کالم و مضامین

کیا اب بدلیں گے جہلم کے حالات؟؟؟ — تحریر: محمد شہباز بٹ

قارئین ! الیکٹرانک میڈیا میں مصروفیات کے باعث گزشتہ کئی ماہ سے کچھ لکھنے کا موقع نہیں ملا لیکن ضلع جہلم کی سیاسی صورتحال اور بدلتے حالات کو دیکھتے ہوئے آج کچھ لکھنے کو دل چاہا تو قلم اٹھا لیا ، میری تحریر میرا ذاتی تجزیہ ہے اس سے اگر کسی کی دل آزاری ہو تو پیشگی معذرت چاہتا ہوں ۔

الیکشن کی گہما گہمی شروع ہو گئی ہے سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد سیاسی مہم میں تیزی آئے گی لیکن حلقہ این اے 67اور پی پی27 میں فواد چوہدری کی الیکشن مہم ضمنی الیکشن سے جاری ہے جس میں فیصل فرید چوہدری ایڈووکیٹ اور خود فواد چوہدری حلقہ کی عوام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ضمنی الیکشن ہارنے کے باوجود فواد چوہدری نے شکریہ مہم کے تحت تمام علاقوں میں جا کر اپنے سپورٹرز اور ووٹرز کا شکریہ ادا کیا جبکہ جیتنے والے صاحب نے عوام سے منہ پھیر لیا ملنا تو دور کی بات انہوں نے قریبی ساتھیوں کے فون سننا بھی مناسب نہ سمجھا۔

فواد چوہدری ٹیلی ویڑن سکرین اور جہلم سے باہر لاہور یا فیصل آباد کے جلسوں میں غازیوں اور شہیدوں کی سرزمین کا ذکر کرنا نہ بھولے وہاں جہلم سے مسلم لیگ (ن)کے منتخب نمائندے اسمبلیوں میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے ، تحصیل پنڈ دادنخان اور سوہاوہ کی عوام پانی کی بوند بوند کو ترستی رہی اور انکے ووٹ لیکر اسمبلیوں میں پہنچنے والے نمائندے فلٹر شدہ پانی سے غسل کرتے رہے ،خیر مسائل پے اب روزانہ کی بنیاد پے بات ہو گی ۔

اب ٹکٹوں کی بات کریں تو بہت سارے حلقے ایسے ہیں جہاں ایک فیملی میں پانچ پانچ چھ چھ ٹکٹ تقسیم کیے گئے شریف خاندان نے تو پچیس سے زائد قریبی رشتہ داروں میں ٹکٹ تقسیم کیے عمران خان بی پانچ حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں تو پھر جہلم میں ٹکٹوں کی تقسیم پر خاص کر فواد چوہدری اور فرخ الطاف کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے ؟۔

کچھ تجزیہ کار تبصرے کر رہے ہیں کہ فواد چوہدری نے پی پی27سے الیکشن لڑا تو راجہ شاہنواز ناراض ہو کر (ن)لیگ میں شامل ہو جائے گا احمقوں کی جنت میں رہنے والے ان دانشوروں سے گزارش ہے کہ فواد چوہدری کو ایم پی اے یا ایم این اے کی سیٹ کی ضرورت نہیں اگر پی ٹی آئی کی حکومت آتی ہے تو فواد چوہدری میں اتنی قابلیت ہے کہ انکو سینٹر بنا کر وزیر مشیر بنایا جا سکتا ہے اٹارنی جنرل بھی بن سکتے ہیں لیکن میں نے فواد چوہدری سے جتنی ملاقاتیں کیں اور انکو سمجھا وہ حلقہ سے منتخب ہو کر عوام اور حلقہ کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

(ن)لیگ نے ان حلقوں میں جو کام جو مسائل حل نہ کیے فواد چوہدری بلا تفریق ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں میں نے ان میں عوام کے لیے ہمدردی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ دیکھا ہے اگر وہ پی پی 27سے الیکشن لڑ کر جیتتے ہیں اور انکو وزیر اعلی پنجاب کا قلمدان سونپا جاتا ہے تو تب ہی یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر عمران خان نے انہیں ایسا اشارہ نہ دیا تو وہ ہرگز صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن نہیں لڑیں گے اور ٹکٹ راجہ شاہنواز کو ہی ملے گا لیکن یہ سب کچھ راجہ شاہ نواز کو اعتماد میں لیکر انکی مرضی اور منشاء کے مطابق سب کچھ ہو گا ۔

کچھ دانشور گھر میں بیٹھ کر تجزئیے کر رہے ہیں انکو زمینی حقائق کا علم نہیں اور شائد وہ عوامی مسائل سے بھی غافل ہیں اس لیے انکو یہ دکھائی نہیں دے رہا کہ مسلم لیگ (ن) کے نمائندوں نے گزشتہ دس سالوں میں عوام کے لیے کیا کیا اگر جائزہ لیا جائے تو چوہدری لال حسین کے علاوہ سبکی کارکردگی صفر بڑا صفر ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ جوک در جوک پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں ۔

اب ذرا (ن)لیگ کی ٹکٹوں کی بات کی جائے تو گھرمالہ خاندان کو دو ٹکٹیں دینے پر مسلم لیگ (ن)کا ورکرز گروپ سراپا احتجاج ہے لیکن لدھڑ خاندان پر تنقید کرنے والے دانشور اس پر خاموش ہیں۔
میرے ذاتی تجزیئے کے مطابق گھرمالہ خاندان کو دونوں ٹکٹ ملنے چاہیے تھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ندیم خادم اور لال حسین اپنے حلقہ کی عوام کے ساتھ رابطے میں رہے لیکن پی پی 25،26اور این اے 66میں ایک ہی برادری کو ٹکٹ دینا مسلم لیگ(ن) کا دانشمندانہ فیصلہ نہیں راجگان کو مکمل نظر انداز کر دیا گیا جبکہ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی نے ان حلقوں میں جاٹ،گجر اور گکھڑ برادریوں کو نمائندگی دیکر متوازن ٹیم سامنے لائی جسکا نقصان مسلم لیگ(ن)کو ہو سکتا ہے ۔

ٹکٹوں کی تقسیم پر مسلم لیگ (ن)کے سیکڑوں کارکنان کو تحفظات ہیں جسکے بعد (ن) لیگی قلعہ میں دراڑیں واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں ورکرز گروپ پی ٹی آئی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہوا میرا تجزیہ غلط ثابت ہوا تو گھرمالہ خاندان ایک دفعہ پھر سرخرو ہو گا اور فاتحانہ انداز میں قیادت کے پاس پہنچے گا جب کہ ورکرز گروپ نعروں تک ہی محدود رہ جائے گا لیکن اسکے چانسز بہت کم دکھائی دیتے ہیں ایسے محسوس ہو رہا ہے جیسے پچیس جولائی کے بعد ضلع جہلم میں تبدیلی آئے گی اور حالات تبدیل ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button