نئی تعلیمی پالیسی کے لیے اہم تجاویز — تحریر: احسان شاکر

0

پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے پنجاب کے تعلیمی معیار کا بہتر ہونا بہت زیاد ہ ضروری ہے کیونکہ یہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔پنجاب میں تعلیم کا موجودہ معیار کیا ہے؟ اس کا اندازہ سرکاری اعداد وشمار کے بجائے اگر عملی طور پر بچوں کے تحریری اور زبانی جائزہ لے کر کیا جائے تو مناسب ہوگا۔چنانچہ نئی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے سے قبل ضروری ہے کہ مختلف اضلاع کے اساتذہ، افسران اور اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کے زبانی اور تحریری امتحانات بھی لے لیے جائیں تاکہ نئی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کے لیے زمینی حقائق مد نظر رہیں ،یہ تعلیمی پالیسی طویل عرصے کے لیے کار آمد ہوسکے اوراس کی بدولت بہترین نتائج بھی برآمد ہوں ۔اس سلسلے میں چند اہم تجاویز اور سفارشات جو پنجاب بھر کے اساتذہ،افسران اور اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد سامنے آئیں وہ یہ ہیں ۔

1۔’’سی ایم روڈ میپ‘‘ کے نام سے ایک پروگرام متعارف کرایا گیا جس میں تعلیم کی بہتری کے لیے کئی Indicators کی مدد سے مختلف اضلاع کی رینکنگ کے لیے ایک نظام بنایا گیا ۔اس نظام میں جہاں دیگر خامیاں موجود ہیںوہاں ایسی خامیاں بھی موجود ہیں جو تعلیمی معیارکے گرنے کی اصل وجوہات ثابت ہوئیں۔مثال کے طور پراس نظام کے تحت سکولوں میں طلبا وطالبات کی حاضری کو 90 فیصد تک لانے کے لیے کہا گیا ۔یہ ٹارگٹ سکولوں میں عملی طور پر حاصل کرنا ناممکن تھا کیونکہ جب بھی موسم بدلنے پر بچے بیمار ہوتے ہیں ان کی بیماری کی وجہ سے ان کے والدین ان کو سکول سے ضرور چھٹی کرواتے ہیں،گائوں میں اکثر کاشتکاروں کے بچے سکولوں میں پڑھتے ہیں جب گندم اور دیگر فصلوں کی کاشت اور کٹائی کا موسم آتا ہے تو ان کے والدین ان کو ضرور چھٹی کراتے ہیں۔ گائوں میں میلے اور اکھاڑے آج بھی منعقد ہوتے ہیں ان میلوں اور اکھاڑوں میں بھی گائوں کے لوگ زور و شور سے شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان دنوں میں بھی بچوں کی چھٹی یقینی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ دیہاتوں میں خوشی اور غمی کے مواقع پر بھی بچے چھٹی کرکے گھروالوں کو کام کاج میں مدد کرتے ہیں۔

بعض دیہاتی علاقے ایسے بھی ہیں کہ جہاں بچوں کو سکول جانے کے لیے کوئی دریا،نہر یا نالہ عبور کرنا پڑتا ہے یا پھر ان کے گھروں سے سکول تک کا راستا کچا اور اس قدر خراب ہوتا ہے کہ بارش کے دنوں میں ہفتہ بھر ان کا سکول جانا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔اسی طرح شہروں میں بھی کئی ایسے مسائل درپیش آتے ہیں جن کی بدولت بچے سکولوں سے چھٹی ضرور کرتے ہیں ۔اس صورت حال میں بچوں کی 90 فیصدحاضری ناممکن دکھائی دیتی ہے۔اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ( پاکستانی افواج سے ریٹائرڈ فوجی) MEAs ہر ماہ سکول کا ایک دن معائنہ کرنے ضرور جاتے ہیں ۔اس دن اگر سکول میں بچوں کی حاضری اوپر بیان کردہ وجوہات کی بنا پر 90فیصد سے کم ہو تو اس سکول کے ہیڈ ٹیچرز اور جن جماعتوں میں حاضری کم ہو ان کے کلاس ٹیچرز کوذمہ دار ٹھہرا کر انھیں شوکاز نوٹسز جاری کردیے جاتے ہیں۔ حالانکہ وہ بچوں کی چھٹی میں کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں ہوتے کیونکہ موجودہ پالیسی کے مطابق وہ بچوں اور بچوں کے والدین کو کسی بھی طرح مجبور نہیں کرسکتے ہیں کہ وہ ہر حال میں بچوں کو سکول میں بھیجیں ۔

