دینہاہم خبریں

دریائے جہلم میں سعیلہ کے مقام پر ڈوبنے والے چاروں نوجوانوں کی نعشیں برآمد

دینہ کے نواحی علاقہ کے رہائشی دریائے جہلم میں سعیلہ کے مقام پر ڈوبنے والے مزید 2 نوجوانوں کی لاشیں ریسکیو 1122 نے جدو جہد کے بعد نکال لیں، نو جوانوں کی میت گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز دینہ کے نواحی علاقہ چک جمال کے رہائشی نو جوان نہانے کی غرض سے دریائے جہلم سعیلہ کے مقام پر گئے تھے جہاں وہ نہاتے ہو ئے پانی کی تیز لہروں نے دبوچ لیا اور ایک دوسرے کو بچانے کے چکر میں چار نو جوان ڈوب گئے تھے۔

ریسکیو1122کے غوطہ خو روں نے تلاش شروع کر دی تھی جن میں سے دو روز قبل 2نو جوانوں محمد رضوان اور محمد بلال کی لاشیں دریا سے نکال لیں تھیں مگر دو نو جوانوں کا کچھ پتہ نہ چل سکا تھا، ریسکیو1122نے آپریشن کا دائرہ وسیع کرتے ہو ئے سرچ آپریشن دو بارہ شروع کیا اور چار دن کی جدو جہد کے بعد مزید 2نو جوانوں زاہد محمود ولد شاہد عمر 24سال سکنہ جکراور اسد محمود ولد غضنفر عمر 29سال سکنہ چک جمال کی لاشیں نکال لیں۔

دونوں نو جوانوں کی میتیں گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا، پو رے علاقے میں سوگ کاعالم بر قرار، علاقہ کی ہر آنکھ اشکبار تھی ۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122جہلم انجینئر سعید احمد نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیموں نے چاروں ڈوبنے والے افراد کی لاشوں کو چار دن کے مسلسل سرچ آپریشن کے بعد دریا سے نکال کر لواحقین کے حوالے کر دیا ہے۔ ڈیڈ باڈیز کو ڈھونڈنے کے لیے ریسکیو 1122 جہلم کے غوطہ خوروں نے سرچ آپریشن میں حصہ لیا۔سرچ آپریشن کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے ڈوبنے والی جگہ سے 12 کلو میٹر تک کے علاقے کو سرچ کیا گیا۔

ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے بتایا کہ دریائے جہلم میں نہانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ دریا میں پانی کی سطح یکساں نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے ڈوبنے کا خطرہ ہر وقت موجود رہتا ھے اور اس سے قیمتی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ ڈوبنے کی ایمرجنسیز میں اضافہ اور قیمتی انسانوں جانوں کا ضیاع تشویشناک ہے ریسکیو آپکی مدد کو موجود ہے مگر احتیاطی تدابیراجتماعی سماجی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی دریا میں نہانے پر پابندی عائد ہے لیکن شہریوں کی جانب سے لاپرواہی کی وجہ سے لوگوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔لوگوں سے اپیل ہے کہ دریائے جہلم میں نہانے سے پرہیز کریں تاکہ کسی بھی قسم کے نقصان اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button