جہلماہم خبریں

جہلم میں سول ہسپتال کی نرسنگ طالبات کے احتجاج کی اندرونی کہانی کچھ اور ہی نکلی

جہلم: سول ہسپتال کی نرسنگ طالبات کے احتجاج کی اندرونی کہانی کچھ اور ہی نکلی،نرسنگ طالبات سول ہسپتال سے باہر کیسے نکلی،وہ کچہری سی او ہیلتھ آفس کے سامنے احتجاج کے بعد جی ٹی روڈ پر کیسے پہنچی ،سی ای او ڈاکٹر وسیم سے مزاکرات کیوں ناکام ہوئے ،اس تمام ایشو کا ڈایئریکٹر کون تھا ؟۔نرسنگ طالبات کو حق ملنا ان کا حق تھا لیکن تمام احتجاج پری پلان تھا، ہسپتال ذرائع۔

تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز جہلم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سول ہسپتال کی نرسنگ طالبات نے جی ٹی روڈ بلاک کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی اور اپنا مطالبہ منوا کر ہی جی ٹی روڈ کھولی اور تین دن کے اندر نرسیز سٹوڈنٹ کو تنخواہیں دی جانے کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی،جس کے بعد جی ٹی روڈ کھول دی گئی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: جہلم میں سول ہسپتال کی نرسنگ طالبات نے چھ ماہ سے ماہانہ وظائف نہ ملنے پر احتجاجی مظاہرہ

ہسپتال ذرائع کے مطابق دو ماہ پہلے ڈپٹی کمشنر آفس میں میٹنگ ہوئی جس میں سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر وسیم اور ان کے ساتھ ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود کے علاوہ ہیلتھ آفیسران بھی موجود تھے جس میں سی ای او ڈاکٹر وسیم نے دپٹی کمشنر اقبال حسین کو کہا کہ سول ہسپتال میں ایم ایس ڈاکٹر خالد محمود اپنا کام ٹھیک نہیں کر رہے ،جس کے بعد ایم ایس اور سی ای او ہیلتھ کے درمیان سرد جنگ چھڑ گئی،ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے دونوں جانب سے سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔ جن نرسیز سٹوڈنٹ کو چھ ماہ کی تنخواہیں نہیں مل رہی تھی وہ بچیاں اپنی جگہ پریشان تھیں۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق نرسنگ طالبات کو کھلی چھوٹ دی گئی اور اس احتجاج کے ماسٹر مائنڈ نے نرسنگ طالبات کو ہسپتال سے سی ای او ہیلتھ آفس تک ریلی نکالنے کا کہا ، جب ریلی ہسپتال سے نکل کر مین گیٹ پر پہنچی تو سیکورٹی گارڈ نے روکنا چاہا ،تو حکم ملتا ہے ان کو جانے دیا جائے ،نرسنگ طالبات جو کہ چھ ماہ کی تنخواؤں سے محروم تھی نعرے بازی کرتے ہوئے سی ای او ہیلتھ آفس کے باہر پہنچی تو ڈاکٹر وسیم اور اسسٹنٹ کمشنر مذاکرات کے لیے پہنچے لیکن وہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق نرسنگ طالبات کو حکم ملتا ہے کہ جی ٹی روڈ کی جانب رخ کرو اور نرسنگ طالبات جی ٹی روڈ بلاک کر دیتی ہیں۔میڈیا پر خبریں بریک ہونی شروع ہو جاتی ہے تو سیکرٹری ہیلتھ کے نوٹس پر تمام تنخواہیں جو کہ چھ ماہ سے ریلیز نہیں ہو رہی تھی وہ چند گھنٹوں میں ریلیز کر دی جاتی ہیں ،جس کے بعد احتجاج کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر خالد محمود احتجاج والے دن چھٹی پر تھے اور ہاسٹل کی پرنسپل میڈم گلیڈس لیٹ کیوں پہنچی،قوم کی بیٹیاں سڑکوں پر کیوں آئیں ،پولیس کی ڈنڈا بردار فورس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی رہی ،عوام سوال کر رہی ہیں کہ قوم کی بیٹیاں جب تک سڑکوں پر نہیں نکلیں گی ان کو انکا حق نہیں مل سکتا ؟۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button