کالم و مضامین

ہم سب کا فرض ہے ملک کے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے اپنا فرض ادا کریں — تحریر: اسد کھوکھر

محترم قارئین: ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس ملک کے نظام کو ٹھیک کرنے کیلئے اپنا فرض ادا کریں‘جو لوگ اچھا کام کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے ‘جو سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی پوری نہیں کرتا اس کا احتساب ہونا چاہیے ہمیں تیزی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے آج دنیاکے ممالک تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ایک ادارے کا جھنڈا اونچا ہو دوسرے کا نیچا تو اس طرح ملک ترقی نہیں کر پائے گا۔ پاکستان تب ترقی کرے گا جب اس کے اداروں عدلیہ اور انتظامیہ کا پرچم بلند ہو گا۔ملک ترقی اس وقت کرے گا جب مزدور اور کسان معاشی طور پر مضبوط ہوںگے۔معاشی ترقی کی رفتار میں تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے جب تک معاشی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جاتے اس کاخواب شرمندہ تعبیرنہیں ہوپائے گا اس وقت ملک کو کئی چیلنجز کاسامنا ہے۔ایک طرف دہشت گردی کاناسور ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ آرائی جس سے مسائل بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا تو وہ کیا ترقی کرے گا اس وقت ایک طرف مہنگائی ہے تو دوسری طرف سماجی ناانصافی کابازارگرم ہے اور خودساختہ مہنگائی نے غریب عوام کی کمرتوڑ کررکھ دی ہے۔ اشیاء ضروریہ پر کوئی کنٹرول نہیں ہے دکاندارمنہ مانگے دام وصول کررہے ہیں اور انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی دکھائی دے رہی ہے جس سے عوام متاثر ہوئے ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھادیئے۔بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان تمام تر وسائل سے مالامال ہونے کے باوجود غیرملکی قرضوں پرانحصار کررہاہے جو ناقص معاشی پالیسیوں کانتیجہ ہے جو ملک غیروں کادست نگر ہوگاوہ ترقی کیسے کرسکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ خود انحصاری کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے کی تدبیرکرے اورایسی ٹھوس پالیسیاں اوراقدامات کرے جو معاشی ترقی کاباعث بنیں یہ افسوس کامقام ہے کہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پرابھرے کئی سال بیت چکے لیکن ابھی بھی یہ مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکا حکومت کا یہ فرض قرارپاتا ہے کہ وہ ملک کی تعمیر وترقی کیلئے ایسے اقدامات کرے جو عوام کی خوشحالی کاباعث بنیں۔اقتصادی راہداری منصوبے سے انقلاب آئے گا لیکن سیاسی استحکام کے بغیرترقی وخوشحالی ناممکن ہے حکومت اس طرف توجہ دے اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دورکرے اوران کو ساتھ لیکرچلے اور سیاسی پالیسیاں مرتب کرے جو بیرونی قرضوں سے چھٹکارا دلوانے کاباعث بنیں معیشت کی مضبوطی سے مسائل کا ادراک ہوپائے گا۔اس لئے ٹھوس معاشی اقدامات کئے جائیں۔دوستو! دنیا بھر کے ترقی پزیر ، ترقی یافتہ۔ پسماندہ یا پسماندہ ترین ممالک یا قوموں کے ماضی یا حال کے دریچوں میں جھانکا جائے یا پھر اْن کے مستقبل کے خوابوں کی چلمن میں پنپنے والی سوچوں کی جگممگاہٹ اور اْس سے پھوٹنے والی سنہری کرنوں کی جانب دیکھا جائے تو ایک حقیقت یقیناً ہمارا منہ چڑانے کے لئے نمایاں طور پر دیکھائی دے گی کہ ر وز بروز ترقی اور خوشحالی کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے اْن کے قدم ہمیں ہمارے رہنماوں کی تنگ نظری ، منفی اور امتیازی سوچ اور اپنی دنیا آباد رکھنے کے لئے سب کی بستیاں اْجاڑنے اور اپنی بادشاہت قائم رکھنے کے لئے پوری قوم کی پسماندگی قائم رکھنے کا عمل کا احساس دلاتے ہیں۔حکومتی جماعت سمیت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ ملک کے پسماندہ طبقات کی فلاح کا کام جلد ازجلد شروع کیا جاسکے۔۔اے رب ذوالجلال !ہم پر رحم فرما ، ہماری خطائیں بخش دے ، ہماری توبہ قبول فرماہمیں علمِ نافع، صحتِ کامل، اولادِ صالح، رزقِ حلال، مقامِ عبدیت عطا کر، یا اللہ میری اس دعا کو مجھ سمیت ہر مسلمان کے حق میں قبول فرما۔۔آمین یارب العالمین

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button