سوشل میڈیا اور صحافت — تحریر: احسن وحید

0

ایک دور تھا کہ ایک ہفت روزہ اخبار میں خبر لگانے کے لیے پیج میکر سے لے کر ایڈیٹر تک سب کے ساتھ تعلق بنانے کو اہیمیت دی جاتی تھی اور کوشش کی جاتی تھی فرنٹ پر بڑی خبر نہ صیح سنگل کالم ہی لگ جائے اور کسی کا بیان لگا ہو تو اگلے دن اس اخبار کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پڑھایا جاتا تھا اور لوگ اس خبر کو ڈسکس کرتے تھے تب بڑے اخبارات بھی بہت محدود ہوا کرتے تھے اور لوگ بھی بڑے شوق سے اخبارات کا مطالعہ کرتے تھے۔

اخبار تیار کروانے والے بہت دلچسپی سے اخبار کی ایک ایک خبر کی کانٹ چھانٹ کرتے تھے کسی کی خبر اگلے دن اخبار میں لگنے سے رہ جائے تو وہ صحافی پریشان ہوتا تھا اور اپنی خبر کو بار بار پڑھتا تھا کہ آخر کیا وجہ میری خبر لگنے سے رہ کیوں گئی، الیکٹرانک میڈیا میں پی ٹی وی ہی ہوا کرتا تھا تب پی ٹی وی کی خبروں میں بھی صحافت نظر آیا کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ ترقی ہوتی گئی اخبارات کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا میں بھی اضافہ ہوا اچھی اور معیاری صحافت دیکھنے کو ملتی کسی علاقے کا کوئی مسئلہ اخبار میں شائع ہوتا تو ادارے اس کا نوٹس لیتے ایک سنگل کالم خبر پر بھی ایکشن ہوتا اور اگر چینل پر کسی کے خلاف کوئی ٹکر چل جاتا تو اس کے خلاف سخت سے سخت محکمانہ کاروائی ہوتی وقت گزرتا گیا۔

اخبارات کو کمائی کا ذریعہ بنایا جانے لگا اور اے بی سی سرٹیفائیڈ اور میڈیا لسٹ پر اخبارات کا نہ ہونا کوئی معنی نہ رکھتا بس رپورٹر بھرتی کرو کیونکہ رپورٹر کے لیے بس اتنا معیار ہی کافی تھا کہ وہ چند اخباریں منگوا لے اور اس کا بل باقاعدگی سے دے اور بس اپنے اعلان تقریری کے اشتہارات لگوائے باقی تو اس نے خود ہی کمائی کرنا ہے جتنے اشتہار لگوائے گا خود بھی کمائے گا اخبار کے مالک کا بھی پیٹ بھرے گا ۔

آغاز میں تو رپورٹر اشتہار کے پیسے دے کر اشتہار لگوا دیتا آہستہ آہستہ رپورٹر بھی سمجھدار ہوتے گے بس آسامیاں نظر میں رکھنی ہوتی ہیں اور پھر کیا کوئی سرکاری دن آنے سے قبل اس کے چار پانچ بیانات لگوا دیے اور اس کو اخبار کی کٹنگ یا اخبار بجھوا دی اور پھر جیسے ہی کوئی سرکاری دن پاس آیا مثلا چودہ اگست ۔۔عید ۔23 مارچ وغیرہ تو صرف کال کرنی کہ آپ کا اتنے ہزار کا اشتہار لگوا رہا ہوں کیونکہ اس کے چند دن قبل ہی بیانات لبے ہوتے ہیں اس کی بھی مجبوری بن جاتی ہے کہ ٹھیک ہے لگوا دیں اشتہار تو لگے نہ لگے رپورٹر کی دیہاڑی لگ جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ اخبارات کی بھر مار ہوئی دیکھتے ہی دیکھتے ٹی وی چینلز کا ایک سمندر رجسٹر ہو گیا۔