دوسرے لفظوں میں سکول کے ہیڈ ٹیچرز اور کلاس ٹیچرز کو بالکل بے اختیار کرکے ان سے کہا جاتا ہے کہ حاضری کو 90فیصد سے اوپر رکھیں جو کہ ناممکن ہے۔اسی طرح اساتذہ کی حاضری بھی 90 فیصد سے اوپر رکھنے کو کہا جاتا ہے وہ بھی اس وجہ سے ناممکن ہے کہ پنجاب کے اکثر پرائمری سکولوں میں 2سے 4اساتذہ تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ 4اساتذہ والے سکولوں میں اگر ایک استاد بھی چھٹی کرلے تو حاضری 75فیصد ہوجاتی ہے جس پر شوکاز نوٹسز جاری کرکے اساتذہ کو دفتروں کے چکر لگوا لگوا کر ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا جاتا ہے ۔اب یہی ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ اساتذہ بیمار ہونے اور گھر میں ہونے والی کسی بھی خوشی یا غمی کے باوجود چھٹی کا سوچیں بھی نہ ورنہ ان کو اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں ۔صرف ان دومثالوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ ان دو غیر فطری اور ناقابل عمل Indicators کی طرح اس ’’سی ایم روڈمیپ‘‘ کے دیگر Indicatorsبھی اسی طرح غیر فطری اور ناقابل عمل ہوں گے چنانچہ پنجاب بھر کے اساتذہ کا مطالبے کو مد نظر رکھ کر یہ تجویز دی جاتی ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی مرتب کرتے وقت اس ’’سی ایم روڈ میپ ‘‘ کو بالکل ختم کردیا جائے اور نئے روڈ میپ میں ایسے نکات شامل کیے جائیں جو فطری بھی ہوں اور قابل عمل بھی ہوں۔

2۔امتحانات کی تعلیمی نظام میں بہت زیادہ اہمیت ہوتی ہے کیونکہ ان کی بدولت نہ صرف اس بات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ طلبا وطالبات کو جو کچھ پڑھایا گیا وہ اس کو کس قدر سمجھ پائے ہیں بلکہ یہ بھی معلوم کیا جاتا ہے کہ اساتذہ کی تدریس میں کیا خوبیاں یا خامیاں تھیں جنھوں نے طلباوطالبات کے نتائج کو متاثر کیا۔اس وقت پنجاب میں پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے نام سے ایک ادارہ کام کر رہا ہے جو ہرسال جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کا انعقاد کرتا ہے۔ان امتحانات کی وجہ سے بھی تعلیمی معیار بہت زیادہ پست ہوا ہے کیونکہ ایک تو اس امتحان کے پرچہ جات طلبا وطالبات کی ذہنی عمر کے مطابق نہیں ہوتے جس کے متعلق بیسیوں مرتبہ اساتذہ تنظیموں کے نمائندے سیکرٹری ایجوکیشن سکولز اور دیگر افسران کو آگاہ کرچکے ہیں ۔دوسرا ان امتحانات میں معروضی حصہ زیادہ کرکے بچوں کی لکھنے کی صلاحیت کو بالکل ختم کردیا گیا ہے۔

