کالم و مضامین

ڈاکٹر محمد خلیل تیرے جذبے کو سلام — تحریر: چوہدری عابد محمود

صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے ، اس شعبہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ، یہی شعبہ ہے جو حقدار کو اس کا حق اور مظلوم کی آواز کو حکمرانوں تک پہنچا سکتا ہے ، ترقی کے جدید دور میں بھی اخبار کی اہمیت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتااور ایک ایسے اخبار کو خاص کر جو ظلم اور بربریت کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کررہا ہوصحافت کا زکر کیا جائے تو اس میں بے شمار نام سامنے آتے ہیں ان ناموں میں ایک نام ایسا بھی نمایا ں ہے جس نے پچھلے 5 سالوں میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرکے مظلوم عوام کی داد رسی کی ،جی ہاں وہ نام روزنامہ جذبہ جہلم کے ریذیڈنٹ ایڈیٹرڈاکٹر محمد خلیل کا ہے ، جو آج کل روزنامہ جذبہ کی پانچویں سالگرہ جوش و خروش کے ساتھ منا رہے ہیں، ڈاکٹر محمد خلیل کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے جو کارنامے انجام دے رکھے ہیں انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

صحافتی اسلوب کا نام ڈاکٹر محمد خلیل ہے جنہوں نے صحافت میں اجارہ داری کو ختم کرنے کے لئے نئے شعبے تخلیق کئے ان کی ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں کے شہریوں سے سے محبت غیر متزلزل ہے جو روزنامہ جذبہ جہلم کے ہر صفحہ پر نمایاں نظر آتی ہے ، ڈاکٹر محمد خلیل کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ضلع جہلم میں علاقائی صحافت کا آغاز کیا جو آج متعدد مقامی اخبارات کی صورت میں موجود ہیں ، آج بہت کم اہل نظرخبر کے مقام تک پہنچتے ہیں لیکن ڈاکٹر محمد خلیل کو خبر کی گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے اخبار میں ایسی خبروں کونمایاں کرکے پیش کیا جاتا ہے کہ جن کے ذریعے لوگوں اور ضلعی انتظامیہ و منتخب ممبران قومی و صوبائی اوربلدیاتی نمائندوں کو آگاہی ہوتی ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے ، ان کی تمام زندگی اپنی مثال آپ ہے۔

انہوں نے بطور ورکنگ اخبار نویس جس بے سروسامانی میں روزنامہ جذبہ جہلم کو نہ صرف نکالا بلکہ اوج کمال اور ترقی کی منازل تک پہنچارکھا ہے ، اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی ، انہیں بطور کالم نگار، وقائع نگار ،ریذیڈنٹ ایڈیٹر ، فیچر رائٹر ہی نہیں بلکہ اخباراور جرنلزم کے تمام شعبوں پر دسترس حاصل ہے ان کا ہمیشہ یقین کامل محنت پر رہاہے ، جو انکی کامیابی کا ایک راز بھی ہے، صحافت کی جس ترقی پر آج وہ پہنچے ہیں اس میں ان کی محنت کا نتیجہ ہے ، جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں ، ان کی شخصیت کے اندر بے شمار خوبیاں اور کئی شخصیتیں پائی جاتی ہیں ،ضلع جہلم میں صحافت کو فروغ دینے میں انکا مشاہدہ اور تجربہ بڑا وسیع ہے ان کی صحافتی زندگی مسلسل محنت اور جدو جہد کا نام ہے۔

یہ بات بھی سچ اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ڈاکٹر محمد خلیل نے جس دور میں ا پنے اخبار کو ضلع بھرمیں متعارف کرایا اس وقت دیگر اخباروں کی مارکیٹ میں بڑی اجارہ داری قائم تھی ، انہوں نے کم وسائل کی بنیاد پر روزنامہ جذبہ جہلم کے زریعے دیگر اخباروں کی اجارہ داری توڑ کر جو مقام بنایا وہ نہ صرف قابل تعریف بلکہ قابل تحسین بھی ہے ان کے اخبار کو اعزاز حاصل ہے کہ روزنامہ جذبہ جہلم نے صحافتی دنیا میں نئے رجحانات اور نئی جدتوں کو متعارف کرایا جس کا تمام سہرا ڈاکٹر محمد خلیل کے سر جاتا ہے ، جس کامیابی کے ساتھ ڈاکٹر محمد خلیل نے اپنا صحافتی سفر طے کیا ہر کوئی انہیں مبارک باد پیش کرتا ہے ، جس کے وہ مستحق بھی ہیں ، ڈاکٹر محمد خلیل جہلم اور گجرات کی صحافتی دنیا کا ایک بڑا نام ہے آج کے نوجوان صحافی کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے ، ڈاکٹر محمد خلیل نے ایک ایسے دور میں روزنامہ جذبہ کا نعرہ بلند کیا جب ضلع جہلم کے شہری اور مضافاتی علاقوں میں وڈیروں اوربااثر لوگوں کی جانب سے ظلم ڈھائے جا رہے تھے ۔

