پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
80,463
+4,065 (24h)
اموات
1,688
+67 (24h)
صحت یاب
28,923
35.95%
زیر علاج
49,852
61.96%
کالم و مضامین

نااہلی کس کی؟

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ پیش آ جائے تو ہم فوراً اصل حقائق کو جانے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ فلاں ادارے کی نااہلی کی وجہ سے پیش آیا۔

یقیناً اگر تو ان اداروں کو فرنیچر، دیواریں یا گیٹ چلا رہے ہوں تو یہ بات صحیح ہو گی مگر افسوس صد افسوس ہم جیسے ہی لوگ ان اداروں میں بیٹھے ہیں اور ایک بندہ اس چیز کا ذمہ دار نہیں بلکہ پورا ادارہ جس میں سینکڑوں لوگ کارفرما ہوتے ہیں یہ اُن سب کی ذمہ داری ہے جبکہ ہم سب کا یہ حال ہے کہ اگر سڑک پر کچھ من چلے ون ویلنگ کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوتے ہیں تو ہم یہ حادثہ موٹروے پولیس کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔

اگر دیکھاجائے تو ون ویلنگ سے ہونے والے حادثات کی اصل وجہ ان بچوں کے گھر والے ہیں جو کم عمری میں انہیں موٹربائیک دے دیتے ہیں۔ ان کی پہلی درسگاہ، تربیت گاہ ان کا گھر ہے، دوسرے نمبر پر سکول اساتذہ، تیسرے نمبر پر سوسائٹی اور چوتھے نمبر پر پولیس کا کام شروع ہوتا ہے ۔ اگر ہم اپنی نسل کی ابتداسے ہی کڑی نگرانی رکھیں اور انہیں اپنے کنٹرول میں رکھیں تو یقینا حادثات میں کمی ہو گی اور قیمتی جانوں کا ضیاع بھی نہ ہو گا۔

یہاں تک کہ اگر ٹریفک جام ہو تو بجائے اس کے کہ ہم دیکھیں کہ ہمارے جیسے لوگوں نے سڑک پر تین تین گاڑیوں کی لائنیں بنا رکھ ہیں۔ گاڑیاں سڑک کے کنارے غلط پارک کی ہیں۔ ہم سارا الزام پولیس والوں پر لگا دیتے ہیں کہ یہ ان کی نااہلی ہے۔ یہی نہیں گلی محلوں میں جگہ جگہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر جو ہم لوگوں نے خود لگائے ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ گلی محلوں کو صاف رکھیں سارا مدعا بلدیہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کوڑے کرکٹ کی بدولت جگہ جگہ بدبودار پانی کھڑا ہو تو یہ ذمہ داری ضلعی انتظامیہ کی۔

معاشرے کے حوالے سے ہر جگہ آج کل ملاوٹ، چور بازاری، ناقص اشیاء کی فروخت عام ہے کبھی ہم نے سوچا کہ یہ سب کرنے والے ہم لوگ خود ہیں۔ ادارے ایک تاجر کو یہ سب کرنے کو نہیں کہتے، یہ عام انسان ہی ہے جو اس طرح کا معاشرہ تعمیر کر رہا ہے۔ اصل نااہل ہم خود ہیں کیوں کہ ہم نے عملی سوچ اور کام کو چھوڑ کر صرف اور صرف لفاظی باتوں کو اپنا شعار بنا دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ کو محض ایک تماشائی بنا دیا ہے۔

المختصر ہم لوگوں کا یہ شیوہ بن چکا ہے کہ ہم میں سے ہر کوئی دوسرے کو قصور وار ثابت کرنے کے درپر ہے۔ اپنی اصلاح کا جذبہ ہم سب میںختم ہو چکا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ میں ایسا کیوں کروں؟، دوسرا کرنے نا، اور یوں معاشرہ دن بدن تباہی کے دھانے پر پہنچتا جا رہا ہے جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم من حیث القیوم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خود پہل کریں تاکہ ہمارا معاشرہ صحیح معنوں میں اسلامی معاشرہ بن سکے اور اس سلسلے میں اگر اتفاق و اتحاد کی فضا ہو تو یہ یقینا سونے پر سہاگا ہو گا۔ بقول شاعر

فرد قائم ربط ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close