بچے اندازے سے نشانات لگا کر باآسانی امتحان پاس کرلیتے ہیں ۔اس کے علاوہ نتائج کی تیاری بھی قابل اعتماد نہیں وہ اس طرح کہ پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز جو میٹرک اور انٹرمیڈایٹ کے امتحانات لیتے ہیں ان کے پاس صرف ایک ڈویژن کے پرچہ جات ہوتے ہیں اور وہ بامشکل 3ماہ میں نتائج تیار کرپاتے ہیں لیکن پھر بھی کئی غلطیاں سامنے آتی ہیں جبکہ یہ پنجاب بھر کے پنجم اور ہشتم کے تمام طلباو طالبات کے پرچہ جات ہونے کے باوجود صرف ایک ماہ میں نتائج تیار کرلیتے ہیں ۔اس بات کو ذہن تسلیم کرنے سے قاصر ہے مزید یہ کہ ان امتحانات کی سب سے بڑی خامی جس کی وجہ سے پنجاب بھر کے اساتذہ ان امتحانات کو ختم کرنے کا مطالبہ کرنے پر مجبور ہوئے وہ یہ ہے کہ اس امتحان میں پاس ہونے والوں کے ساتھ ساتھ فیل ہونے والے طلباوطالبات کو بھی اگلی جماعتوں میں ترقی دی جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے ایک طرف محنتی طلباوطالبات کی حق تلفی ہوتی ہے اور دوسرا نالائق بچوں کے اگلی جماعتوں میں ترقی کرنے کی وجہ سے اساتذہ کو اگلی جماعتوں میں اچھے نتائج دینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ان امتحانات میں ایک اور ناانصافی بھی کی جاتی ہے اور وہ یہ کہ بچوں کو توفیل ہونے کے باوجود اگلی جماعتوں میں ترقی دے دی جاتی ہے مگر اساتذہ کو خراب نتائج کی وجہ سے مختلف طرح کی محکمانہ وضاحتیں طلب کر کرکے ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔اس لیے اساتذہ کے پرزورمطالبے کے مطابق تجویز دی جاتی ہے کہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کو ختم کرکے جماعت پنجم اور ہشتم کے امتحانات کو ضلعی افسران کی زیر نگرانی منعقد کرایا جائے ۔ پاس ہونے والے طلباو طالبات کی اگلی جماعتوں میں ترقی دی جائے اور فیل ہونے والوں کو پچھلی جماعتوں ہی میں رکھا جائے۔

3۔پرائمری تعلیم تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتی ہے ۔چھوٹے بچوں کو کل وقتی اور مکمل توجہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ سکول سے انھیں اپنے تعلیمی کیریئر کی مضبوط بنیاد میسر آسکے ۔اس لیے ماہرین تعلیم کے مطابق اگر پرائمری کی سطح پر سکولوں کو چھ کمرہ جماعت اور چھ اساتذہ مہیا کردیے جائیں تومطلوبہ مقاصد کا حصول کافی حد تک ممکن بنایا جاسکتا ہے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ پنجاب میں آج بھی پرائمری جماعتوں میں چھ کمرہ جماعت اور چھ اساتذہ کی سہولت دستیاب نہیں ہے بلکہ یہاں 40بچوں کے لیے ایک استاد مہیا کیاجاتا ہے ۔مثال کے طور پر اگر ایک پرائمری سکول میں بچوں کی تعداد 100 ہے تو وہاں صرف 3 اساتذہ مقرر کیے جائیں گے حالانکہ اس سکول میں نرسری سے پنجم جماعت تک 6 جماعتیں ہیں اور ہر جماعت میں 4 سے 6 مضامین بھی ہیں ۔اس صورت حال میں 3 اساتذہ بھرپور طریقے سے تدریس کا فریضہ انجام نہیں دے پاتے ۔جس کی وجہ سے انتہائی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ اساتذہ کے ہونے کے باوجود یہاں بچے ایک اچھی بنیاد سے محروم رہتے ہیں اور اگلی جماعتوں میں اسی کمزور بنیاد کے باعث اچھے نتائج نہیں دے پاتے یوں اکثر بچے سکولوں سے بھاگ کر مزدوری شروع کردیتے ہیں ۔اس لیے تجویز یہ ہے کہ فوری طور پر پنجاب کے تمام سکولوں کی پرائمری جماعتوں میں چھے کمرہ جماعت اور چھے اساتذہ کا انتظام کیاجائے۔