ڈاکٹر محمد خلیل کے اس طریقہ کار سے ا فسر شاہی اور وڈیرے بھی سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ کسی بھی غریب پر ظلم ڈھانے سے صبح کے روزنامہ جذبہ میں اصل حقائق منظر عام پر آئیں گے اور بدنامی ہوگی ۔ ڈاکٹر محمد خلیل کے اس کردار پر آج بھی ضلع بھر کے لوگوں کو انصاف مل رہاہے بلا شبہ یہ اعزاز روزنامہ جذبہ جہلم کے علاوہ کسی دوسرے اخبار کو حاصل نہیں ہے ، ڈاکٹر محمد خلیل نے صحافتی میدان میں ایک نئی تاریخ رقم کر رکھی ہے ، انہوں نے سرمایہ دار اخباری مالکان کا ہمت اور جذبے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے روزنامہ جذبہ جہلم کو کامیابی سے ہمکنار کرایا جو آج بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے۔

روزنامہ جذبہ جہلم نے ہمیشہ حق اور سچ کی آواز کو بلند کیا یہی وجہ ہے کہ اس اخبار کی ضلع بھر میں مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ ڈاکٹر محمد خلیل ایک نہ تھکنے والے شخص کا نام ہے جنہوں نے ہر مشکل دور میں تکلیفوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جس پرا نہیں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے ،ڈاکٹر محمد خلیل نے غریبوں کی مدد کے لئے جو کارنامے انجام دےئے انہیں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے اور ہمیشہ لکھا بھی جاتار ہے گا ، ان کا دل صوفی اور زہن انقلابی ہے جس کیوجہ سے اکثر انہیں کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر محمد خلیل اگر صحافی نہ ہوتے تو ایک صوفی ہوتے ، ڈاکٹر محمد خلیل کو اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے اخبار اور کالموں کے زریعے ضلع جہلم کے بے شمار مسائل کو ہمیشہ اجاگر کیا اور ان کے حل کے لئے بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کی جو کسی کارنامے سے کم نہیں۔

ڈاکٹر محمد خلیل کو لازمی طور پر اس بات پر فخر ہوگا کہ انہوں نے رزق حلال کمانے کی کوشش کی اور اس کی خاطر حکمران یا افسر طبقے کو کبھی خاطر میں نہیں لائے اور نہ ہی کبھی اپنا کوئی ذاتی کام کسی کو کہا ، ڈاکٹر محمد خلیل کے اخبار کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جگہ ہونے والے ظلم کی سب سے پہلے نشاندہی کرتا ہے بعد میں دیگر مقامی اخبارات ان کی تقلید کرتے ہیں ،ڈاکٹر محمد خلیل کی تمام زندگی ایک مشن دکھائی دیتی ہے ۔جس میں آپ کو محنت ہی محنت نظر آئے گی ، انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے ثابت کیا کہ اگر آپکے پاس سرمایہ نہیں ہے تو بھی آپ بڑے سے بڑ اکام کرنے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد خلیل ضلع جہلم کے واحد ریذیڈنٹ ایڈیٹر ہیں جنہوں نے ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں کے کونے کونے ، گلی کوچوں، کے مسائل کو اجاگر کرنا اپنا فرض سمجھ رکھا ہے اور علاقائی اخبار نکال کر پسے ہوئے طبقے کی ترجمانی کر رہے ہیں ، جس پرڈاکٹر محمد خلیل اور ان کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے ،ڈاکٹر محمد خلیل کے روزنامہ جذبہ نے بہت سارے مظلوم عوام کی داد رسی کی ہے ، اگر ان کے نقش قدم پر چل کر دیگر اخبار بھی ایساعمل کریں توضلع بھر سے مسائل اور ظلم کانام و نشان مٹایا جاسکتا ہے ،ڈاکٹر محمد خلیل کے کارناموں کو ایک مختصر تحریر میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

ڈاکٹر محمد خلیل کی زندگی ایک مشن کار وپ دھار چکی ہے جسے اب روکا نہیں جا سکتا ، ان کے بیٹوں اور ٹیم میں شامل کام کرنے والے تمام نمائندے ان کا تعلق ضلع جہلم کی کسی بھی تحصیل ، علاقے ، گاؤں، دیہات سے ہو وہ سب لوگ خراج تحسین کے مستحق ہیں ڈاکٹر محمد خلیل زندگی کی 59 بہاریں دیکھ چکے ہیں، آج بھی ان کا جذبہ جوانوں کی طرح زندہ ہے ان کی تمام زندگی محنت میں گزری ہے جو لوگ سچے دل سے ڈاکٹر محمد خلیل کی طرح محنت کرتے ہیں کامیابی ان ہی کے قدم چومتی ہے جس کی ایک زندہ مثال ڈاکٹر محمد خلیل ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button