کالم و مضامین

ضلع جہلم کی نئی حلقہ بندیاں اور سیاسی جماعتوں کی صف بندیاں — تحریر: محمد امجد بٹ

متوقع انتخابات 2018 کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے کی گئی نئی حلقہ بندیوں کی تفصیلات جاری ہوتے ہی ملک بھر سمیت جہلم میں بھی انتخابی سرگرمیوں کا ایک نیا باب کھل گیا ہے ۔نئی حلقہ بندیوں کے سامنے آتے ہی متعدد امیدواروں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی ہے جبکہ باقی ماندہ امیدوار نئی حلقہ بندیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی اپنی صف بندیوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق2018 کے انتخابات میں ضلع جہلم قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں پر مشتمل ہو گا ۔قبل ازیں ضلع جہلم میں صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی تعداد چار تھی جو اب کم ہو کر تین ہو گئی ہے اسی طرح الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کے نمبر بھی تبدیل کیے ہیں نئی تبدیلی کے بعد سابقہ حلقہ این اے 62 اب این اے 66 جبکہ سابقہ حلقہ این اے 63موجودہ حلقہ 67 کہلائے گا ۔اسی طرح صوبائی اسمبلی کا حلقہ پی پی24 ختم ہونے کے بعد باقی تین حلقے پی پی 25، پی پی 26 اور پی پی27 پت مشتمل ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کی نئی پالیسی کے تحت ضلع جہلم کے کل ووٹرز جنکی تعداد12لاکھ 22 ہزار 650ہے کی قومی اسمبلی کے دوحلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جسکے تحت حلقہ این اے 66 میں ووٹرز کی تعداد6لاکھ 76 ہزار537جبکہ حلقہ این اے 67 میں ووٹرز کی تعداد5 لاکھ 46ہزار113 ہو گی۔ اسی طرح نئے حلقہ پی پی 25 میں کل ووٹرز401608، حلقہ پی پی 26 میں406312 اور حلقہ پی پی27 میں ووٹرز کی تعداد414730 ہو گی۔

نئی حلقہ بندیوں کے مطابق سابقہ حلقہ پی پی24 کے خاتمے کے بعد اس حلقہ کو دیگر دو حلقوں میں ضم کر دیا گیا ہے ۔ نیاحلقہ پی پی25 اب تحصیل سوہاوہ اور دینہ پر مشتمل ہو گا جبکہ حلقہ پی پی 26 کی متعدد یونین کونسلوں کو اس حلقہ سے خارج کر کے میونسپل کمیٹی جہلم سمیت متعدد یونین کونسلوں کے علاوہ تحصیل دینہ کے حلقہ قانون گو شامل کیئے گئے ہیں۔اسی طرح حلقہ پی پی27 تحصیل پنڈ دادنخان سمیت جہلم کی متعدد یونین کونسلوں پر مشتمل ہو گا۔حلقہ بندیوں اور ووٹرز کی تقسیم کے بعدمعرض وجود میں آنے والے ممکنہ نئے حلقے حکمران جماعت سمیت سب کے لئے درد سر بن گئے ہیں۔

ضلع جہلم جو مسلم لیگ ن کا ناقابل تسخیر قلعہ گردانا جاتا ہے میں ن لیگ نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سمیت ، بلدیاتی اور کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں یکے بعد دیگرے کلین سویپ کیے ہیں۔مسلم لیگ ن کی سابقہ حریف جماعت مسلم لیگ ق کے جہلم میں وجود کے خاتمے پی ٹی آئی روائتی حریف جبکہ حصہ بقدر جصہ کے مصداق پی پی پی بھی میدان میں اترسکتی ہے۔ تاہم جہلم میں مقابلے کی دوڑ میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ہوں گی۔نئی حلقہ بندیوں کے بعد ایک 2018کے انتخابات میں بطورامیدوار امیدلگائے متعدد امیدوار نئے حلقوں میں اترنے سے رہ گئے ہیں۔

نئے امیدواروں کی تعداد کم ہونے سے مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے علاوہ پی پی پی کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک پاکستان بھی میدان میں اپنے امیدوار اتارے گی ۔ نئی حلقہ بندیوں ہر اعتراضات و تحفظات ختم ہونے کے بعد معرض وجود میں آنے تک ہر جماعت اپنے تائیں صف بندیوں میں مصروف ہے۔ابھی تک تمام امیدوار اور جماعتیں تذبذب کا شکار ہیں جب تک حلقہ بندیوں کا آخری مرحلہ مکمل نہیں ہوتا تب تک امیدواروں کا چناؤ اور حلقوں کا انتخاب تمام جماعتوں کے لئے اضطرابیت کا سبب رہے گا۔

یہ بات بھی اظہرالمن شمس ہے کہ مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لئے امیدواروں کے چناؤ کا مرحلہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا کیونکہ دونوں جماعتوں میں اندرونی اختلافات انتہا کو پہنچ چکے ہیں ۔ تاہم کسی بھی جماعت کے امیدواروں کے چناؤ میں معمولی سی بھی غلطی انکی سیاسی موت کا سبب بن سکتی ہے۔مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے امیدواروں کے انتخاب کے بعدیہ اندازہ لگانا ممکن ہو گا کہ کون کون سا امیدوار کس کس حلقے میں کیا کیا جوہر دکھا سکتا ہے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں جماعتیں نئے امیدواروں کو آزمانے کی بجائے سابقہ امیدواروں پر اکتفا کریں تاکہ حلقوں میں غیر معروف امیدواروں کی وجہ سے شکست سے بچ سکیں۔

نئے معرض وجود میں آنے والے انتخابی حلقوں میں جماعتی ووٹ کے علاوہ برادری ازم اور دھڑے بندی کی سیاست کے عمل کو بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے ۔ جسکی وجہ سے ایسے انتخابی امیدواروں کا چناؤ کیا جائے گا جو برادری اور دھڑے بندی کی سیاست میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بعد کون سی جماعت بہتر صف بندی کرتی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button