کالم و مضامین

کشمیر ڈے — تحریر: آصف حیات مرزا


اے کاتب تقدیر یہ کشمیر کی تصویر ہے ۔۔ہر طرف لاشیں ہیں خون ہے موت ہے زنجیر ہے
آ زاد کشمیر کی سیاست بھی انہی روایتی حربوں سے مزین ہے جس کا اظہار گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی سیاست میں کار فرما نظر آتا ہے، مسئلہ کشمیر یہاں بھی سیاست دانوں کا مطمع نظرنہیں یہ بحیثیت قوم کشمیر ڈے پر اقوام متحدہ کے مبصر کے پاس صرف یاداشت پیش کرنے کے قائل ہیں حتی کے الیکشن کمپین میں بھی یہ شازو نادر نظر آتا ہے۔ قائد کشمیر بلکہ قائدین کشمیر عالمی سطح پر یا اخباری تراشوں میں بیانات کی حد تک کشمیر کا نام تو لیتے ہیں بھارتی مظالم وبر پریت پر وویلا تو کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔بشارت علی چوہدری نے کہا کہ آزاد کشمیر کی پوری عوام کو مسئلہ کشمیر کا شعور دادراک دینے میں نا حال نا کام رہے گا، میڈیا وار کے ذریعے مسئلہ اجاگر ہوا نہ تعلیمی درس گاہیں، ماشاء اللہ اس کو پروان چڑا سکیں بلکہ المیہ تو یہ ہے کہ جس دن حالیہ بھارتی چارحیت ہوئے نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا بیسوں کو شہید کیا گیا ۔سینکڑوں زخمی ہوئے اور ہسپتالوں کے اندر بھی انکو زدو کوب کیا گیا ،اسی دن پاکستان و آزاد کشمیر کے سینماؤں میں انڈین فلم سلطان نے کروڑوں کا بزنس صرف ایک دن میں کیا میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستانی حکومت بھارتی فلموں کی نمائش کو بین کرے گی نہ اس کے بزنس میں کوئی فرق آئے گا بلکہ وہ مزید بڑھے گا، عوام کے اس عمل سے ان کی حب الوطنی ،و، کشمیر دوستی کا ادراک تو ہوتا ہو گا بلکہ جولائی کو یوم سیاہ میں لوگوں کو منتوں اور ترلوں سے گھروں سے نکالنے کی کوشش کی خبریں بھی موجود ہیں جو نکلے ان کی تعداد بھی اتنی نہیں تھی جتنی الیکشن کمپین میں ہر پارٹی کے کارکنوں کی یا جیت کے جشن میں عوام کی ہوتی ہے، اس بے حسی سے با خوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں کتنی مخلصانہ کوششیں کی گئیں ہیں کوئی خارجہ پالیسی تو پاکستان کی ہے نہیں ۔۔نہ بھارتی نہ بھارتی جارحیت پر حکومت اور اس کی وزرات اطلات کی جرات کہ وہ،،،سلے ہوئے ہونٹ ،،،کھولے۔ان کی دلچسپاں ، ذاتی تجارت و خاندانی روابط کے استحکام کے علاوہ کچھ نہیں ۔۔ظاہر ہے اس طرح کے رویوں کے اثرات آزاد کشمیر کی سیاست پر بھی پڑتے ہیں ۔۔یہ تو آزاد کشمیر کی مجموعی صورتحال ،،کشمیر ایشو،،پر ہے اب اگر آمدہ الیکشن کی بات کی جائے تو کوئی ایسی ،،انہونی،،ہونے کے امکانات نہیں جو پاکستانی روایتی سیاست سے ہٹ کر ہو ۔الیکشن میں جیت کے لیے وہی تین چیزیں درکار ہیں جن کا عمل دخل پاکستانی سیاست میں ہے بلکہ پاکستان میں کچھ طبقات ابھی بھی پارٹی نظریات اور منشور کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں ۔۔یہاں نظریات کار فرما ہیں نہ کوئی پارٹی منشور ۔۔پیسے کا بے دریغ استعمال ۔برادریوں کا شور شرابا اور مسلح اور غیر مسلح بدمعاشی و خوف وہراس ۔۔