یوم مئی اور پاکستان ! — تحریر: پروفیسر افتخار محمود

0

عمومی تاریخ کے مطابق آج سے 130سال قبل امریکہ کے شہر شکاگو میں صنعتی مزدورں کو اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے احتجاج کی پاداش میں فائرنگ کا نشانہ بنا یا گیا جس کے نتیجے میں عظیم مزدور جام شہادت نوش کر گئے ۔ ان محنت کش شہدا کی یاد میں دنیا بھر کے صنعتی اور زرعی مزدور اور محنت کش ہر سال یکم مئی کے روز عالمی سطح پر ایک دن مناتے ہیں اور ان شکاگو کے محنتی شہدا کو نہ صرف خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے مزدور کے استحصال کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لائحہ عمل پر غور کیا جاتا ہے ۔

زیر نظر مضمون بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر زندگی میں پہلی مرتبہ زیر تحریر لا رہا ہوں تا کہ گزشتہ 37سالوں کے عقلی سفر کے نتیجے میں جو کچھ سیکھا یا سمجھا ہے اس کو اپنے قارئین محترم کو پیش کر سکو ں ۔ مزدور اور کمزور کا استحصال آج سے لاکھوں سال قبل ا س وقت ظہور پذیر ہو گیا تھا جب انسان قدیم ابتدائی اشتراکی ( سوشلسٹ ) بے زر نظام معیشت سے نکل کر زندگی کے نئے نجربات کی طرف سفر کا آغاز کر رہا تھا اور نجی ملکیت کی شروعات ہو رہی تھی اور انسان اپنے پہلے معاشی نظام کے بعد دوسرے زری قبائلی غلام داری سماج میں داخل ہو رہا تھا ۔ اُس وقت کمزور طاقتور انسانوں کے سامنے مویشی اور جانوروں کی طرح رکھے ، خریدے اور بیچے جاتے تھے ۔ وقت کے ارتقاء کے ساتھ روایت آہستہ آہستہ ختم ہو گئی اس کے بعد نظام مبادلہ کا سلسلہ بھی روانہ ہو گیا جس اشیاء و خدمات کی قدر کی مطابقت کا مسئلہ آڑے آیا تو انسان نے زر کی ایجاد کی اس زر کی آمد کے ساتھ ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کی لعنت کا سلسلہ شروع ہو ا اب قبائلی معاشرہ غلام داری سماج میں تبدیل ہونے لگا اس کے ساتھ ساتھ پہیہ کی ایجاد سامنے آئی اس طرح انسان بنیادی زرعی معاشرت سے صنعتی معاشرت کی طرف رواں دواں ہو گیا ۔

نجی ملکیت سب سے پہلے زمین سے شروع ہوئی بعد میں تمام ذرائع پیداوار انسانوں کی نجی ملکیت میں چلے گئے جاگیرداری اور سرمایہ داری نظام معیشت سامنے آئے یہ ایک طویل سفر کا نتیجہ ہے کہ آج بھی دنیا کی نصف سے زائد آبادی اس گلے سڑے استحصالی نظام کے چنگل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ انسان کی غلامی کے مظائر پوری دنیا میں آج بھی کرو فر سے موجود ہیں ۔ اس صورت حال میں جہاں کلاسیکل اور نو کلاسیکل سرمایہ داری نظام کے حامی معیشت دان آدم سمتھ ،الفریڈ مارشل ،رابنز، ڈیوڈ ریکارڈووغیرہ پیدا ہوئے وہیں لا کھوں سال ابتدائے انسانیت کے وقت موجود اشتراکی نظام کوجدید انداز میں متعارف کرانے معروف معیشت دان کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز جیسے انقلابی معیشت دان بھی سامنے آگئے ۔کارل مارکس نے اپنی پوری شعوری زندگی کے شب و روز لند ن میوزیم لائبریری کو دے دیے اور تحقیق کا نچوڑ ایک بڑی کتاب ’’ سرمایہ ‘‘ کی شکل میں دیا اور دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ انسانی ترقی کی بنیادی صرف زر یا نجی ملکیت نہیں ہے بلکہ انسانی محنت اصل میں بنیاد ہے شاید اسی نئے نظریے کی وجہ سے مفکر پاکستان دانائے راز علامہ محمد اقبال نے کارل مارکس کے متعلق کچھ اس طرح کہا تھا :

