دینہ

دینہ پولیس کی غنڈہ گردی، شہری کو بلاو جہ ہراسا ں اور تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

دینہ: پولیس کی غنڈہ گردی ،شہری کو بلاو جہ ہراسا ں اور تشدد کا نشانہ بنا تے ہوئے زخمی کر ڈالا اور تھانہ لے جا کر بٹھا دیا، ڈی پی او جہلم کا فوری نوٹس ،2پولیس اہلکار معطل، کارروائی کا حکم۔

تفصیلات کے مطابق عتیق سلطان المعروف راجہ عدیل ولد سلطان فاروق سکنہ جعفر روڈ نزد گورا قبرستان جہلم نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کو درخواست دیتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے دوست یاسر اقبال ولد ظفر اقبال ساکن ڈاکخانہ گوڑہ سکندر پور تحصیل سوہاوہ حال مقیم دینہ سے ملنے کے لئے گیا ہوا تھا اور میں اپنے دوست کے ہمراہ تقریباً رات 11بجے کے قریب کھانا کھانے کے لئے گاڑی میں جا رہا تھا جب منگلا روڈ داتا چوک پر پہنچا تو وہاں پر 6پولیس ملازمین ناکہ لگا کر کھڑے تھے۔

انہوں نے ہمیں روکا جس پر میں نے شناختی کارڈ ،ڈرائیونگ لائسنس ،زکوۃ کمیٹی کا کارڈ دکھایا بلکہ میرے ساتھ بیٹھے میرے دوست جوکہ دینہ کا رہائشی تھا اس نے بھی اپنا قومی شناختی کارڈ پولیس ملازمین کو دکھایا لیکن اس کے باوجود پولیس ملازم ہمایوں کیانی نے ہمیں کہا کہ گاڑی سے باہر نکلو گاڑی کی جامع تلاشی ہو گی کیوں کہ ڈی پی او صاحب نے ہمیں حکم دیا ہے ہم دونوں گاڑی سے باہر نکل آئے اسی دوران میں نے اپنی حفاظت کے لئے موبائل سے تلاشی لیتے ہوئے ملازمین کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔

تلاشی کے بعد پولیس ملازم ہمایوں کیانی نے کہا کہ تم نے جو ہماری ویڈیو بنائی ہے اسے ڈیلیٹ کر دو میں نے اس کو جواب دیا کہ میں ڈیلیٹ نہیں کروں گا بلکہ میں کل ڈی پی او صاحب کے سامنے پیش ہوں گا ایسا سلوک کر کے ہر شہری کو تنگ کیوں کیا جا رہا ہے جس پر پولیس ملازم ہمایوں کیانی نے مجھے تھپڑوں اور مکوں سے مارنا شروع کر دیا اس کے ساتھ دوسرے پولیس ملازم ناصر نے بھی مجھے ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا اور کہا کہ اگر تم نے ویڈیو ڈیلیٹ نہ کی تو ہم تمہیں جانے نہیں دیں گے اور تمہارے اوپر پرچہ دیں گے۔

انہوں نے مجھ سے میرا موبائل زبردستی چھین لیا اور میری گاڑی خود پولیس ملازم ہمایوں ڈرائیوکرتے ہوئے مجھے تھانہ دینہ لے آیا میرا دوست یاسر ان کی منت سماجت کرتا رہا اور معافیاں مانگتا رہا اس کے باوجود انہوں نے مجھے نہ چھوڑا اور تھانے لے جا کر بغیر کسی وجہ کے ایک گھنٹے بِٹھا ئے رکھا ،جس ایس ایچ او تھانہ دینہ نے دونوں کا موقف کا سنا تو انہوں نے پولیس ملازمین کو قصور وار قرار دیا اور پولیس ملازمین کو ڈانٹ ڈپٹ کی اور مجھے کہا کہ صبح 10بجے تھانہ میں آ جانا بعد ازاں ٹی ایچ کیو ہسپتال دینہ نے میرا علاج کرنے سے بھی انکار کر دیا اور کہا کہ یہ پولیس کیس ہے تم پولیس والوں کو ساتھ لاؤ پھر تمہارا علاج ہو گا لہٰذا میرے ساتھ نا انصافی ہوئی مجھے انصاف مہیا کیا جائے۔

جس پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم عبدالغفار قیصرانی نے فوری کاروائی کرتے ہوئے پولیس تھانہ دینہ کے دونو محافظوں ہمایوں کیانی اور ناصر معطل کر کے کاروائی کا حکم دے دیا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button