کالم و مضامیناہم خبریں

ضلع جہلم کی سیاسی صورتحال — تحریر: ظفرغوری

اس وقت پورے ملک کی طرح ضلع جہلم میں بھی سیاسی درجہ حرارت اپنے نقطہ عروج کی طرف گامزن ہے! تاہم کسی بھی پارٹی کی صورتحال واضح نہیں۔

ضلع جہلم کو منی لاڑکانہ کہنے والی پاکستان پیپلز پارٹی قائدانہ صلاحیتوں میں قحط کا شکار دکھائی دیتی ہے اور کوئی مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے کے قابل نہیں تاہم اس وقت جو ان کے پاس نسبتاً بہتر امیدوار موجود تھے انکوپارٹی ٹکٹس جاری کئے جارہے ہیں مگر یہ امیدوار اتنے مضبوط نہیں کہ جو کوئی بریک تھرو دلا سکیں اور ضلع جہلم سے پی پی پی کی کوئی سیٹ نکل سکے ۔

دوسری جانب گزشتہ الیکشن میں کلین سویپ کرنے والی پاکستان مسلم لیگ ن اور تیزی سے ابھرنے والی پاکستان تحریک انصاف اندرونی اختلافات و انتشار کا شکار ہوچکی ہیں۔ دونوں پارٹیوں کی جانب سے پارٹی ٹکٹوں کے اجراء پر شدید رد عمل سامنے آرہا ہے اور بہت سے امیدوار آزاد حیثیت میں یادوسری پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں اپنی زور آزمائی کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ اب یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اسکا درست طور پہ اندازا قائم کرنا تاحال کافی مشکل ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی کی دونشستوں این اے 66کیلئے چوہدری ندیم خادم اور این اے 67کیلئے نوابزادہ مطلوب مہدی کواور صوبائی اسمبلی کی بھی دو نشستوں پی پی 25کے لئے مہرمحمد فیاض اور پی 26کے لئے چوہدری لال حسین کواپنے امیدوار نامزد کیا ہے مگر ایک صوبائی سیٹ پی پی 27کے لئے ابھی اپنا امیدوار نہیں چن سکی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے بھی دو قومی اسمبلی کی سیٹوں این اے 66کے لئے چوہدری فرخ الطاف اور این اے 67کے لئے چوہدری فواد حسین کو ٹکٹ جاری کئے ہیں اور دو صوبائی سیٹوں پی پی 25 سے چوہدری محمد ثقلین جنہوں نے قومی اسمبلی کے لئے ٹکٹ کی درخواست دے رکھی تھی جبکہ پی پی 26 کے لئے چوہدری ظفراقبال کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ دوسری جانب پی پی 27کے ٹکٹ کے لئے راجہ شاہنواز کا نام لیا جارہا ہے، تاہم ایک امیدوار چوہدری محمد ثقلین نے اپنی انا پرستی کی بدولت اور صوبائی اسمبلی کے لئے کاغذات نامزدگی جمع نہ کرانے کی بناء پر پارٹی ٹکٹ واپس کردیا اور قومی اسمبلی کا ٹکٹ نہ ملنے کی بنا پر دونوں قومی حلقوں سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کے عزم کا اظہار کردیا ھے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں نے ضلع جہلم کی انتہائی اہم تحصیل سوہاوہ کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے کسی امیدوار کو تاحال ٹکٹ جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے لئے شدید مشکلات کھڑی ہوسکتی ہیں جس کا فائدہ یقینی طور پر تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار پیرسید عرفان شاہ بخاری یا پھر کسی آزاد امیدوار کو ہوسکتا ہے۔تاہم ابھی پی ٹی آئی کے لئے موقع موجود ہے کہ وہ پی پی 25کے لئے گکھڑ برادری کے ووٹ بینک کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تین گکھڑوں راجہ یاور کمال، راجہ زاہد عزیز اور راجہ قیصردستگیر کیانی میں سے کسی ایک کو ٹکٹ جاری کرکے اپنی کامیابی کو یقینی بنا سکتی ہے ۔

