کالم و مضامین

پنڈدادنخان میں اینٹی کرپشن کی کھلی کچہری فوٹو سیشن یا حقیقت — تحریر: آصف حیات مرزا

کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑے بارہ آنے ۔۔پنڈدادنخان میں اینٹی کرپشن کی کھلی کچہری فوٹو سیشن یا حقیقت ۔۔محکمہ اینٹی کرپشن تو خود کرپشن کا بادشاہ ہے ۔ایک ارب روپے پانی کے منصوبے پر خرچ ہو گئے۔ عوام پھر بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔۔ گول پور پینے کے پانی کا مسئلہ سیاست کی نظر ہو گیا ۔۔تحصیل بھر میں تعمیر کی جانے والی سڑکیں اورگلیاں مکمل ہونے سے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔۔محکمہ مال نے کرپشن کے ریکارڈ توڑ دئیے ۔۔ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی ریجن عارف رحیم کی کھلی کچہری ایک امید کی کرن ۔۔کیاکرپٹ اہلکاروں کا محاسبہ کیا جائے گا ۔

کہتے ہیں کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار محکموں کے سربراہاں پر ہوتا ہے اگر ادارے کا سربراہ ایماندار اور انسانیت کا جذبہ رکھتا ہو تو اس محکمہ کے اہلکار کسی بھی کرپشن میں ملوث نہیں ہو سکتے، پاکستان میں کرپشن جب انتہا کو پہنچ گئی تو حکومت پاکستان نے کرپشن کو روکنے کے لیے محکمہ اینٹی کرپشن بنا ڈالا مقصد تو کرپشن کو روکنا تھا لیکن محکمہ اینٹی کرپشن کے قیام سے کرپشن کرنے والوں کو تحفظ مل گیا ۔رشوت کو روکنے والے رشوت لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے اگر کسی کرپٹ اہلکار کے خلاف شکایت کی جاتی ہے تو اس سے رشوت لے کر ایمانداری کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے اور مدعی کو دفتر کے اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ مدعی خود بھاگ جاتا ہے۔

ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی ریجن عارف رحیم کی کھلی کچہری پنڈدادنخان کی عوام جو کرپٹ اہلکاروں کے ظلم سے پسی ہوئی ہے کو ایک امید کی کرن نظر آئی ہے کہ کرپٹ اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچا کر عوام کو انصاف فراہم کیا جائے گا دیکھنا تو یہ ہے کہ کھلی کچہری میں شکایات کے جو انبار لگائے گئے ،کیا عارف رحیم عوام کی اس چیخ و پکار کا ازالہ کر کے اس پر ہونے والی کارروائی کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے لائیں گے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ نے دیہی علاقوں کو پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے اربوں روپے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا، اس سے غریب عوام کو تو پانی نہ ملا لیکن من پسند افراد کو فائدہ ضرور ملا گول پور کی عوام جو کہ ایک عرصہ سے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں انہیں پانی تو نہ ملا لیکن مقدمات ضرور مل گئے، اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کیا تو اسے سیاسی رنگ دے کر زندگی کی بنیادی ضرورت پینے کے پانی کے مسئلے کو جو ں کا توں چھوڑ دیاحالانکہ یہ سیاسی مسئلہ نہیں پانی انسان کی کی بنیادی ضرورت ہے اس مسئلے پر آج کھلی کچہری میں چیئرمین یونین کونسل گول پورڈاکٹر نصیر نے اہل علاقہ کے ہمراہ پانی کے مسئلہ پر اپنی فریاد پیش کی کہ گول پور میں پینے کا پانی سیاسی بنیادوں پر دیا جا رہا ہے اور عوام پینے کے پانی کو ترس رہی ہے اور اگر اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کیا جائے تو ایف آئی آر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چودہ سال سے نرومی ڈھن کے پانی کا منصوبہ التوا میں چلا جا رہا ہے جب کہ ایس ڈی او پبلک ہیلتھ خودکام کی نگرانی کرنے کے ساتھ ٹھکیداروں کو کام کرنے کے پیسے بھی ادا کر رہا ہے۔ ڈاکٹر نصیر نے کہا کہ پبلک ہیلتھ واٹر سپلائی سکیم میں کروڑوں روپے کی گرانٹ کے منصوبے کاغذی حد تک محدود ہے۔

معروف سماجی کارکن اور چیف ایڈیٹرروزنامہ انصاف ملک آ صف کھوکھر نے ہائی وے روڈ کی تعمیر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تحصیل میں جتنے بھی روڈ تعمیر کیے گئے ہیں ان میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے چند ماہ میں ہی مصری موڑ سے پنڈدادنخان تک بنائی جانے والی سڑک تباہی کے دہانے پر ہے اور روڈ کی سائیڈوں پر نکاسی آب کے نالے تعمیر کیے بغیر رقم کی ادائیگی کر دی گئی۔

ایک اور سائل ممتاز حسین نے کہا کے سول ہسپتال کے کلرک کے خلاف درج مقدمہ میں مبینہ طور پر ملی بھگت سے میری ایف آئی آر خرج کر دی گئی ایک اور سائل محمد فاروق نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ مال پر پراپرٹی ڈیلروں کا راج ہے وہ جب چاہے جیسا چاہے کروا لیں ۔انہوں نے کہا کہ میری ہمشیرہ کے نام سے جعلسازی کر کے زمین منتقل کر لی گئی اور بار بار فریاد کرنے کے باوجود ہماری کسی نے نہ سنی۔

کھلی کچہری میں یوں تو لوگوں کی فریادوں کا ڈھیر لگ گیا لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ڈائریکٹر اینٹی کرپشن عارف رحیم ان مظلوم لوگوں کو انصاف دلا پائیں گے یاان کی آواز دوسرے محکموں کی طرح کاغذی کاروائی بن کر فائلوں میں دب کر رہ جائے گی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن عارف رحیم نے کہا کہ اگر کسی محکمہ کا اہلکار آپ کے ساتھ تعاون نہ کرے تو میرے دروازے ہر خاص و عام کے لیے کھلے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button