جہلم

جہلم میں ون ویلروں نے کمرکس لی، عید الفطر کی تیاریاں منچلے نوجوانوں نے شروع کر دیں

جہلم: جی ٹی روڈ پر موٹر وے پولیس کے دعوے ایک طرف، عید الفطر کی تیاریاں منچلے نوجوانوں نے شروع کر دیں، موٹرسائیکل مکینکوں کی دکانوں پر ون ویلروں اور سائلنسر نکال کر موٹر سائیکلیں بھگانے والوں کا رش، موٹرسائیکلوں کے مکینک گاہکوں سے منہ مانگے نرخ وصول کرنے لگے، اس سال بھی ریسیں لگیں گی، ہلا گلا ہوگا اور ون ویلنگ بھی ہوگی، حکومت جو کچھ مرضی کرے، ون ویلروں نے کمرکس لی۔

تفصیلات کے مطابق عید الفطر کو محض چند روز باقی رہ گئے ہیں جس کی تیاریاں نوجوان لڑکوں نے شروع کررکھی ہیں ، شہر کے مایہ ناز مکینکوں سے ون ویلروں اور ریسیں لگانے والے نوجوانوں نے اپنی موٹرسائیکلیں ٹھیک کروانا شروع کررکھی ہیں۔ رکشہ موٹرسائیکلوں کے سائلنسر اتار کر اور سپیئرپارٹس اتار کر ون ویلنگ کرنے کا پلان بنایا جا رہا ہے۔

ہر سال موٹر وے پولیس کی طرف سے بلندو بانگ دعوے تو کیے جاتے ہیں مگر یہ دعوے صرف باتوں تک محدود رہ جاتے ہیں کیونکہ ون ویلروں اور ریسیں لگانے والوں کی تعداد دیکھ کر ہی موٹر وے پولیس بے بس ہو جاتی ہے۔ مگر اس بارموٹر وے پولیس کی طرف سے دعوے تو کیے جا رہے ہیں مگر منچلے نوجوانوں نے بھی اپنی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں ۔

آج کل شہر کے نامور مکینکس جو کہ موٹرسائیکلوں کے انجن مرمت کا کام کرتے ہیں۔ نوجوان ٹائم لے کر ان سے اپنی موٹرسائیکلیں تیار کروارہے ہیں تاکہ عیدالفطر پر ون ویلنگ کے زریعے کرتب دکھائے جائیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال جی ٹی روڈ پر شرطیں لگا کر کرتب دکھائے جائیں گے۔

موٹرسائیکل مکینکوں کی دکانوں پر صبح سے لے کر رات گئے تک موٹر سائیکل تیار کروانے والے منچلوں کا رش لگا رہتا ہے اور ہرسال کی طرح مایہ ناز مکینک لاکھوں روپے کی دیہاڑیاں لگارہے ہیں ، قانون نافذ کرنے والے ادارے موت کے کنویں تیار کرکے دینے والے ایسے مکینکوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کے بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں حالانکہ ہر سال درجنوں نوجوان حادثات کے بعد یا تو موت کی وادی میں چلے جاتے ہیں یا زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔

شہریوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیاہے کہ ون ویلنگ کے لئے مو ٹر سائیکلیں تیار کرنے والے مکینکس کو پابند بنایا جائے کہ کوئی مکینک موٹر سائیکل تیار کرکے نہ دے اگر کوئی مکینک عملدرآمد نہیں کرتا تو ایسے مکینک کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ خونی کھیل کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button