کالم و مضامین

حلقہ پی پی 26اور پی ٹی آئی — تحریر: محمد شہباز بٹ

حلقہ پی پی 26میں انتخابی مہم تیز ہو گئی ہے تمام امیدوار جوڑ توڑ میں مصروف ہیں اگر پاکستان تحریک انصاف کے اس حلقہ سے امیدوار چوہدری ظفر اقبال کی بات کریں تو انکو ٹکٹ ملنے پر پی ٹی آئی کے کچھ کارکنان نے تحفظات کا اظہار کیا اپنی ہی جماعت کے سابق امیدوار نے کے کاغذات چیلنج بھی کیے جو الیکشن ٹربیونل نے مسترد کر دئیے ہیں اور چوہدری ظفر اقبال کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی ہے۔

سوال یہ اٹھتا رہا کہ انکو ٹکٹ کیوں دیا گیا،کیا وہ اسمبلی میں حلقہ کے عوام کی بہتر انداز میں نمائندگی کر سکتے ہیں؟ ٹکٹ کے حوالہ سے مختلف چگ مگوئیاں کی گئی جو تاحال جاری ہیں،خلائی مخلوق کا بھی ذکر کیا گیا، 2013کے عام انتخابات میں بھی چوہدری ظفر اقبال کو ہی ٹکٹ جاری ہوا تھا لیکن دوہری شہریت کی وجہ سے انکی جگہ انکے قریبی عزیز چوہدری عابد نے الیکشن لڑا اور اٹھائیس ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے اسوقت کسی نے انکے ٹکٹ پر اعتراض نہ کیا بلکہ اب کی بار اعتراض کرنے والے پی ٹی آئی کے متعدد راہنماء گزشتہ عام انتخابات میں انکی مہم چلاتے رہے۔

میرے خیال میں چوہدری ظفر اقبال ایک شریف انسان ہیں جو ملکی سیاست میں کردار ادا کرنے کے لیے برطانوی شہریت ترک کرکے واپس آئے اگر انکو موقع ملا تو وہ صوبائی اسمبلی میں بھی اپنے حلقہ کے عوام کی آواز بنیں گے،چوہدری یاسر کے آنے سے انکی انتخابی مہم بھی تیز ہو گئی ہے تشہیری مہم میں بھی اضافہ ہوا ہے اور جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔رہی بات پی ٹی آئی کے ناراض کارکنوں کی تو یہ انکا حق بنتا ہے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنان نے مسلم لیگ ن کے ورکرز گروپ کی طرف احتجاج نہیں کیا بلکہ تحفظات سے مرکزی قیادت کو آگاہ کیا۔

انتخابی دنگل شروع ہونے سے قبل بھٹیاں میں چوہدری نصر کی طرف سے دئیے گئے عشائیہ میں چوہدری ظفر،عثمان چوہان،ندیم افضل بنٹی،حمزہ کرمانی،میجر آصف سمیت ٹکٹ کے لیے درخواستیں دینے والے تمام افراد نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ قیادت کا فیصلہ قبول ہو گا جسکو ٹکٹ ملے گا پی ٹی آئی کے تمام کارکنان اسکی سپورٹ کریں گے۔

اب جبکہ پی پی 26کا ٹکٹ چوہدری ظفر اقبال کو جاری ہو چکا ہے تو پی ٹی آئی کے درینہ کارکنوں کی ناراضگی سمجھ سے بالاتر ہے چوہدری ظفر اقبال سمجھدار اور شریف انسان ہیں انکو ناراض ہونے والے تمام راہنماؤں سے رابطہ کرنا چاہیے کیوں کہ انکا مقابلہ سخت سیاسی حریفوں سے ہے وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button