فواد چوہدری کی خود کلامی اور جٹ دا کھڑاک

تحریر: رؤف طاہر

0

چھ، سات سال کے سیاسی بن باس کے بعد کیا منیر احمد خاں نے دوبارہ سیاست میں فعال ہونے کا فیصلہ کیا ہے‘ اور کیا وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے لیے ان کا استقبالیہ اس بات کا اشارہ تھا کہ سیاسی پنچھی کی پرواز اس بار تحریک انصاف کی طرف ہے؟

منیر احمد خاں ان نوجوانوں میں تھے جنہوں نے بھٹو دور میں جمہور کی حکمرانی کے خواب دیکھے۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے ایئر مارشل اصغر خاں کی تحریک استقلال ان کا انتخاب تھی۔ آغا شورش کاشمیری نے تو انگریز استعمار کے حوالے سے کہا تھا:

ہم نے اس وقت سیاست میں قدم رکھا تھا
جب سیاست کا صلہ آہنی زنجیریں تھیں

سقوط مشرقی پاکستان کے بعد بھٹو صاحب کے نئے پاکستان میں حزب اختلاف کی سیاست (اور صحافت) کے لیے بھی معاملہ ایسا ہی تھا… ایئر مارشل اور ان کی تحریکِ استقلال کی طرف ’’قائدِ عوام‘‘ کی نگہِ التفات کچھ زیادہ ہی تھی۔

تحریکِ استقلال میں منیر احمد خاں کا بیشتر وقت آصف فصیح الدین وردگ اور ملک حیدر عثمان کے ساتھ گزرتا۔ یہ مشکل وقت ان سب نے بڑی ہمت کے ساتھ کاٹ لیا۔ اس کے بعد منیر احمد خاں (اور ان کے دوستوں) نے جہاں جہاں عافیت اور آسائش محسوس کی وہاں وہاں کا رخ کرتے رہے۔

مشرف دور البتہ ایک بار پھر ان کے لیے خاصا کٹھن تھا۔ تب وہ محترمہ کی پیپلز پارٹی میں تھے۔ اے آر ڈی بنی تو منیر احمد خاں اس کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہو گئے۔ نواب زادہ صاحب ان پر بے پناہ اعتماد کرتے۔ ستمبر 2003ء میں بابائے جمہوریت لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو اور جدہ میں میاں صاحب سے ملاقاتوں کے جمہوری مشن پر روانہ ہوئے تو منیر احمد خان ان کے ساتھ تھے… (وطن واپسی پر کوئی نیا سیاسی ہنگامہ اٹھانے سے پیشتر ہی بزرگ سیاستدان اللہ کو پیارے ہو گئے).

2011-12ء میں جناب زرداری کی صدارت اور گیلانی صاحب کی وزارتِ عظمیٰ کے دنوں میں منیر احمد خاں نے پیپلز پارٹی سے چپکے سے علیحدگی اختیار کرلی۔ آئے دن کے حکومتی سکینڈلز نے ان کا دل اچاٹ کردیا تھا۔ اس دوران اپنے کاروبار کے علاوہ، ان کی توجہ تھنک ٹینک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹکل ایجوکیشن (NIPE)پر رہی۔

اس اتوار کی سہ پہر فواد چودھری کے اعزاز میں منیر احمد خاں کا استقبالیہ شہر کی ایک بڑی تقریب تھی، جس میں شہر کے بعض نمایاں وکلا اور سیاسی لوگوں کے علاوہ غالب تعداد میڈیا والوں کی تھی۔ یہ منیر کی بہترین ’’پی آر‘‘ کا اظہار بھی تھا،وہ جہاں بھی رہے، اخبار والوں سے ان کے تعلقات میں کوئی فرق نہ آیا۔ اب نئے سیاسی سفر میں بھی ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کہ وہ جہاں رہیں، خوش رہیں۔

جہلم کے چودھریوں کا سیاسی نشیمن، اب ان کی چوتھی نسل کے فواد چودھری کے تصرف میں ہے۔ (جہلم کی دوسری نشست سے اگرچہ ان کا کزن چودھری فرخ الطاف بھی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہے) فواد کے ایک انکل چودھری شہباز حسین برسوں سے جدہ میں ہوتے ہیں۔

مدینہ روڈ پر ایک ہوٹل کے علاوہ وہ دیگر بزنس بھی کرتے رہتے ہیں۔ سیاست سے ان کا ٹھرک بھی دورِ طالب علمی سے ہے۔ ان کا ہوٹل، ایک طرح سے ان کا سیاسی ڈیرہ بھی ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی یہ بیٹھک خود چودھری صاحب کے خرچے پر ہوتی ہے۔

ہم بھی اپنے بارہ سالہ قیامِ جدہ کے دوران ان کی شفقت کا لطف اٹھاتے رہے۔ مشرف دور میں وہ پیپلز پارٹی سے قاف لیگ میں آکر، بہبود آبادی کے وفاقی وزیر ہوگئے۔ تب بھی جدہ میں ان کا آنا جانا لگا رہتا… ایک بار مشرف کی کتاب’’ان دی لائن آف فائر‘‘ بھی لائے اور دوستوں کی نذر کی۔

ایک شام، ان کے خاندان کی سیاست کا ذکر چھڑا تو انہوں نے بتایاکہ یہ کہانی ان کے دادا جان سے شروع ہوتی ہے۔ شیر باز خان نے برٹش آرمی میں آنریری کیپٹن کے عہدے سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاست کا رخ کیا اور ڈسٹرکٹ کونسل کے رکن منتخب ہوگئے۔

