سیاسی پلاؤ — تحریر: سلیمان شہباز

0

جیسے جیسے الیکشن کی تا ریخ قریب آرہی ہے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی سیاسی سرگرمیوں میں بھی تیزی بڑھتی جا رہی ہے ہر سیاسی جماعت کے کارکن اپنی اپنی جماعت کو کامیاب کروانے کے لیے متحرک دیکھائی دیتے ہیں اسی طر ح ضلع جہلم میں بھی سیاسی پارہ اپنے عروج پر ہے ضلع بھر سے قومی و صوبائی نشستوں کے لئے چالیس سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جن میں نئے اور پرانے چہرے شامل ہیں ۔

پورے ملک کی طرح ضلع جہلم میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم کی جنگ اپنے عروج پر جاری رہی کہ کو ئی اس پارٹی سے اُس پارٹی میں اور کو ئی اس پارٹی سے اُس پارٹی میں جا رہا ہے بہت کم اور پرانے ورکر ایسے بھی ہیں جو ابھی تک اپنی اپنی پارٹیوں کے ساتھ وفادار ہیں اور اپنی اپنی پارٹی کا سیاسی پلاؤ پکانے میں مصروف ہیں ان کو منشور بس اتنا ہی ہے کے ایک دو بڑے جلسے کر کے عوام کو ایک ایک پلیٹ پلاؤ کی دے کر ووٹ لے لیں گے کسی نے بہت خوب لکھا ہے۔غریب کی تھالی میں پلاؤ آگیا ہے ،لگتا ہے شہر میں چناؤ آگیا ہے ۔

ضلع جہلم مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور تیس سال سے زیادہ مسلم لیگ ن نے ہی ضلع جہلم میں حکومت کی ہے لیکن ن لیگ کی حکومت کے باوجود بھی ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان آج بھی پسماندہ ترین تحصیل ہے جہاں پر نہ تو کوئی اچھا ہسپتال ہے سڑکیں گلیاں نالیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں سڑکیں بنائیں وہ باضابطہ افتتاح سے پہلے ہی کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

ان تمام مسائل سے ہٹ کر تحصیل پنڈدادنخان میں پینے کے صاف پانی کا سنگین مسئلہ آج بھی تھر کی مثال سے کم نہیں ہے پینے کے صاف پانی کے مسئلہ کو نہ تو ن لیگ کی اعلیٰ قیادت حل کر سکی اور نہ ہی عوام کے منتخب کردہ ایم این اے اور ایم پی اے ،کٹھہ ،لِلہ ،ٹوبہ ،گولپور،ڈنڈوت ،سوڈی گجر اور دیگر علاقوں میں لوگ آج بھی پانی سمیت دیگر سہولیات سے محروم ہیں دیہی علاقوں کے لوگ آج بھی گندا پانی پینے پر مجبور ہیں یا تو پھر باعث حیثیت پیسوں سے صاف پانی خرید کر اپنا گزر بسر کر رہے ہیں۔

ہمیشہ کی طرح قومی و صوبائی نشست کے لیے ضلع جہلم کے دوسرے بڑے شہر کھیوڑہ کے اُمیدوار کو نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ تحصیل پنڈدادنخان کی پسماندگی کی بڑی وجہ ہے 2018کے قومی الیکشن میں مسلم لیگ ن کی صوبائی نشست کے لئے کھیوڑہ کے مسلم لیگی نوجوان ملک عرفان اعجاز جو کہ کھیوڑہ کی تمام بڑی برادریوں کے متفقہ اُمیدوار ہیں نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جو کہ اُن کا حق ہے کیونکہ ملک عرفان اعجاز اور دانیال خان چیئرمین گروپ لیڈر ہونے کے ناطے انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں کھیوڑہ شہر کی تعمیروترقی کے لیے دن رات محنت کی اور کافی ترقیاتی کام بھی کروائے جو کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن نوابزادہ فیملی نے ہمیشہ کی طرح کھیوڑہ کے عوام کو نظر انداز کیا جبکہ انہوں نے کاغذات نامزدگی واپس لے لئے۔

کھیوڑہ آبادی کے لحاظ سے ضلع جہلم کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہاں28000سے زیادہ ووٹ رجسٹرڈ ہیں لیکن حلقہ پی پی ستائیس کا ٹکٹ پی ٹی آئی سے ن لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے امیدوار کو دے دیا گیا جو کہ کھیوڑہ شہر اور تحصیل پنڈدادنخان کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہے اسی سلسلہ میں کھیوڑہ ن لیگ یوتھ ونگ کا انعقاد بھی منعقد ہوا جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ایک ہی مطالبہ کیا کہ ن لیگ کو ن لیگ کے اُمیدوار کو ہی ٹکٹ دینا چاہیے تھا اور کہا کہ اگر ملک عرفان اعجاز کو ٹکٹ نا دیا گیا تو ہم ایسا احتجاج کریں گے جو پارٹی کے لیے پریشانی کا باعث ہوگا جس سے ضلع جہلم میں مسلم لیگ ن کو کافی حد تک نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف NA67ایم این اے کے اُمیدوار چوہدری فواد نے بھی پی پی ستائیس کے ٹکٹ پر نظریں جمائی ہوئی تھی اور ذرائع کے مطابق وہ پی پی 27سے بھی خود ہی الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور اپنے ساتھی کو نظرانداز کئے ہوئے تھے۔باوثوق ذرائع سے معلوم ہو ا کہ فواد چوہدری نے تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان سے ون ٹو ون ملاقات کر کہ حلقہ این اے 67 اور پی پی 27کے معاملات کو حتمی شکل دینی تھی تمام معاملات فواد چوہدری کی مرضی کے مطابق ہی طے ہونے تھے۔

فواد چوہدری حلقہ این اے 67 اور پی پی 27 دونوں حلقوں سے الیکشن لڑیں گے جبکہ تمام صورتحال کا باضابطہ اعلان بر وز بدھ کو فائنل اعلان بھی ہونا تھا کہ حلقہ پی پی 27 سے راجہ شاہنواز خان آتے ہیں یا سابق تحصیل ناظم چوہدری عابد جوتانہ یا صرف فواد چوہدری ہی دونوں حلقوں سے لڑیں گے کہ ہائی کورٹ راولپنڈی نے فواد چوہدری کو نا اہل قرار دے دیا ، جس کے بعد ضلع جہلم میں پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹوں تقسیم میں دوبارہ سے دوڑ شروع ہو گئی ہے ۔ لیکن اگلے ہی روز عدالتی فیصلے کے بعد وہ اہل قرار پائے اور اب وہ دونوں سیٹوں سے خود الیکشن لڑیں گے۔

پارٹی کوئی بھی ہو اُمیدوار کسی بھی پارٹی کا ہو تحصیل بھر کے عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ تحصیل پنڈدادنخان کی پسماندگی کو دور کیا جائے اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اس بار عوام اپنے ووٹ کا استعما ل بہتر طریقے سے کریں گے کیونکہ عوام سمجھ چکے ہیں کے کون صرف نعروں، دعوں اور جھوٹے وعدوں تک محدود ہے اور کون عملی طور پر کام کر کہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر کر سکتا ہے ۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.