آں کلیم بے تجلی ، آں مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبرولیکن در بغل دارد کتاب

کارل مارکس کی طرف سے دیے گئے فلسفے کے نتیجے میں 1917ء میں پرولتاری (محنت کش ) رہنما لینن کی قیادت میں سوویت یونین ( روس ) میں اشتراکی انقلاب بر پا ہوا ۔ دنیا بھر میں محنت کی اہمیت واضح ہوئی پوری دنیا میں یہ بات سامنے کاآئی کہ حکومت کا فرض صرف جنگ و جدل اور دولت پرستی نہیں ہے بلکہ انسانوں کی فلاح اور ترقی بھی اس کے فرائض میں شامل ہے ۔ آج ہم دنیا بھر میں محنت کشوں کا دن منا کر ایک رسم ادا کرتے ہیں لیکن اپنے وطن پاکستان میں غیر کاشتکار ، اور دیگر محنت کش طبقات کی دگر گوں حالت پر کبھی غور نہیں کیا گیا بلکہ چند بڑے شہروں میں جلسے یا جلوس نکال کر دل کا بھڑاس نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے بس مسائل کی نشان دہی کی جاتی ہے پاکستان کی بڑی مزدور تنظیمیں ان تقاریب کا اہتمام کرتی ہیں اس طرح یوم مئی گزر جاتا ہے ۔ زیر نظر سطور میں نہ صرف پاکستان کے محنت کش طبقات کے مسائل کو پیش کرنے کی جسارت کی جارہی ہے بلکہ ان مسائل کا دائمی حل بھی تجویز کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے شاید کسی کے دل میں یہ بات اتر ہی جائے اور وطن عزیز کو ورثے میں ملنے والے سرمایا دارانہ اور جاگیردارانہ معاشی نظام سے نجات ملنے کی کوئی کرن پھوٹ نکلے ۔

قارئین کی اطلاع کے پاکستان میں تین سال قبل ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق 20,58,200افراد قرضوں کے چنگل میں پابند زندگی گزار رہے تھے ۔اس طرح پاکستان آج بھی پابند اور مجبور مزدوروں کی تعداد کے حوالے سے دنیا بھر کے 193ممالک میں سے تیسر ا بڑا ملک تصور کیا جاتا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار تو میسر نہیں آسکے لیکن پھر بھی دستیاب معلومات کے مطابق 4.5ملین لوگ مجبور محنت کی زندگی گزار رہے ہیں اسی طرح پاکستان میں محنت کش طبقات کی کئی اقسام ہیں ان میں صنعتی شعبے میں بٹھہ خشت پر کام کرنے والے عموماً پیشگی قرضے کے عوض مجبور محنت کرتے ہیں ۔ انہیں انگریزی میں Bonded labourerکا نام دیا جاتا ہے بین الاقوامی مزدور تنظیم کے مطابق ایک مجبور مزدور وہ ہوتا ہے جو پیشگی قرضہ وصول کرتا ہے اور اس کے عوض کئی کئی گھنٹے محنت لی جاتی ہے یہ سلسلہ قرضے کی واپسی تک جاری ہے یا پھر قرضے کی آڑ میں دھمکی اور تشدد کے ذریعے محنت لی جاتی ہے ۔وطن عزیز پاکستان کی حالت محنت کش کے حوالے سے بہت ابتر ہے ۔