3۔مانیٹرنگ بھی تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے از حد ضروری ہوتی ہے ۔لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تما م تر توانائیاں اور سرمایہ صرف اسی چیز پر صرف کردیا جائے ۔پنجاب میں مانیٹرننگ کے لیے سی ای اوز،ڈی ایم اوز،ڈی ای اوز، ڈپٹی ڈی ای اوز، اے ای اوز، ایم ای اوز، ہیڈ ٹیچرز اور زونل ہیڈ ٹیچرز کی ایک بڑی فوج سے یہ کام لیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اساتذہ پڑھانے کی بجائے اپنی توجہ ان معائنہ کاروں پر ہی مرکوز رکھتے ہیں یوں وہ اپنے اصل اور اولین مقصد تدریس سے ہٹ جاتے ہیں ۔اس سلسلے میں تجویز ہے کہ اگر تمام سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو بااختیار بنا کر مانیٹرننگ کی مکمل ذمہ داری ان کو سونپ دی جائے تو ایک طرف تو سکولوں کی مانیٹرننگ روزانہ اور کل وقتی بنیادوں پر ہوسکے گی اور دوسری طرف مانیٹرننگ معائنوں پر آنے والے کثیر اخرجات کو بچا کر دیگر ضرورتوں کو پورا کیا جاسکتا ہے۔اس لیے تجویز ہے کہ سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو مکمل طور پر با اختیار بنا کر مانیٹرننگ کی ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے اور پرائمری سکولوں میں صرف اے ای اوز سے یہ خدمات لی جائیں۔

5۔شعبہ تعلیم میں اساتذہ کی اہمیت دیگر تمام چیزوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔کسی ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اساتذہ اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے جن قوموں نے اساتذہ کو عزت دی ان قوموں نے ترقی اور خوشحالی کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا اور اب وہ ترقی یافتہ قوموں کی فہرست میں شامل ہیں مگر جن قوموں نے اساتذہ کوپریشان اور ذلیل کیا وہ آج ذلت اور رسوائی کا سامنا کر رہی ہیں۔پنجاب میں اساتذہ کو بے اختیار کیا گیا،ان کی چھٹیوں پر پابندی لگائی گئی،ان کے ہاتھ باندھ کر ان سے بہترین نتائج مانگے گئے ، سکولوں میں مار نہیں پیار کے بینرز آویزاں کرکے انہیں عام لوگوں کے ہاتھوںذرائع ابلاغ پر جھوٹ پھیلا کر ذلیل کروایا گیا،انھیں 70سے 90 فیصد نتائج دینے کے باوجود Below Board نتائج کا بہانہ بنا کر جرمانے کیے گئے،انھیں نوکریوں سے فارغ کیا گیا اور انھیں عدالتوں میں جانے پربھی مجبور کیا گیا۔

ایک ذی شعور شخص اس بات سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ پنجاب میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے کم از کم تعلیم قابلیت بی اے ،بی ایڈ مقرر کی گئی اور شعبہ تعلیم میں پرائمری کی سطح کے لیے بھی ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ بھرتی ہوئے مگر گزشتہ پندرہ سالوں میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ تھی کہ اساتذہ کو بے اختیار کرکے مختلف طریقوں سے ان کی تذلیل کی گئی۔چند ماہ قبل اس سلسلے میں ایک فیصلہ کیا گیا کہ اساتذہ کو مخاطب کرنے کے لیے’’عزت مآب اساتذہ کرام‘‘ جیسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو کہ ایک خوش آئند اقدام تھا۔اس سلسلے میں تجویز ہے کہ اساتذہ کے عملی طور پر وقار کی بحالی کے ساتھ ساتھ ان کے اعتماد میں اضافہ بھی کیا جائے تاکہ وہ مطمئن ہوکر ذوق و شوق سے تدریسی خدمات انجام دے سکیں۔خراب نتائج دینے والے اساتذہ کو جرمانوں اور سزائوں کی بجائے ان کی تدریسی خامیوں کو دور کرنے کے لیے تربیت کا اہتمام کیا جائے ۔اس کے علاوہ ایک اہم بات کہ ان کی ایک سال میں 25 اتفاقی چھٹیوں پر زبانی پابندی ختم کرکے انھیں جب بھی ضرورت ہو انھیں اتفاقیہ چھٹیاںدی جائیں۔تاکہ باقی ایام میں وہ بے فکری کے ساتھ تدریس کا فریضہ انجام دے سکیں ۔

