کالم و مضامین

سیاسی جنگ

سوہاوہ شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین ہے جہاں ہر دوسرے گاؤں میں ہماری فورسز میں سے کسی نہ کسی فورس کے شہید کا مزار ضرور ملتا ہے۔

تحصیل سوہاوہ کا اگر ماضی اٹھا کر دیکھے تو ہر دور میں چند روڈز کی بار بار مرمت و تعمیر کے علاوہ کوئی ایسے بڑے پروجیکٹ کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا گیا جس سے اس تحصیل کی پسماندگی دور ہوئی ہو۔ سابقہ ادوار میں چوہدری ثقلین ہو، راجہ افضل، چوہدری فرخ، راجہ اویس خالد سمیت سٹی و تحصیل ناظم نے اپنے اپنے اقتدار کے دوران صرف اور صرف اپنے اپنے دھڑوں کی سیاست کو ترجیح دی۔

سابقہ دور حکومت میں راجہ اویس خالد نے جہاں چند کارپٹ روڈز بنوائیں وہیں ہسپتال کی تزئین و آرائش کے ساتھ ساتھ اپنے دور اقتدار میں تھانہ کچہری کی سیاست سے دور رہے، شاید اس ایک وجہ سے انہوں نے جہاں سیاسی نقصان اٹھایا ہو وہاں دوسری طرف کم از کم تھانہ کچہری کی سیاست نہ کر کے ایک اچھی روایت ڈالنے کی بھی کوشش کی۔

موجودہ دور حکومت میں ایک طرف تو تبدیلی کے دعویداروں کا دعویٰ ہے کہ ادارے خود مختار ہیں وہیں دوسری طرف چند دن قبل تحریک انصاف کے چند ورکروں اور عہدیداروں کی طرف سے اپنی ہی پارٹی کے منظور نظر لوگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا یہاں تک سننے کو ملا کہ سابقہ ادوار میں پٹواری کا جو ریٹ تھا وہ اب دگنا ہو چکا ہے۔

راقم کی تحریر کا مقصد وزیر اعلی پنجاب کے دورہ جہلم کے دعویداروں کی توجہ تحصیل سوہاوہ کے مسائل کی طرف کروانا ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کے القادر یونیورسٹی کے سنگ بنیاد پر کسی پروجیکٹ کا اعلان نہ کرنے پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کیا گیا جسے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے یہ کہہ کر دفاع کیا کہ یہ صرف یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب ہے ہماری حکومت نئی ہے،سابقہ حکومت نے ملک کو قرضوں میں ڈبو رکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔

اب حکومت کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے پہلے منتخب نمائندوں کی طرف سے یہ دلیل قابل قبول بنتی تھی کہ پچھلے پندرہ بیس سالوں کے مسائل اور محرومیوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کچھ عرصہ تو دیا جائے لیکن اب بھی اگر وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے دورہ جہلم جس کا دعویٰ ایم پی اے راجہ یاور کمال،ایم پی اے سبرینہ جاوید اور ایم این اے چوہدری فرخ الطاف کر چکے ہیں۔

اس دورہ میں بھی اگر سوہاوہ میں پانی، سپورٹس اسٹیڈیم، رورل ہیلتھ سینٹر کی اپ گریڈیشن، پولیس تھانہ سوہاوہ میں نفری کی کمی سمیت پٹرولنگ کے لیے نئی گاڑیوں،سابقہ ادوار میں گیس کے لیے ملنے فنڈ اور جعلی افتاح کرنے والوں کی غیر جانبدار انکوائری کا اعلان، ہسپتال میں سپیشلسٹ کی کمی کو پورا کرنے ڈگری کالج بوائز اور گرلز میں اساتذہ کی فی الفور تعیناتی، ریسکیو سروس کی زیر تعمیر بلڈنگ کو جلد از جلد مکمل کرنے کے احکامات سمیت دیہی علاقوں میں سڑکوں کی تعمیر ومرمت اور دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کے لیگ اپ گریڈیشن کے اعلانات اور ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو پھر یہ کس کی نااہلی ہو گی۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر وزیر اعلی سے ملاقات کی تصویریں شئیر کرنے والے اپنے حلقہ کی عوام کے لیے ان کی محرومیوں کے لیے کس حد تک پروجیکٹس کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر مزید تین سال گزار کر آخری سالوں میں سابقہ حکومتوں کی طرح صرف لولی پاپ ہی دیا گیا تو اس پر نتائج بہت مختلف ہونگے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا دورہ جہلم اس ضلع کی عوام کی محرومیوں کے خاتمہ کے لیے ایک بنیاد ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ وفاقی وزیر فواد چوہدری وزیر اعظم پاکستان کے دورہ پی ڈی خان کا بھی اعلان کر چکے ہیں جو بھی یقیناً سیاسی دورہ ہو سکتا ہے دونوں اعلانات کو اگر بلدیاتی الیکشن کی کمپین کے طور پر سمجھا جائے تو پھر یقینا بڑے اعلانات متوقع ہیں ۔