اس وقت مجبور مزدوروں یا محنت کشوں کی زیادہ تر تعداد بھٹہ سازی ، قالین بافی ، کان کنی ، ماہی گیری اور زراعت کے شعبے میں مخفی بے روزگار لوگ مزارعین ، گھریلو ملازمین وغیرہ کی اشکال میں موجود ہیں ۔ یہاں یہ بتانا انتہائی ضروری سمجھتا ہوں کہ ہماری پاکستان کے آئین کی شق نمبر 34کے مطابق کسی کو مجبور کر کے محنت لینا سخت منع ہے اسی طرح شق کی نمبر 25کے ایکٹ 1(2)کے مطابق ایک مزدور کو مجبور کرکے محنت کا استحصال کرنے سے روکتی ہے اسی شق کے ایکٹ 1(1)کے مطابق انسانی غلامی قطعً منع ہے اس کے باوجود پاکستان میں غلامی کی اقسام کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے ۔ پھر ایکٹ 9کے مطابق کوئی کسی کو مجبور نہیں کرسکتا ہے کہ اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارے ۔ پاکستان میں بچہ مزدوری بھی زوروں پر ہے ایک تازہ سروے کے مطابق 4کروڑ بچے سکول نہیں جا سکتے اور 10سال پہلے کے اعداد شمار کے مطابق ہرشعبے میں بچوں کی مزدوری کا خاکہ ذیل میں پیش ہے :

گزشتہ سال وفاقی ادارہ برائے شماریات کی طرف سے دیے گئے اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں 5-14سال تک کی عمر کے 40ملین بچے موجود ہیں ان میں سے 3.8ملین بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں ان میں 50فیصد بچے 5-9سال کی عمر کے ہیں اور معاشی کفالت میں شامل ہیں ان میں سے 2.7ملین بچے زراعت کے شعبہ کے منسلک ہیں ان سب کا 73فیصد لڑکے ہیں ۔ مقصد مقدمہ یہ ہے کہ ہم آج اپنے ملک کی 70سالہ تاریخ میں بڑے افراد کے ساتھ ساتھ اتنے بچوں کو محنت مزدوری کی شکل میں کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ اس سوال کا جواب دینے کی غرض سے راقم الحروف نے یوم مئی کے عالمی دن کے موقع پر اس پورے عنوان کا انتخاب کیا ہے جو از حد لازمی ہے کیونکہ اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ پیش کرنا قارئین کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا اس لیے مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ اصل میں حل پیش کرنا مقصد ہونا چاہیے جس پر عمومی طور پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ روایتی انداز میں مسائل کا حل قارئین پر چھوڑ دیا جاتا ہے شعور کے اعتبار سے یہ اصول کچھ درست محسوس نہیں ہوتا ۔ اس لیے اب بات پاکستان کے 95فیصد محنت کش طبقات کے استحصالی مسائل کے حل کی ۔

اس وقت دنیا میں تین قسم کے معاشی نظام رائج ہیں ان میں سرمایہ دارانہ نظام ، دوسرا اشتراکی نظام معیشت اور تیسر ا مخلوط نظام معیشت ہے ۔ پہلے نظام معیشت کو ہمارے قارئیں اچھی طرح جانتے ہیں کیونکہ پاکستان میں شروع سے اب تک جاگیر داری ، سرمایہ داری اور آزاد منڈی کی معیشت کے نظام پورے آب و تاب سے موجود ہیں ہر کوئی مالی اعتبار سے مادر پدر آزاد ہے مال یا ملکیت کی کوئی حد نہیں دوسرے طرف کرپشن کے متعلق بلا وجہ ایک شور سننے میں آتا رہتا ہے ۔ کچھ حلقے پاکستان میں موجود نظام معیشت کو مخلوط گردانتے ہیں جس کے مطابق حکومت اور نجی شعبہ مل کر ترقیاتی منصوبے مکمل کرتے ہیں ۔