یہی تین چیزیں زیادہ تر امیدوار جیت کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔۔اب کوئی متوسط درجے کا ذہین ،پڑھا لکھا فرد الیکشن میں حصہ لینے سے کوسوں دور بھاگے گا کیونکہ اس کی جیت کے امکانات تو پہلے ہی معدوم ہیں اب جان جانے کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں ۔۔ہر امید وار مخالف امیدوار کو گالی گلوچ کر کے الزامات لگا کے ،،عوامی ہمدردی ،،سمیٹتا ہے ۔۔قرآن پاک کے جھوٹے حلف ہوں یا برادری کو اشتعال دلانے کے ہربے انہی میں جیت کا راز مضر ہے ۔۔ووٹ کی خریداری کے لیے پیسے بانٹے جا رہے ہیں اور افراد اس وقتی،،مال غنیمت،،دھڑ دھرفائدہ بھی اٹھاتی رہے ہیں ۔۔عین الیکشن کے دنوں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں الیکشن کے ،،ضابطہ اخلاق،،کی دھجیاں بکھری جا رہی ہیں ۔۔قانون ،،بے بس،،اور انتظامیہ ،،اپاہج،،بنی ہوئی ہے ۔۔،،نیشنل ایکشن پلان ،،کا صحیح مذاق اڑا کر اس پلان کو بنانے والوں پر طماچے بھی مارے جا رہے ہیں اور قانون کی ،،عمل داری ،،پرسوالیہ نشان اٹھائے جا رہے ہیں ۔۔کئی علاقوں میں پارٹی تصادم میں کئی قیمتی جانیں جا چکی ہیں اور بڑے تصادم کا خطرہ تا حال موجود ہے کوئی نریندمودی نوازشریف ،،گٹھ جور،،پر ووٹ لینے کی کوشش کر رہا ہے کوئی،،ممتازقادری کی پھانسی ،،کو بنیاد بنا کر ،،داد تحسین لے رہا ہے کوئی،،نئے آزاد کشمیر،،کی بنیاد اور،،پانامہ لیکس،،پر نوازشریف کی نااہلی کاوویلا کر کے الیکشن مہم چلا رہا ہے ۔۔۔ایک ایشو ایسا ہے کہ جس پر سوائے،،مسلم لیگ ن،،کہ ہر پارٹی اپنی گفتگو کا حصہ بنا رہی ہے ،،وہ شریف برادران،،کا ند دیہاڑے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ،،ریاستی دہشت گردی،،کر کے نہتے مرد و خواتین کو گولیوں کا نشانہ بنانے اور شہادتوں کے ہونے اورپھر قاتلوں کے دندناتے پھرنے اور انصاف کے نہ ملنے پر لوگوں سے اظہار ہمدردیاں سمیٹنے کے چکر میں ہیں ۔۔۔یہ ایک ایشو بنتا ہے جو ہر اعتبار سے ،،غیر متنازعہ،،نظر آتا ہے ۔۔۔اگر قومی شعور کی بلندیوں پرفائز ہو تو یہ ایشو بہتری کی سمت تعین کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے مگر برادریوں کے مارے ،مفادات کے خوگر،ضمیر فروشی کے پروردہ لوگوں سے ،،امید بہار،، لگانا احمقوں کی جنت،، میں رہنے کے مترادف ہے ۔۔۔صحیح شعور اور آگاہی کے لیے فرسودہ سسٹم کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے قرآن و نبوی ﷺنظام معاشرت کے نفاذ کی عملی جدوجہد کو عوام کے ذہین میں پروان چڑھانے کی اشد ضروریات ہے۔۔۔انتخابی اصلاحات۔۔۔پھر اس کی غیر جانبداری سے نفاذ ہی قوم کو حقیقی عوامی قیادت دینے کا اہل بنا سکتی ہے ۔۔ورنہ وہی چہرے ۔۔۔وہی مہرے۔۔شکلیں و نام بدل کر قوم کے مقدر سے کھیلتی رہیں گی ۔۔قومی آزادی ،غیرت،حمیت ،خوداری اور استحکام وطن جوں کا توں ہی رہے گا۔۔۔قوم کے افراد سوچیں ضرور۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button