جلالپور شریف کی عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے، بل دینے والے بھی پانی سے محروم

0

دھریالہ جالپ (حاجی ریاض احمد سے) جلالپور شریف کی عوام پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ ماہانہ بل باقاعدگی سے ادا کرنے والا غریب طبقہ کئی کئی دن پینے کے پانی سے محروم جبکہ واٹر سپلائی سکیم جلالپور شریف کی یوزر کمیٹی کی ملی بھگت اور واٹر سپلائی سکیم کے لائن مینوں کی مٹھی گرم کر کے ڈائریکٹ لائنوں میں کنکشن لگوانے والا سفید پوش طبقہ اپنے مال مویشی اور بڑی بڑی حویلیوں میں سبزیاں کاشت کر کے عیاشی کر رہے ہیں اور ماہانہ بل کی ادائیگی بھی نہیں کرتے ہیں اور نہ ہی کمیٹی کی طرف سے آج تک ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا ہے ۔

رفاہی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے صحافیوں کو بتایا کہ واٹر سپلائی سکیم جلالپور شریف میں تقریباََ950قانونی گھریلو کنکشن ہیں جن میں سے صرف 450کنکشن ہولڈر ماہانہ بل ادا کر رہے ہیں۔ 500کنکشن ہولڈر بل کی ادائیگی نہیں کرتے اور اْن کے خلاف بھی آج تک کسی قسم کی قانونی کاروائی نہیں کی گئی اور جو لوگ باقاعدگی سے ماہانہ بل ادا کرتے ہیں انہیں کئی کئی دفعہ یہ کہہ کر پانی سے محروم رکھا جاتا ہے کہ فنڈز نہیں ہے اس لئے واٹر سپلائی سکیم کی موٹر نہیں چلے گی ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس یوزر کمیٹی نے محکمہ پبلک ہیلتھ پنڈدادنخان کے انجینئر ریاض سے اچھے تعلقات کی بنا پر اپنے دونوں خاکروب فارغ کر دیے ہیں جس سے یونین کونسل جلالپور شریف میں صفائی کا نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے جبکہ اْن خاکروبوں کی تنخواہ نذرانہ کے طور پر محکمہ پبلک ہیلتھ پنڈدادنخان کے سفید پوش طبقہ کو دی جاتی ہے جس کی وجہ سے یوزر کمیٹی جلالپورشریف عوام کو تنگ کرنے میں کوئی کسر اْٹھا نہیں رکھتی ہے ۔

انہو ں نے کہا کہ وقتا فووقتاََ پنجاب حکومت کی طرف سے واٹر سپلائی یوزر کمیٹیوں کو لاکھوں روپے کی امدا د بھی ملتی اور 400 گھروں کا بل بھی واٹر سپلائی سکیم کو چلانے کیلئے کافی ہوتا ہے اس کے باوجود واٹر سپلائی سکیم جلالپور شریف کی یوزر کمیٹی لوگوں کو باقاعدگی سے پینے کا پانی سپلائی نہ کر کے عوام کے ساتھ زیادتی کر رہی ہے جبکہ واٹر سپلائی یوزر کمیٹی کے اپنے عہدیداران ڈیفالٹر ہیں اور اْن کے گھروں میں 24گھنٹے پانی کی سپلائی میسر رہتی ہے۔

جلالپورشریف کی عوام اور مقامی سوشل تنظیموں کے نمائندوں نے ضلعی انتطامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ واٹر سپلائی سکیم جلالپور شریف کی یوزر کمیٹی کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے اور عوام پانی جیسی نعمت سے محروم نہ رہے اور جان بوجھ کو عوام کو پانی جیسی نعمت سے محروم رکھنے والے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.