پڑی درویزہ

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے مالی بچت کر کے طلباء کے لئے مسائل پیدا کیے ہیں۔ طلباء و طالبات

پڑی درویزہ: ملک کے اندر فاصلاتی نظام تعلیم کے سب سے بڑے ادارے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام کے لاکھوں طلباء و طالبات کی طرف سے مسئلہ سامنے آ رہا ہے کہ کتابیں اور مشقی سوالنامہ ڈاک سے فراہم نہ کرنے کی وجہ سے مشقیں حل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

طلباء و طالبات کی طرف سے شکایت کی گئی ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی انتظامیہ نے مالی بچت تو کر لی ہے لیکن حکام کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی آج بھی دور دراز پسماندہ دیہات میں آباد ہے جہاں میٹرک اور خصوصاً انٹرمیڈیٹ کی وہ طالبات ہیں جو گھروں کے اندر زندگی گزارتی ہیں۔

اینڈ رائڈ موبائل یا کمپیوٹر نظام کی سہولت اس قدر موثریا عام نہیں ہے جس طرح یونیورسٹی انتظامیہ کے تصور میں ہے۔ تمام طلباء طالبات انٹرنیٹ سے کتابوں یا دیگر معلومات تک پہنچ نہیں پا رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹیوٹرز کے لئے بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں یہاں تک کہ مشقی سوالنامہ تک طلباء کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی طلباء و طالبات مقررہ وقت پر مشقیں حل کر کے بذریعہ ڈاک ارسال کر سکتے ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ کو جدت کے قبل از وقت اور نام نہاد فلسفے کو تاوقتیکہ نافذ نہیں کرنا چاہیے کہ دور دراز کے علاقوں میں یہ سلسلہ عام طور پر زیر استعمال نہیں ہو سکتا۔ اگر زیادہ ضروری ہو تو صرف ایم فل یا پی ایچ ڈی کی کلاسز تک انٹر نیٹ کے نظام کو نافذ العمل کر نا چاہیے اور میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور حتیٰ کہ گریجوئیشن تک بھی انٹرنیٹ کا سلسلہ نافذ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

طلباء و طالبات کی اکثریت کی طرف سے وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر ضیاء القیوم سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بیان بالا صورت حال پر نظر ثانی کریں اور معمول کے طور پر کتابیں اور مشقی مواد طلبا و طالبات کو ارسال کرنے کی ہدایت جاری کریں تاکہ طلباء و طالبات حصول تعلیم آسانی سے کر سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button