بیان کردہ دونوں نظام ہائے معیشت میں عوام کو حـکومت کی طرف سے بنیادی حقوق (رہائش ، روزگار، تعلیم اور صحت )کے حوالے سے کوئی ضمانت نہیں دی جاتی ہے جس کے نتیجے میں حکمران لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں تو عوام لٹوانے پر مجبوررہتے ہیں ۔ اب بات ذرا اشتراکی ( سوشلسٹ ) نظام کی جس میں ذرائع پیداوار پوری قوم کی ملکیت میں ہوتے ہیں ۔ استحصال سے پاک ایک معاشرہ ترتیب پاتا ہے ۔ ذرائع پیداوار مادی کی بات ہے کیونکہ مخالفین پروپیگنڈہ باز ان ذرائع میں انسانی ذرائع کو بھی شامل کر کے پیش کرتے ہیں ۔ معروف معیشت دان کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے جدید اشتراکی معاشی نظام میں ذرائع پیداوار کی بات کی ہے جن میں زمین یعنی زمین کے اوپر اور اندر کے تمام ذرائع سمندر، دریا ، فضا ، معدنیات وغیرہ اس کے بعد سرمایہ کا ذکر کہ ملک کی ساری زری دولت حکومت کی ملکیت میں چلی جاتی ہے کوئی کسی کو لوٹ نہیں سکتا ۔ محنت کو پوری عوام پر تقسیم پر کر دیا جاتا ہے ۔

عوامی چین جمہوریہ چین کے بانی چیئر مین مائوزے تنگ نے اصول دیا تھا کہ’’ ایک چیز سب کے لیے اور سب چیزیں ہر ایک کے لیے‘‘ یعنی زمین اور زر قومی ملکیت میں ہوتی ہے کوئی انفرادی طور پر کسی محنت کے بل بوتے پر نکما ہو کر زندہ نہیں ہوتا ۔روزگار ، رہائش ، یکساں معیار کی تعلیم ، اور یکساں معیار کی صحت کی سہولت ہر ایک کے لیے مفت فراہم ہوتی ہے کوئی لوٹنے والا رہتا ہے نہ کوئی لٹوانے والا ۔ صرف اور صرف نجی ملکیت کی بیخ کنی کر دی جاتی ہے ۔ آج پاکستان کے پسے ہوئے محنت کش عوام کے مسائل کا حل اگر ہے تو صرف اور صرف اشتراکی ( سوشلسٹ ) نظام معیشت کے اندرمضمر ہے ۔

یوم مئی کو منانے کا تقاضا یہ ہے کہ عوام کو اس بات سے بیدار کیا جائے کہ جب مذکورہ نظام معیشت نافذالعمل ہو گا تو جن چار کروڑ کے سکول نہ جانے والے بچوں کا ذکر کیا گیا یہ سب سکولوں میں ہوں گے اور ذہین و فطین بچے نصابی علم سے آراستہ ہوں لیکن کند ذہن بچے برابر میں فنی تعلیم سے آراستہ کیے جائیں گے تو اس لیے ہمارے بائیں بازو کو مخلص انداز میں یہ تعلیم عام کرنے کی سعی کرنا چاہیے تا کہ عوامی شعور بیدار ہوسکے ۔ عوام حکومت کی تبدیلی کو مسائل کا حل تصور نہ کریں بلکہ نظام معیشت کی تبدیلی کی بات کی جائے اور بنیادی حقوق کی ضمانتیں حکومت سے طلب کی جائیں عوام کو پتا چلے کہ جس ملک سے CPECکے معائدے کررہے ہیں اس کی معاشی ترقی کا اصل راز کیا ہے اور پھر یہ نظام اگر پاکستان میں نافذ ہوجائے تو پاکستان بھی سری لنکا ، ملائیشیا ، اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو سکتا ہے ۔

ای میل : [email protected]
فون نمبر :0301/03065430285

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.