کالم و مضامین

کُھوہ کے ڈڈو — تحریر: محمد امجد بٹ

انتخابات کا لفظ سنتے ہی پاکستانیوں میں جیسے گیارہ ہزار وولٹیج کی برقی رو دوڑ جاتی ہے پھرپوری قوم کااوڑھنا بچھونا سیاست بن جاتا ہے۔جابجا پھیلے ’’ ویہلے لوگ‘‘ سیاست کوایسے ’’ ٹھونگے‘‘ مارتے نظر آ تے ہیں جیسے گھروں کے باہر لگے ڈھیروں پر ’’ کُکڑیاں اور کُکڑ ‘‘، ان پڑھ فلاسفروں کو بھی ان دنوں اپنے فلسفے ،تجزیے،اور تبصرے سننے کے لئے اگر کوئی میسر نہ ہو تو وہ بھی سوشل میڈیا پر اپنے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔

صرف ’’ ویہلے‘‘ ہی کیاہر کوئی سیاسی بخار میں مبتلانظر آتا ہے اور بخار بھی اتنا شدید کہ اسکو ماپنے والے تھرما میٹر کا پارہ بھی ریزہ ریزہ ہو جائے۔صبح سویرے سب سے پہلے جو تجزیہ نگار ہمارے ’’ متھے‘‘ لگتا ہے اسے گوالا ( دودھی) کہتے ہیں اسکے آتے ہی اسکے ارسطوانہ سیاسی تجزیوں سے فضائیں گونجنے لگتی ہیں اسکا زیادہ زور اس بات پر ہوتا ہے کہ دودھ میں ملاوٹ کا اصل ذمہ دار سیاسی ہے۔ سبزی فروش اپنی ضمیر فروشی چھپاتے ہوئے ٹماٹروں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر لیکچر دیتے ہوئے اسے بھی کسی نہ کسی طرح کسی سیاسی کے ساتھ جوڑ دے گا۔

ہمارے ہاں ایک محدود اقلیت تو’’ جماندرو‘‘ یعنی پیدائشی سیاسی تجزیہ نگار ہوتی ہے۔جو اپنے مخصوص محدود ماحول میں پنپتی ہے جیسے ’’ کھوہ کے ڈڈو‘‘ یعنی کنویں کے مینڈک اور وہ اسی کنویں کو کل کائنات سمجھتی ہے۔دنیا چاند پر زندگی کے آثار تلاش کر کے بستیاں بنانے کا سوچ رہی ہے مگرانکی بڑھیا ابھی تک چاند پر بیٹھی چرخہ کات رہی ہے۔چاہے آپ انہیں گھڑے کی مچھلیاں کہیں یا ’’ کھوہ کے ڈڈو ‘‘(کنویں کے مینڈک)ایک بات طے ہے کہ دنیا اگر اپنی جدید سائنس و ٹیکنالوجی کی بدولت مریخ سے پانی کا ٹینکر بھی بھر لائے تو وہ اسے اپنے ہی کنویں کا پانی ثابت کرنے پر مصر ہوں گے۔

زمیں جنبد، نہ جنبد گل محمد۔۔۔۔۔۔یہ صرف اپنی ضد پر قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔ شاہ دولے کے چوہے جنہیں والدین بچپن میں ہی شاہ دولے کے مزار پر چھوڑ آتے ہیں جہاں انکے سروں پر لوہے کے خول چڑھادیے جاتے ہیں ،یوں انکے سرچھوٹے اور پیٹ بڑے ہو جاتے ہیں اوروہ سوچنے کا کام بھی موخرالذکر چیز سے لیتے ہیں۔ہمارے ہاں انتخابات کروائے جانے کا رولا مچتے ہی ہر اخبار ،نیوز چینل کی شہ سرخی اور بریکنگ نیوزیہ خبر ہی رہتی ہے۔

ہمارے قوم سمیت ہمارے لیڈروں کی سوئی ہوئی حسیات نعرئہ مستانہ لگا کر جاگ اٹھتی ہیں۔اُدھر کوئی فیقا،مینا، گاما،ماجھا ایک بار پھر پر جوش اور پر عزم ہو کرمیدان سیاست میں کودنے کے لئے پر تول رہا ہوتا ہے۔ادھر کوئی خوابوں خیالوں میں خود کو ایم اپی اے ،ایم این اے کے روپ میں اپنے آپ کو دیکھ کر پھولے نہیں سما رہا ہوتا۔سیاسی نقارہ بجتے ہی مد مقابل خم ٹھونک کرمیدان میں آ جاتے ہیں ابھی کل کی بات ہے پاکستان کے ایوان بالا کے انتخابات میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ اب ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونے جارہا ہے یہ سیاسی بخار کا ہی تو حصہ ہے ۔ہماری آج کی سیاست بھی چوں چوں کا مربہ بنی ہوئی ہے ہر طرف سے الجھنوں کی یلغار ہے اور بے چارے عوام کی حالت اس مردار کی سی ہے جس پر گدھ،چیلیں اور کوے حملہ آور ہیں ۔

تو صاحبو! راقم الحروف ان دنوں اٹلی میں موجود ہے اور یہاں بھی عام انتخابات ہو رہے ہیں جن میں ایوان بالا سمیت علاقائی اسمبلیوں کے لئے رائے شمارے ہو رہی ہے ۔مگر لگتا ہے کہ اطالوی عوام کو انتخاب لڑنے کا سلیقہ نہیں۔ لگتا ہے برفانی موسم کی طرح انکے جذبات بھی یخ بستہ ہیں ۔یہ کیسے انتخابات ہیں جن میں نہ کوئی شورشرابہ، نہ کوئی ہنگامہ آرائیاں، نہ کوئی سیاسی ڈیرے ، نہ کوئی سیاسی وڈیرے ، نہ کوئی تھرڈ امپائر، نہ کوئی انقلابی پھکی ،نہ بوٹوں کی آواز ، نہ نوٹوں کی چمک ، نہ لوٹوں کا ذکر ، نہ کیفے نہ چاہے ، نہ پیزے نہ پاستے، نہ کوئی نیا اطالیہ بنانے کا اعلان ، نہ کوئی پرانے کو روشن کرنے کی یقین دہانیاں ، نہ کوئی بینر، نہ کوئی گاڑیوں پر لگے لاؤڈ سپیکرپھررررر۔۔۔۔۔۔ کیسے ممکن ؟ کہ یہ انتخابات آزادانہ ،منصفانہ اور غیر جاندارانہ ہوں گے۔

سچ تو یہ ہے کہ یہ قوم ہیں اور قومیں اپنی قسمت کے فیصلے اپنی عقل و دانش سے کرتی ہیں جبکہ ہم ابھی قوم ہی نہیں بن سکے ہم تو بھیڑوں کا ریورڑ ہیں جنہیں جو کوئی جب چاہے جدھر مرضی ہانک لے۔من حیث القوم ہم ’’ کھوہ کے ڈڈو‘ ‘ ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button