ کے ساتھ جوڑنا اپنے ملک کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ضلع و تحصیل بھر کے مخیرحضرات کو چاہیے کہ مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کی عزت و نفس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کا خیال رکھا جائے اور پوشیدہ طریقے سے ان کی مدد کی جائے تاکہ کوئی دیہاڑی دار طبقہ کسی کے آگے اپنے ہاتھ نہ پھیلائے انہی غریب لوگوں کی وجہ سے ہم آج اس مقام پر ہیں ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے کہ ان مزدور طبقے کے چولہے جلنے چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈاکٹرز جو فرنٹ لائن پر ہیں اور پاک فوج نے جنھوں نے پورے ملک کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے اور ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہیں اور ان کے علاوہ پنجاب پولیس ریسکیو1122 و دیگر سرکاری ملازمین مشکل وقت میں اپنی ڈیوٹی احسن طریقے سے دے رہے ہیں اور لاک ڈاؤن کو مزید بہتر کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے ہمیں ان کے پاس جاکر ان کی بھرپور خدمت تعاون اور حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔

چوہدری عابد اشرف جوتانہ نے کہا کہ حکومت کو بھی چاہیے کہ ڈنڈوت سیمنٹ فیکٹری چلانے کے لیے حکمت عملی کریں کہ سیمنٹ فیکٹری کے مزدوروں کے چھ ماہ کے بقایا جات کلیئر کرکے ان کو بھی موجودہ بحران سے نکالیں لاک ڈاؤن کے دوران ذخیرہ اندازوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بھرپور کاروائی ہونی چاہیے اور ایسی کورٹ بنائی جائیں جو تین چار دن کے بعد فیصلہ کر کے ان کو سزا سنائیں کورونا وائرس یہ ایک بیماری ہے یہ بیماری مجھے بھی لگ سکتی ہے اور کسی اور کو بھی لگ سکتی ہے مگر اس بیماری کو کسی بھی مذہبی فرقے کے ساتھ نہیں جوڑنا چاہیے یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ اس بحران کے دوران تمام مکاتب فکر کے لوگ ایک پیج پر ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close