جاگ پنڈدادنخان اور علاقہ بائی دیس جاگ — تحریر: محمد شہباز بٹ

0

قارئین ! آج بات صرف حلقہ این اے67اور پی پی 27 کی ہو گی اگر کسی کو میری باتیں ناگوار گزریں تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں لیکن بات حقائق پر ہو گی ۔تمام امیدواروں کی الیکشن مہم عروج پر ہے وہ امیدوار بھی آپکے در پر آرہے ہوں گے جنہوں نے عام دنوں میں اس حلقہ کی عوام کو شکل تو دور کی بات فون پر ہیلو ہائے بھی نہیں کی ہو گی لیکن آج ضرورت پڑی تو کسی کو بزرگ،چچا ،تایا اور ماموں ، اماں جی،بیٹا اور چچی ،ماسی کہہ کر بڑے احترام سے مخاطب کر رہے ہوں گے۔

ایک دفعہ پھر وعدےکیے جا رہے ہوں گےتسلیاں دی جا رہی ہوں گی ،،ایسا تو کونا ہی ہے الیکشن جو قریب ہے اور ووٹ بھی لینے ہیں آجکل تو سنا ہے دن کو تین بجے اٹھنے اور اسمبلی میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے والے کردار بھی صبح جلدی اٹھ کر عوام کے پاس جا رہے ہیں کیوں نہ جائیں ووٹ جو لینے ہیں اور پھر خدانخواستہ جیت گئے تو پارلیمنٹ لاجز کے ٹھنڈے کمروں میں سرکار کے اخراجات پر پانچ سال نیند پوری کریں گے لیکن اب پنڈ دادنخان اور علاقہ بائی دیس کی عوام کو جاگنا ہو گا اپنے لیے نہ سہی اپنے بچوں اور علاقہ کے بہتر مستقبل ،تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لیے جاگنا ہو گا ۔

چالیس سال سے اس حلقہ میں نہ سیاسی تبدیلی آئی نہ مسائل حل ہوئے میں نے تحصیل پنڈ دادنخان کے علاقہ تھل ،جالپ اور بائی دیس کا وزٹ کیا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا علاقہ تھل کے عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں میں نے دیکھا کہ ہماری مائیں بہنیں جہاں دنیا چاند تک پہنچ گئی ہے وہ ابھی تک سروں پر مٹکے اٹھائے دور دراز سے پانی بھر کے لاتی ہیں اس علاقہ کے بچے جن کے ہاتھ میں کتابیں ہونی چاہیے وہ بے چارے پانی اٹھا اٹھا کر یا گدھے گاڑیوں پر رکھ کر لارہے ہیں ،انسان اور حیوان ایک جگہ سے پانی پینے پے مجبور ہیں ان علاقوں میں تعلیم اور صحت کا نظام انتہائی ابتر ہے علاقہ بائی دیس میں تو ڈسپنسری بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

نالہ گہان میں پانی آ جائے تو ضلعی ہیڈ کوارٹر سے اس علاقے کا زمینی رابطہ منقطع ہو جاتا ہے مریضوں کو سول اسپتال لاتے ہوئے راستے میں اموات ہو جاتی ہیں ،سڑکیں ،گلیاں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں یہاں تک کہ اس حلقہ سے منتخب ہونے والے سابق ممبر اسمبلی کے آبائی علاقہ کی روڈ جو تحصیل پنڈ دادنخان کو ضلعی ہیڈ کوارٹر سے ملاتی ہے جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے حادثات معمول بن چکے جبکہ گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں پنڈ دادنخان سے جہلم آتے ہوئے اچھا بھلا صحت مند انسان بھی بیمار اور تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔

میں نے بہت سارے مسائل اپنے ٹیلی ویژن چینل کے ذریعے ارباب اختیار تک پہنچائے اور یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں میں اپنا فرض ادا کرتا رہوں گا لیکن اس کے لیے ہم سب کو جاگنا ہو گا سوچنا ہو گا کہ ہم نے بار بار جن کو آزمایا چالیس سال غلاموں کی طرح انکی تا بیداری اور جی حضور ی کرتے ہوئے گزار دئیے کیا یہ ہماری نمائندگی کے حقدار ہیں جنہوں نے چالیس سال لوگوں کے مسائل حل نہ کیے اور اس حلقہ میں چند مخصوص لوگوں سے رابطے میں رہے اور انکو نوازا ،ہمیں سوچنا ہو گا کہ چالیس سال اس حلقہ میں پانی کا مسئلہ حل کیوں نہ ہوا،تعلیم اور صحت کا نظام بہتر کیوں نہ ہوا،بچوں کے لیے پارکس اور تفریح گائیں کیوں نہ بنائی گئیں ،فیکٹریوں سے وصول ہونے واےاربوں روپے کےسالانہ ٹیکس سے جہلم کو اسکا حصہ کیوں نہ دیا گیا ؟۔

کیا اس حلقہ میں بسنے والے لوگ انسان نہیں؟ اب جاگنا ہو گا پنڈ دادنخان اور علاقہ بائی دیس کی عوام کو اور ووٹ کا استعمال سوچ سجھ کر کرنا ہو گا اس حلقہ کے لوگوں کو امیدواروں کا موازنہ اور تول کر ووٹ کا استعمال کرنا ہو گا دیکھنا ہو گا فواد چوہدری بہتر ہے یا مطلوب مہدی یا پھر کوئی اور؟تعلیم ،تعلقات کو پرکھنا ہو گا یہ بھی دیکھنا ہو گا کون بن سکتا ہے اس حلقہ کی آواز کس میں جرات ہے اسمبلی اور میڈیا پر آواز اٹھانے کی اور کون ہے جو کسی بڑے منصب یا وزارت کے عہدے پر فائز ہو سکتا ہے اب ڈرنے،جھکنے اور بکنے کا وقت گزر گیا اب اس حلقہ کی عوام کو فیصلہ کرنا ہو گا ، تبدیلی کا یا غلامی کا اگر جاگ گئے تو تبدیلی اور سوئے رہے تو غلامی ، جاگ پنڈ دادنخان جاگ علاقہ بائی دیس جاگ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.