6۔پنجاب کے اساتذہ کے سکیل بھی وفاقی اور دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ہیں ۔یہاں ایک طویل احتجاجی تحریک کے بعد اساتذہ کے سکیلوں کو اپ گریڈ کیا بھی گیا تو اس سے صرف پرائمری اساتذہ ہی مطمئن ہوئے کیونکہ ایلیمنٹری اور سیکنڈری اساتذہ کو وفاق اور دیگر صوبوں کے اساتذہ کے مطابق سکیل اپ گریڈیشن نہ دی گئی جس کی وجہ سے وہ اب بھی سراپا احتجاج ہیں۔چنانچہ تجویز دی جاتی ہے کہ پنجاب میں سیکنڈر ی اساتذہ کو سکیل 16 سے اپ گریڈ کرکے سکیل 17 اور ایلیمنٹری اساتذہ کوسکیل 15 سے اپ گریڈ کرکے سکیل 16 دیا جائے ۔کیونکہ وفاق اور دیگر صوبوں میں سیکنڈری اور ایلیمنٹری اساتذہ بالترتیب انہی سکیلوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

7۔این جی اوز کی مدد سے پنجاب کے تمام دیہاتوں اور شہروں میں سروے کرایا جائے کہ کتنے بچے ایسے ہیں جو دینی مدرسوں، سرکاری سکولوں اور نجی سکولوں میں زیر تعلیم نہیں ہیں اور ان کے تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجوہات کیا ہیں پھر ان وجوہات کو دور کرکے انھیں دینی مدرسوں،سرکاری سکولوں یا نجی سکولوں میں حکومتی سرپرستی میں داخل کیا جائے تاکہ شرح خواندگی100 فیصدہوسکے اور قوم کے تمام بچے تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق سے محروم نہ رہیں ۔

8۔اس وقت سرکاری اور نجی سکولوں میں یکساں نصاب رائج نہیں۔امیرلوگ جوبھاری فیسیں ادا کرسکتے ہیں وہ اپنے بچوں کو نجی سکولوں میں داخل کرادیتے ہیں جبکہ غریب لوگ سرکاری سکولوں میں اپنے بچوں کو داخل کرانے کو ترجیح دیتے ہیں ۔جب سرکاری اور نجی سکولوں میں یکساں نصاب رائج نہیں ہوگا تو غریبوں کے بچوں کا مستقبل تاریک اور تباہ ہوجائے گا جبکہ امیروں کے بچے نہ صرف تمام سرکاری ملازمتوں پر قابض ہوجائیں گے بلکہ دیگر تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھی صرف انھیں ہی مواقع میسر آئیں گے ۔یوں اس طبقاتی نظام کے باعث امیر ،امیر تر اور غریب ،غریب تر ہوجائے گا۔اس لیے تجویز ہے کہ تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں فوری طور پر یکساں نصاب رائج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

9۔پنجاب میں تعلیم کی تباہی کی ایک اور وجہ کبھی اردومیڈیم اور کبھی انگلش میڈیم کا نفاذ بھی ہے۔دنیا بھر کے نفسیات دانوں اور ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ مادری زبان یا قومی زبان میں دی جانے والی تعلیم ہمیشہ اچھے اور دیرپا نتائج مہیا کرتی ہے ۔لیکن ہم اس حقیقت سے پتا نہیں کیوں اب تک ناآشنا ہیں۔ہمارے ہاں اس وقت موجودہ ذریعہ تعلیم انگریزی زبان ہے۔انگریزی زبان میں جب تعلیم دی جائے گی تو اس میں کسی حد تک رٹہ لگا کر امتحانات توپاس کیے جاسکتے ہیں لیکن طلبا وطالبات تمام مضامین کے بنیادی تصورات کو سمجھنے سے قاصررہیں گے۔جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عملی زندگی میں جاکر وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرپائیں گے جو کہ ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے کسی طرح بھی خوش آئند نہیں ہے۔چنانچہ تجویز دی جاتی ہے کہ پنجاب بھر میں اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کا اعلان کیا جائے۔