پی پی 25 کے لئے پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے امیدوار تینوں گکھڑوں کی صورتحال یہ ہے کہ راجہ یاورکمال کوراجہ زاہد عزیز کے بڑے بھائی راجہ شاہد عزیز کی مکمل حمایت حاصل ہے جو راجہ زاہد عزیز کے کسی بھی صورت میں الیکشن لڑنے پر ختم بھی ہوسکتی ہے جس کی بناء پر راجہ یاورکمال کی پوزیشن انتہائی کمزور ہو جائے گی اور پی ٹی آئی یہ سیٹ ہار سکتی ہے ،دوسری صورت میں اگر راجہ زاہد عزیز الیکشن میں حصہ نہ لیں تو راجہ یاور کمال کے لئے الیکشن جیتنا آسان ہو جائے گا۔ راجہ قیصر دستگیر کو پارٹی ٹکٹ ملنے کی صورت میں راجہ یاورکمال اور راجہ زاہد عزیز کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے جو کہ انکی کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔راجہ زاہد عزیز کو ٹکٹ ملنے کی صورت میں بھی پی ٹی آئی کے لئے کامیابی کے واضح امکانات موجود ہیں۔راجہ زاہدعزیزکوکاروباری حلقوں، تحریک منہاج القرآن سے وابستگی، اہل تشیع کے روحانی پیشوا آغا جی کی خصوصی شفقت اور نوجوان طبقے میں مقبولیت کے علاوہ گکھڑ برادری کی کثیر تعداد کی حمایت حاصل ہونے کی بنا پر خاصی اہمیت حاصل ہے۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 66کے لئے تینوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے جٹ/گجر برادری کے امیدواروں چوہدری فرخ الطاف،چوہدری ندیم خادم اور چوہدری تسنیم ناصر گجر کو میدان میں اتارا گیا ہے جن کو گکھڑ یا راجپوت برادری کے ایک بڑے ووٹ بنک سے محروم ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس صورتحال میں قومی اسمبلی کے لئے گکھڑ برادری سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ با صلاحیت نوجوان بلال اظہر کیانی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ دونوں بڑی پارٹیوں کی جانب سے تحصیل سوہاوہ سے امیدوار نہ لئے جانے کی صورت میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا فائدہ تحریک لبیک پاکستان یا پھر بلال اظہر کیانی کو ہوسکتا ہے۔ جہاں تک تحریک لبیک پاکستان کا تعلق ہے تو یہ جماعت مسلم لیگ (ن) کے خلاف مزاحمت کے طور پر وجود میں آئی ہے اور یہ سب سے زیادہ نقصان بھی پاکستان مسلم لیگ ن کو پہنچائے گی۔

موجودہ صورتحال میں کہ جب ن لیگ نے مہرفیاض کو ٹکٹ دیکر تحصیل سوہاوہ کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی راجہ اویس خالد اور اور انکے حواریوں کو اپنا مخالف بنا لیا ہے اسکے ساتھ ساتھ ن لیگ کے چیئرمین یونین کونسل پیل بنے خان راجہ سفیراکبر بھی اپنے چیئرمینی کے عہدے سے مستعفی ہوکر پی پی 25 سے الیکشن لڑنے کے لئے کمربستہ ہو چکے ہیں جو کہ ن لیگ کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہونگے۔

اس حلقہ سے سید رفعت محمود زیدی، چوہدری بشارت حسین وحید، سید نصرت اللہ شاہ بخاری،چوہدری زاہد اخترودیگرامیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں خاطرخواہ اہمیت حاصل نہ رہے گی، تاہم ان میں سے دو امیدواروں چوہدری بشارت وحید اور چوہدری زاہد اخترمیں سے کوئی ایک چوہدری محمد ثقلین کے ساتھ آزاد امیدوار ہو سکتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کونسی پارٹی اس صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھال پاتی ہے اور کامیابی اپنے نام کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button