وزیر اعلی عثمان بزدار سے ملاقات اور ان کے دورہ جہلم کے حوالے سے ایم پی اے راجہ یاور کمال، سبرینہ جاوید اور چوہدری فرخ الطاف کی طرف سے دعویٰ کیا گیا اور تینوں کی طرف سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ حلقہ کی محرومیوں کے متعلق وزیر اعلی پنجاب کو آگاہ کیا گیا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر ان تینوں کی ملاقات پہلے اپس میں ہوتی اور تینوں مل کر الگ الگ پروجیکٹ کی درخواست کرتے خیر یہ تو سیاست ہے جو بظاہر تو آپسی اتحاد دیکھاتے ہیں لیکن وہ سیاست ہی کیسی جس میں سیاست نہ کی جائے ۔

اس بار حلقہ بڑا ہونے کی وجہ سے اگر بات پورے حلقہ کی کی جائے تو دینہ میں بھی لنک روڈز ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں جبکہ حلقہ میں سینکڑوں ایسے دیہات ہیں جو آج بھی بہترین طبعی سہولیات سے محروم ہیں جہاں جدید تعلیم کا تصور بھی نہیں سکولوں کی بلڈنگ کھنڈرات نما ہو یا تیزئین و آرائش سے بھر پور وہاں جدید تعلیم جیسی سہولت میسر نہیں متعدد سکولوں میں اسٹاف کی شدید کمی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ دو ایم پی اے اور ایک ایم این اے کی ملاقات صرف تصویری فوٹو شوٹ رہ جائے گا یا اس ملاقات کے ثمرات بھی عوام کو ملے گے اب یہ اس حلقہ کی عوام پر ہے کہ بلدیاتی الیکشن کے اعلان اور متوقع بلدیاتی انتخابات میں سابقہ ادوار میں بکنے والے سیاسی چورن سے دھوکہ کھاتی ہے یا شعور کی سیڑھی پر قدم رکھتی ہے۔

سابقہ ادوار میں حلقہ بندیوں کا ڈرامہ رچا کر سیاسی فوائد حاصل کیے جاتے رہے جس کا زیادہ تر نقصان عوام کو ہی دیکھنے کو ملا کیونکہ اس حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بلدیاتی نظام میں اقتدار حقیقت میں نچلی سطح پر منتقل ہو گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی الیکشن جیتنے کے لیے منظور نظر سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و مرمت کے ٹینڈر مستقبل قریب میں دیکھنے کو ملے گے یا حقیقت میں عوام کے لیے حقیقی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا کیونکہ جس طرح ورکر تنظیموں کی طرف سے حلقہ کے منتخب نمائندوں پر تنقید کی گئی ہے اس سے تو بظاہر نظر یہی ا رہا ہے کہ آمدہ بلدیاتی الیکشن میں منتخب نمائندوں کے منظور نظر بلدیاتی امیدواروں کے مد مقابل پی ٹی آئی کی تنظیم کی طرف سے بھی امیدوار مدمقابل ہونگے۔

اب اس سیاسی چپقلش میں لگی آگ میں کتنی شدت کے وہ اگر وزیر اعلی پنجاب واقعہ ہی دسمبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں دعویداروں کے مطابق دورہ کرتے ہیں تو وزیر اعلی کے اسٹیج پر موجود سیاسی قیادت سے ظاہر ہو جائیگا جس کے بعد بلدیاتی الیکشن میں اس سیاسی آگ سے ہونے والے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل نہ ہو گا ۔

اللہ کرے اس حلقہ کی عوام کی محرومیوں کو سیاست کی نظر نہ لگے اور مستقبل قریب میں بڑے اعلانات اور ان پر عملدرآمد دیکھنے کو ملے۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close