کالم و مضامین

ریاست اور مسائل — تحریر: سید مزمل گیلانی

ایک دیس جس کا نام پاکستان ہے۔اس مملکتِ خداداد کو بیش بہا نعمتوں سے نوازا مگر ستم ظریفیِ وقت دیکھیے کے یہی ریاست ان گنت مسائل سے گھرِی ہوئی ہے۔امن، سکون، اعتماد کی فضا، انصاف کا یقین، سچائی کا بول بالا اور محفوظ ہونے کا احساس۔ یہ وہ عناصر ہیں جو کسی بھی انسانی معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ اور اس کے حسن کو بامِ عروج تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور وقار میں بھی ایک غیر متناہی اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وہ عناصر بھی ہیں جو کسی بھی معاشرے کے افراد پر کچھ اس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔کبھی کسی شام کو کوئی قندیل بجھ جاتی ہے تو کبھی کوئی زینب سویرا دیکھنے سے پہلے غروب ہو جاتی ہے۔نوجوان نقیب کے خون سے ہاتھ رنگے ہوتے ہیں یا تو پھر اعلیٰ حکام معزز اداروں کو گالی بکتے پائے جاتے ہیں۔ان تمام باتوں کے بعد میرے ذہن میں یہی سوال اٹھتا ہے کے پھر ان آزمائشوں کا سلسلہ رکتا کیوں نہیں۔کیااس مملکت میں امن نہیں ہوگا۔کیا اس معاشرہ میں امن کی فضا نہیں گونجے گی۔امن ہو بھی تو کیسے ہر شخص اپنی بساط کے مطابق لوٹ رہا ہے اور الزام تراشی بھی جاری ہے۔

لیڈر جو کسی قوم کا سرمایا ہوتے ھیں وہ اپنے ہی اداروں کو گالیاں دیتے نظر اتے ہیں۔اور حالتِ زار یے ہے کے انْ کے سپورڑران ان کی ہر بات پر حمایت کرتے نظر آتے ہیں یہی وہ وقت ھوتا ہے جب ھم اپنے جمہور کو خود آمریت کی بیڑیاں پہنا دیتے ہیں۔پھر تو کوئی مشال نظر نہیں اتا اور نہ ہی کوئی نقیب۔ظلم کا بازار گرم ہی رہتا ہے۔اس ملک میں تبدیلی کیوں آئے۔جو قوم سر سے پاوں تک حرص و حوس میں ڈوبی ہو اور جو خود کو متقی و پارسا سمجھتی ہو اس قوم حالت خدا کیوں بدلے۔اس ملک میں صاف لوگ کیوں آئیں اور اگر آ بھی جائیں تو تہمت لگا کے مار دیے جائیں یا پھر کچھ معتبر لوگ داراحکومت بند کر کے انسانئت کی خدمت کرنے والے کی کردار کشی کرتے نظر ائیں گے۔اس دیس کا نظام تب تک شائد ں نہیںسدھرے جب تک انفرادی طور پر ہم اپنی ذمہ داریاں نہیں قبول کریں۔ایک عورت جس کے درجن بھر بچے ہیں تو ریاست کی ذہ داری ہے کہ اس کو بنیادی ضروریات فراہم کر ے۔ ہمارے پاس ووٹ کا حق ہے مگر اس کے استعمال سے نابلد ہیں۔

ذرا سوچئے!ہمارے معاشرے میں روز کا معمول بن گیا ہے۔جس ملک میں بھی ایسے واقعات رونما ھوں تو اس میں پہلی غلطی اسی ملک کی حکومت کی ھوتی ھے اس لیے کہ وہ مجرم کو اس جرم کی سزا نہیں دیتی جسکی وجہ سے پھر دوبارہ ایسے واقعات ھوتے ہیں اور دوسری غلطی اس بے بس عوام کی ھے اس لیے کہ جب انکو پتہ ھے کہ یہ حکمران ھمارے لیے کچھ نہیں کرسکتے تو اسکو ووٹ کیوں دیتے ہیں۔آج تک ملک پاکستان میں شائدہی کوئی ایسا واقعہ ہو جس کے مجرموں کو ان کیانجام تک پہنچایا گیا ہو۔ورنہ عام طورپر زیادتی کاشکارہونیوالی معصوم بہنیں بروقت انصاف نہ ملنے پر یا تو خودکشی کرلیتی ہیں یا اس ننھی پری "زینب” کی طرع زیادتی کرنے کے بعد قتل کر کیسرعام پھینک دیا جاتا ہے اور ہم بے حس عوام کو یہ واضح اور دوٹوک لفظوں میں پیغام دیا جاتا ہے کہ تم واقعی ہی بے حس ہو اور اس طرع غفلت کی نیند سوتے رہنا۔

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button