قانون سازی اور ہمارے نمائندے — تحریر: احسن وحید

0

حیرت کدہ ہوں کہ جس گروپ میں دیکھو جس فیس بک اکائونٹ کو دیکھو عوام کی طرف سے سوال یا ان کے تجزیے میں ٹکٹ کاہی ذکر ہے یا دھڑوں کا کسی کی طرف سے آج تک کسی امیدوار سے یہ سوال نہیں پوچھا گیا کہ اپ اگر صوبائی یا قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہو گے تو اپ اس ملک کے نظام تعلیم کے لیے کیا قانون سازی کرینگے آپ صحت سے متعلق بہتری کے لیے کیا قانون سازی کرینگے آپ ٹیکس کے نظام کو موثر اور بہتر کرنے کے لیے کیا پلان رکھتے ہیں۔

آپ نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنے کھلاڑیوں کے بہتر مستقبل کے لیے کیا پلان رکھتے ہیں آپ بے روز گاری کے خاتمے کے لیے موجودہ قانون میں کیا تبدیلی لائینگے آپ بروقت فوری اور سستے انصاف کے لیے موجودہ قانون میں کیا قانون سازی کرینگے۔۔ اسلامی فلاعی ریاست کے قیام کے لیے کس کس فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے اپنی آواز اسمبلی میں اٹھائینگے۔۔

آپ کے پاس ملکی معشیت میں بہتری کے لیے کیا پلان ہے آپ اس ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کیا پالیسی مرتب کرینگے آپ بیرون ملک قرضوں کے خاتمے کے لیے کیا نظام وضح کرینگے آپ اداروں کی کن کمزریوں کی نشاندہی کرینگے آپ اداروں کو خو مختار کرنے کے لیے کیا پالیسی رکھتے ہیں۔۔۔پولیس کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے قانون میں کن ترامیم کی گنجائش ہے۔۔ہم کبھی ہوا بازی میں اتنے خود مختار تھے کہ ہم دوسرے ملکوں کے لیے مثال تھے آج ہم خسارے میں ہیں آج ہمارے ادارے نیلام ہو رہے ہیں ۔

مگر افسوس۔۔۔۔ہمارے سوالات۔۔۔۔۔

میرا جہاں تک ناقص علم ہے ہمارے ملک کا آئین اور قانون یہ بتاتا ہے کہ ایک صوبایی اور قومی اسمبلی کے منتخب نمائندے کا کام قانون سازی کرنا ہوتا ہے لیکن پاکستان کی تاریخ گواہ ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے یہی دیکھتا آ رہا ہوں کہ اس ملک میں قانون سازی کرنے والے صرف پانچ سال قانون سازی کے پیپروں پر صرف دستخط کرنے کا ہی معاوضہ لیتے آ رہے ہیں۔

قربان جاؤں اس بھولی عوام پر جو ایک ایم پی اے سے گلیاں اور روڈز تعمیر کرنے کا ہی مطالبہ کرتی ہے اور جو صرف اور صرف اپنی ووٹ کو ترقیاتی کاموں میں تولتی ہے اسے اس بات سے غرض نہیں کہ اس منتخب نمائندے نے ان کے ساتھ تھانے میں ہونے والی نا انصافی کی خرابی کو ختم کرنے میں کیا کردار ادا کیا اسے جو سالوں سے انصاف نہیں ملا اس کے نمائندے نے اس پر کوئی آواز بلند کی وہ جو اپنی حلال کمائی سے چالیس گناہ زیادہ ٹیکس دے رہا ہے اس کے نمائندے نے اس پر کوئی لب کشائی کی۔

اس کے بیٹے کے علاج کے لیے جو ہسپتالوں میں ذلالت اٹھانی پڑتی ہے اس پر اس کے نمائندے نے کیا قانون سازی کی۔اس کے بچے جو اس کی ساری زندگی کی کمائی لگا کر پڑھ لکھ کر مزدوری کر رہے ہیں یا بے روز گار ہیں اس فرسودہ نظام کے خاتمے کے لیے اس کے نمائندے نے کیا کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔۔ہماری عوام کو تو صرف اپنے نمائندے میں دیکھنا ہوتا ہے کہ میں نے اپنے رشتہ دار کی قیمتی زمین ہتھیانی ہے اس پر میرا منتخب نمائندہ تھانے میں میری کتنی مدد کریگا۔ ہماری گلی پچھلے دور حکومت میں بنی تھی لیکن نالی کا پانی میرے گھر آ جاتا ہے کون مجھے یہ گلی دوبارہ پکی کروا کر دیگا۔

ہم یہ بھول چکے ہیں کہ ہماری ضروریات کو پورا کرمے کی ذمہ داری اداروں کی ہے سڑکیں بنانے کے لیے نیشنل ادارہ موجود ہے۔۔صحت تعلیم۔۔ سستے اور فوری انصاف سمیت نوجوانون کی بے روز گاری کے خاتمے غرض ہماری بنیادی ضروریات کے لیے ادارے موجود ہیں اگر ضرورت ہے تو ان اداوں سے بہتر کام لینے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے اور قانقن سازی کے لیے ہماری عوام میں شعور کا ہقنا ضروری ہے اور ہمارے ووٹ کا درست استعمال کرنا ضروری ہے۔۔ووٹ ان کو دیں جن کے پاس ان سوالوں کے جوابات ہوں۔۔۔اللہ پاک ہمیں ہمارے ووٹ کے صیح استعمال کی توفیق دے۔۔۔آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.