مقام اور منصب میں فرق ہے، منصب آج ہے تو کل نہیں ہے، علامہ ڈاکٹر سلطان العارفین صدیقی

0

دینہ: مقام اور منصب میں فرق ہے وزارت عظمی منصب ہے ملک کی سربراہی اور عہدہ مقام نہیں ہے ، منصب اس کو کہتے ہیں کہ آج ہے تو کل نہیں ہے جو عہدہ عارضی ہو تا ہے جو چھن جا نے والا ہوتا ہے وہ منصب ہو تا ہے نبوت منصب نہیں ہے نبوت مقام ہے اور جب یہ مقام برگزیدہ ہستیوں کو مل گیا تو پھر یہ ان سے زائل نہیں ہوتا نہ ان سے چھینا جاتا ہے بلکہ قیامت اور بعد از قیامت بھی وہ صاحب مقام اس مقام پر فائز رہتے ہیں اسی لیئے ہمیں منصب نبوت نہیں کہنا چاہیے ہمیں مقام نبوت کہنا چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار علامہ ڈاکٹر سلطان العارفین صدیقی الازہری سجادہ نشین دربار عالیہ نیریاں شریف نے دینہ میں برطانیہ سے آئے ہوئے معروف علامہ ثنا ء اللہ سیٹھی کی والدہ محترمہ کی رسم چہلم کے موقع پر منعقدہ محفل میلاد میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو بتانا چاہوں گا کہ ماں ہونا منصب نہیں ہے یہ مقام ہے جب ایک عورت کو ماں ہونے کا مقام مل گیا تو یہ اتنا بڑ امقام ہے کہ بچہ رہے یا نہ رہے اس عورت کے سر پر ماں ہونے کا تاج سجھ گیا تو وہ جیتی رہے تب اس کا مقام ماں ہے مر جائے تو قبر میں بھی ماں ہے قیامت کے روز اُٹھے تب بھی ماں ہے اور اسی مقام کے سبب سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایاکہ جو ماں بن گئی ہے اللہ نے ساری جنت کو اس کے قدموں میں رکھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باپ ہونا بھی منصب نہیں ہے مقام ہے جو ایک بار باپ بن گیا وہ ہمیشہ کے لئے اس مقام پر فائز ہو گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے دنیا والو اگر اپنے مالک کو اپنے اللہ کو راضی رکھنا چاہتے ہو تو ماں باپ کو راضی کر لو زمین پر اور اللہ عرش پر تم سے راضی ہو جائے گا اور اگر ماں باپ کی نافرمانی کرو گے زمین پر تو اللہ عرش پر تم سے ناراض ہو جائے گا تو کوشش کیجئے کہ جب آپ کے ماں باپ اس دنیا سے رخصت ہوں تو راضی ہو کر رخصت ہوں تاکہ ان کے دل سے یہ دعا نکلے کے بیٹے تم نے میرا حق ادا کر دیا جا تیری دنیا بھی سلامت رہے اور تیری آخرت بھی سلامت رہے تو وہ شخص دنیا و آخرت میں سب کچھ پا گیا کیوں کہ جن کو اللہ نے اتنے اونچے مقامات پر فائز کیا جب ان کے دل سے دعا نکلے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دعا قبول نہ ہو۔

اس موقع پر علامہ ثناء اللہ سیٹھی نے کہا کہ اللہ نے ماں کو ایسا رُتبہ دیا کہ ماں کو محبت سے دیکھنا بھی عبادت بنا دیا ،نبی کریم ﷺ نے ماں کی فضیلت بیان اس طرح سے کی کے انھوں نے فرمایاں کے اگر میں عشاء کی نماز ادا کر رہا ہوتا اور میری ماں مجھے آواز دیتی تو میں نماز چھوڑ کر ماں کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ،ہمیں چاہیے کے ہم دنیا میں اپنے ماں باپ کو راضی کر لیں تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں ،مجھے فخر ہے اپنی والدہ پر جن کی دعاؤں اور تربیت کی بدولت مجھے یہ مقام ملا۔

محفل میلاد ﷺ میں خصوصی خطاب علامہ مفتی نواز بشیر جلالی،سید صداقت عباس شاہ،قاری محمد ہاشم مختار،قاری سہیل سیالوی اورمحمد جاوید احمد قادری نے کیا ،اس موقع پر صدر پریس کلب دینہ امجد محمود سیٹھی ،معروف صحافی رضوان سیٹھی ،شیخ انیس ڈومیلی ،شیخ طاہر، زین العابدین سمیت کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.