فوجی خدمات کے عوض عارف والا (تب ضلع منٹگمری) میں زمینیں ملیں تو شہبازصاحب کے والد شاہ محمد زمینوں کی نگرانی کے لیے وہاں جابسے۔ تایا جان چودھری محمد ادریس کو والد کی سیاسی گدی سنبھالنا تھی، چنانچہ وہ جہلم میں رہے اور ڈسٹرکٹ کونسل کے وائس چیئر مین بن گئے۔

تحریک پاکستان کے دوران انہوں نے جناب ضمیر جعفری کے ساتھ مل کر جہلم میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی۔ قیام پاکستان کے بعد مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ پھر ان کے صاحبزادے چودھری الطاف حسین خاندان کے سیاسی وارث ہوگئے۔

مسلم لیگ میں وہ میاں ممتاز دولتانہ کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ ایوب خان کے دور میں چودھری خاندان جہلم میں حزب اختلاف کی علامت تھا۔ تمام تر حکومتی دباؤ کے باوجود، ایوب خان کے مقابلے میں وہ مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ کھڑے رہے۔

بھٹو نے دولتانہ صاحب کو لندن میں سفیر بنادیا، شوکت حیات بھی پیپلز پارٹی کو پیارے ہوگئے لیکن جہلم کے چودھری اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں چودھری الطاف حسین راجہ افضل سے ہار گئے۔

راجہ صاحب کی وزیر اعلیٰ نوازشریف سے قربت، چودھری الطاف حسین کو پیپلزپارٹی کے قریب لے گئی، اس میں کچھ دخل سردار فاروق خان لغاری کا بھی تھا (تب محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ ان کا منہ بولے بھائی کا رشتہ تھا)۔ الطاف حسین 1988ء کا الیکشن بھی ہار گئے۔

1990ء میں قسمت نے یاوری کی اور وہ پہلی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوگئے۔ میاں صاحب کی (پہلی) وزارتِ عظمیٰ میں وہ قومی اسمبلی میں ان کے سخت ترین ناقدین میں شمار ہوتے تھے۔ اپریل 1993ء میں صدر غلام اسحاق خان نے نوازشریف حکومت برطرف کی، اور میاں اظہر پنجاب کی گورنری سے ’’احتجاجاً‘‘ مستعفی ہوکر گھر چلے گئے، تو محترمہ کی سفارش پر صدر نے چودھری الطاف حسین کو پنجاب کا گورنر بنا دیا۔

صدر اسحاق کو دو بار (دو الگ الگ) قومی اسمبلیاں توڑنے کا ’’اعزاز‘‘ حاصل ہوا۔ (پہلی بار محترمہ بے نظیر بھٹو والی اسمبلی، دوسری بار میاں نوازشریف والی اسمبلی) جبکہ گورنر الطاف حسین نے ایک ہی اسمبلی دوبار توڑنے کا کارنامہ انجام دیا۔

18اپریل1993ء کو نوازشریف حکومت کی برطرفی(اور قومی اسمبلی کی تحلیل) کے بعد اب صدر صاحب کا نشانہ پنجاب تھا، لیکن یہاں ان کی حکمت عملی اسمبلی توڑنے کی بجائے، نوازشریف کے وفادار وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائیں کے خلاف ’’اِن ہاؤس چینج‘‘ تھی‘ جس کے لیے سپیکر منظور وٹو آلہ کار بنے۔

سپریم کورٹ سے نوازشریف حکومت (اورقومی اسمبلی) کی بحالی کے بعد ’’صبح کے بھولے‘‘، شام کو گھر واپس آنے لگے، وزیر اعلیٰ وٹو کے پاؤں تلے سے زمین سرک رہی تھی۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آ گئی، اور وٹو نے اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے دی۔

اب ایک نیا آئینی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا، وزیر اعلیٰ تحریک عدم اعتماد پیش ہوجانے کے بعد اسمبلی نہیں توڑ سکتا۔ وٹو کا مو?قف تھا کہ تحریکِ عدم اعتماد بعد میں آئی تھی۔ معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں پہنچا، اور دلائل وشواہد کی بنا پر عدالتِ عالیہ نے اسمبلی کی بحالی کا حکم جاری کردیا(وزیر اعلیٰ وٹو کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی یقینی تھی)چودھری شہباز حسین بتا رہے تھے: میں تب گورنر ہاؤس میں موجود تھا، اعتزاز احسن اور فاروق لغاری بھی وہیں تھے۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کی خبر آئی تو گورنر الطاف حسین نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ نے اسمبلی کی دوبارہ برطرفی کے اختیار پر تو کوئی قدغن نہیں لگائی، ایسی کوئی قدغن نہیں تھی۔ چنانچہ اسمبلی دوبارہ توڑ دی گئی۔ اعتزاز نے نعرہ لگایا، ’’جٹ دا کھڑاک‘‘…

8ویں ترمیم کے بے پناہ اختیارات والا صدر، وزیر اعظم کے خلاف ادھار کھائے بیٹھا تھا۔ سیاسی بحران بڑھتا جا رہا تھا۔ تب کاکڑفارمولے کے تحت دونوں رخصت ہو گئے۔ نئے سیٹ اپ میں الطاف حسین بھی گورنری سے گئے۔ 1993ء میں محترمہ کی دوسری حکومت میں وہ دوبارہ گورنر بنے۔ مئی 1995ء میں گورنر ہاؤس ہی سے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔

استقبالیہ تقریب میں فواد چودھری کی گفتگو ’’مونولاگ‘‘ تھی کہ اس کے بعد کوئی سوال،جواب نہ ہوا۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)
بشکریہ دنیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.