جہلم

موجودہ حالات کے پیش نظر پولیس کی از سر نو تشکیل نا گزیر ہو گئی۔ خصوصی رپورٹ

جہلم: کسی بھی معاشرے میں امن و امان کا قیام ، قانون کے نفاذ ، جرائم کے سد باب حکومتی عمل داری کو یقینی بنانے کے لئے پولیس کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے موجودہ حالات کے پیش نظر پولیس کی از سر نو تشکیل نا گزیر ہو چکی ہے ۔

جہلم سمیت ملک بھر میں پولیس کی تشکیل اور عملے کی تربیت عمومی اور روائتی جرائم سے نمٹنے کے لئے عمل میں لائی گئی تھی مگر معاشرے میں تیزی سے فروغ پاتے طاقت ور اور بے رحم منظم جرائم پیشہ عناصر نے عمومی اور روائتی جرائم پر قابو پانے والی پولیس کو للکارنا شروع کر دیا ۔

معاشرے میں سنگین بھیانک جرائم میں روز بروز اضافہ ہونے کے باوجود آج کے جدید ، ترقی یا فتہ دور میں معاشرے میں سفاک مجرموں اور منظم جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی کے لئے پولیس اہلکاروں کو وردی اور ایک وزنی بندوق تھما کران جرائم پیشہ افراد کے سد باب کے لئے تھانوں کی حدود میں چھوڑ دیا جاتا ہے اکثر اہلکار ایک چھڑی کا سہارا لے کر گشت کرتے نظر آتے ہیں ان اہلکاروں کو دیکھتے ہوئے آج سے چار دہائیاں قبل کی باتیں یاد آنے لگتی ںہیں جب ایک پولیس اہلکار ’’پورے پنڈنوں اگے لا کے تھانڑے لے آندا سی‘‘ عوام میں قانون کی اتنی دھاک تھی کہ کسی گاؤں میں کوئی پولیس اہلکار چلا جاتا تو اس گاؤں سمیت آس پاس کے دیہاتوں میں بھنک پہنچ جاتی کہ فلاں گاؤں میں پولیس آئی تھی معاشرے میں قانون کی بالا دستی قائم تھی۔

پولیس اہلکار بھی کرپشن سے بے نیاز اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے پورا انصاف کرتے نظر آتے تھے۔ آہستہ آہستہ پولیس کو معاشرے کے طاقتور طبقے نے معاشرے میں اپنی دھاک بٹھانے کے لئے استعمال کرنا معمول بنا یا۔ پولیس اہلکار اور افسر ان کی ڈیوٹی کا کھٹن شیڈول ان کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے ایک تفتیشی افسر کا صبح 6 بجے اْٹھ کر مقدمات کے سلسلہ میں کچہریوں کا رخ کرنا اور پورا دن معزز عدالتوں کے دروازوں پر کھڑا رہنا ، دوپہر 1 بجے سے 2 بجے تک عدالتوں میں پیش ہونا پھر تھانوں میں زیر تفتیش مقدمات کی تفتیش کرنا اور گشت ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے رات12 بجے تک کا وقت صرف کر نا پڑتا ہے۔

بعض اہلکار اور افسران کی ڈیوٹی کا کوئی وقت تعین نہیں اگر پولیس اہلکاروں کے حالات اور سہولیات کا جائزہ لیں تو اکثر تھانوں اور چوکیوں کا تنگ و تاریک حبس زدہ ماحول، غیر معیاری دفاتر، پینے کے صاف پانی کا ناقص انتظام ،سٹیشنری کی عدم دستیابی ، جدید کیمپیوٹر ، انٹرنیٹ فیکس کی سہولیات کی عدم دستیابی تھانوں اور چوکیوں میں روائتی انداز میں کام کاج ہوتا نظر آئے گا۔

شدید مشقت اور تناؤ کے اس ماحول میں فرائض ادا کرنے پرمجبور بعض افسران و اہلکار اپنے اعصا ب کو سکون پہنچانے کے لئے نشہ آور ادویات کا غیر ضروری استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں بے ہنگم طرز زندگی محدود تنخواہ ، وسائل و صحت کی سہولتوں کے فقدان کے باعث بیشتر پولیس اہلکار متعدد امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، غیر معیاری خوراک اور کمزور نظم و نسق بعض پولیس اہلکار بے ہنگم جسم کے مالک جب کہ بعض کمزور اورنحیف نظر آ تے ہیں ملک کا اہم اور حساس شعبہ محکمہ پولیس کے ڈھانچے میں اصلاحات ،نظم و نسق ، حالات کا بہتر بنانے، بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر کما حقہ توجہ نہ دی گئی۔

محکمہ پولیس کو حالات کے مطابق استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ایک پولیس اہلکار کیونکر اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کر سکے گا جس کے ذہن میں معاشرتی طاقتور طبقے اعلیٰ افسران کے شوکا ز نوٹس مدعی مقدمہ یا الزام علیہان کی طرف سے درخواستوں کی بھرمار کے خوف کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں ، ایک پولیس اہلکار کو قانون کی وردی کی طاقت تو بخش دی گئی ہے مگر اس سے قانون کی طاقت چھین لی گئی ہے موجودہ حالات میں پولیس اہلکار اپنے فرائض کی ادائیگی سے زیادہ اپنی ملازمت کے دن پورے کرنے کی تگ و دو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امن و عامہ کے دیر پا قیام اور جرائم کی سرکوبی کے لئے پولیس کی از سر نو تشکیل کی جائے جس میں عسکری طرز کی تربیت ، اعلیٰ نظم و ضبط معقول تنخواہ و مراعات، معیاری خوراک ، علاج و معالجہ ، کھیل کود اور تفریخ کے مواقع ، عام رخصت ، سالانہ رخصت ، پیشہ وارانہ تربیت ، جدید ترین اسلحہ ، نقل و حمل کے جملہ وسائل کی فراہمی ،ڈیوٹی کے اوقات کا رکا تعین کرنے جیسی اصلاحات کر کے ہم اپنی پولیس سے خاطر خواہ کامیابیاں معاشرے میں پیشہ وارانہ جرائم اور برائیوں کی بیخ کنی کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔

عوام او ر پولیس کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کر سکتے ہیں ، پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کا مضبوط رشتہ جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے جو محکمہ پولیس کے ساتھ ساتھ عوام کی بنیادی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button