10۔اساتذہ تبادلوں کے سلسلے میں بھی ہمیشہ بے چین اورپریشان دکھائی دیتے ہیں۔کیونکہ مختلف سروے رپورٹوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پنجاب بھر میں اکثر اساتذہ اپنے گھروں سے دور ملازمت کررہے ہیں۔جس کی وجہ سے ان کی تمام تر توجہ اس طویل فاصلے اور اس فاصلے کو طے کرنے کے لیے آنے والے اخراجات پر مرکوز رہتی ہے ۔یوں وہ تدریس کی جانب پورا دھیان نہیں دے پاتے اس لیے تجویز دی جاتی ہے کہ ضلع کی سطح پر تمام اساتذہ کے کوائف کا جائزہ لے کر انھیں ان کے گھروں کے نزدیک تعینات کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔تاکہ وہ اطمینان اور تسلی کے ساتھ خدمات انجام دیں اور اچھے نتائج مہیا کرسکیں ۔

11۔پنجاب بھر میں گزشتہ چند سالوں میں کمپیوٹر سائنس اساتذہ کو بھرتی کیا گیا۔ان کو بھرتی کرنے کا مقصد یہ تھا کہ بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق وہ نئی نسل کو کمپیوٹر کی تعلیم دیں گے ۔لیکن ان اساتذہ کے آتے ہی انھیں کلرک بنا دیا گیا ۔اس وقت ان کمپیوٹر سائنس کے اساتذہ کو تدریس کی خدمات کے ساتھ ساتھ بے شمار ایسی ڈیوٹیاں سونپ دی گئی ہیں جو کلرکوں کے ذمہ تھیں ۔اب سکولوں کے ساتھ ساتھ دفتروں میں بھی ان اساتذہ کو مختلف کاموں میں الجھا دیا گیا ہے ۔جس کے نتیجے میں کمپیوٹر کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔چنانچہ تجویز پیش کی جاتی ہے کہ ان کمپیوٹر سائنس اساتذہ کو صرف کمپیوٹر کی تدریس تک محدود کیا جائے اور دیگر کام جوکلرکوں کی ذمہ داری ہیں وہ انھیں ہی کرنے دیے جائیں ۔اگر کلرکوں کی تعداد کم ہے تو نئے کلرک بھرتی کرکے اس کمی کو پورا کیا جائے۔اس کے علاوہ کمپیوٹر سائنس اساتذہ کا ایک دیرینہ مطالبہ کمپیوٹر الائونس کا ہے ان کے اس مطالبے کو بھی پورا کیا جائے اور جس طرح سائنس ٹیچرز کو سائنس الائونس دیا جاتا ہے اسی طرح کمپیوٹر ٹیچرز کو کمپیوٹر الائونس دینے کا اعلان کیا جائے۔

ان 11 نکات کی صورت میں صرف چند اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں جن کی مدد سے نئی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میںآسانی ہوگی۔ امید ہے کہ نئی تعلیمی پالیسی بنانے کے لیے ان 11 نکات کو مد نظر رکھا جائے گا۔کیونکہ یہ تجاویز اے سی کمرے میں بیٹھ کر کسی ایک شخص نے پیش نہیں کیں بلکہ مختلف اضلاع میں فیلڈ میں کام کرنے والے اساتذہ،افسران اور اساتذہ تنظیموں کے نمائندوں سے ایک طویل مشاورت کے بعد سامنے آئی ہیں۔

[email protected]
03349001281

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.