پھر کیا تھا شہروں میں صحافیوں کی فوجیں بننا شروع ہو گئیں اور پانچ پانچ ۔۔چار چار اپنے مزاج سے ملتے جلتے صحافیوں کے گروپ بننا شروع ہو گے بس ایک خبر بناتا باقی سب کی اخبارات میں لگ جاتیں اور جس گروپ کے پاس جتنی زیادہ اخبارات یا ٹی وی چینل کے لوگو ہوتے وہ گروپ اتنی زیادہ اپنے علاقے میں دہشت پھیلا دیتا وقت کے ساتھ ساتھ سیاسیوں سے پیسے نکلوانے کے نئے طریقے بھی ایجاد ہونا شروع ہو گے اور پھر صحافیوں نے پریس کلبوں اور تنظیموں کے ناموں کا لبادہ اوڑنا شروع کر دیا اور پھر اب گروپوں نے رقم اپنے ممبر کے حساب سے بڑھاتے ہوئے پریس کلب کی فیس کے نام سے لینا شروع کر دی۔

یہ تو ہو گئے وہ لوگ جو صحافی تو کہلوتے ہیں پر حقیقت میں صحافت سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا اب وہ بھی صحافی ہیں جو اپنی محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور رپوٹنگ صحافت ان کا جنون ہوتا ہے اور کسی بھی بڑی سے بڑی کرپشن ۔ناانصافی۔۔ظلم ۔۔زیادتی کے عوامی مسائل کو قلم کی سیاہی سے رنگدار کرنے سے انہیں نہ تو کوئی دھمکی روک سکتی ہے اور نہ ہی پیسوں کی چمک اور لالچ ان کو مضبوط ارادوں کو کمزور کر سکتی ہے لیکن افسوس آج ایسے صحافی ایسے رپوٹر گنتی میں رہ گئے ہیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ جہاں اس مقدس پیشے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کمزور کرنے کی کوشش کی گئی وہی سوشل میڈیا کے آنے سے جہاں اس پیشے سے وابستہ لوگوں کو فائدہ اور آسانی ہوئی وہیں وہ لوگ جو صحافت کا لبادہ اوڑھے اس پیشے کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے ان کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ۔۔

مجھے ایک بہت پرانی بات یاد آ گئی کہ ایک دفعہ مجھے میرے ایک استاد نے کہا تھا کہ وی سی آر بری چیز نہیں بس فرق صرف یہ ہے کہ اس میں اگر اچھی چیز لگاو گے تو وہ تمہیں فائدہ دیگی اب یہ تم پر ہے کہ تم اس کا استعمال کیسے کرتے ہوئے ۔ میری نظر میں سوشل میڈیا اور صحافت کا دور دور تک ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں لیکن قربان جاو ایسے لوگوں پر کہ جو ایک صحافی کی ذاتی وال پر اس کی پوسٹ کو بھی صحافت سے جوڑ دیتے ہیں ایسے ہی مسائل کا سامنا ہر اس صحافی کو ہے جو حقیقی معنوں میں صحافی ہے لیکن اس کی سوشل میڈیا کو اس کے پیشے سے جوڑ کر اس کی کردار کشی کرنے والوں کا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن کیا کریں۔

الیکٹرانک میڈیا کی بھر مار کی وجہ سے ہر دوسرا شخص سوشل میڈیا پر اپنے ادارے کا نام لے کر پوسٹ لگا دیتا ہے جس سے دیکھنے والے کو یہی تاثر جاتا ہے کہ یہ بھی اچھا صحافی ہے جبکہ اس کی وہ پوسٹ صرف اور صرف اس کے فرینڈ لسٹ میں موجود لوگوں تک ہی محدود ہوتی ہے ۔اس مقدس پیشے کو در پیش اس زوال کا کون ذمہ دار ہے افسوس کہ اس کا تعین کرنے والے خود سوشل میڈیا کے صحافی ہیں جنہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ صحافت کا نقصان ہو رہا ہے اور معاشرے کے اس ستون کو سوشل میڈیا دھمیک کی کھا رہی ہے ۔۔دعا ہے کہ اللہ پاک سوشل میڈیا کے صحافیوں سے چینلز اور اخبارات کے اصل صحافی کو محفوظ رکھے ۔۔آمین

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.