جہلم

پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کو 2سال سے زائد کا عرصہ ہوگیامگر شہریوں کو خالص اور معیاری غذا کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی

جہلم: پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قیام کو 2سال سے زائد کا عرصہ ہوگیامگر ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں کے مکینوں کو خالص اور معیاری غذا کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی ، پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران اورفوڈ سیفٹی انسپکٹرز کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے اشیائے خورونوش کی تیاری اور فروخت کیلئے 200 سے زائد ایس او پیز جاری کر رکھے ہیں لیکن ان میں سے شاید کسی ایک پر بھی عمل درآمد نہیں ہو پارہا ،ہوٹلوں،بیکریوں اور کھانے پینے کی اشیاء تیار کرنیوالے کارخانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جاسکے اور نہ ہی کچن کے آلات اور برتنوں وغیرہ کی صفائی ستھرائی کا کو ئی معقول انتظام کیا جاسکا۔

ہوٹلوں، بیکریز، ریسٹورنٹس، کارخانوں میں کام کرنے والے کاریگروں کے میڈیکل سرٹیفکیٹس بھی نہ بنوائے جا سکے ، جبکہ بیشتر فوڈ پوائنٹس میں مضر صحت کوکنگ آئل، باسی سبزیاں،ملاوٹ شدہ مصالحہ جات،کیمیکلز کلرز، کریم نکلا دودھ اور کیمیکل سے تیار ہونے والا دیسی گھی تسلسل کے ساتھ سرعام فروخت کیا جارہاہے۔

بازاروں،مارکیٹوں میں ملاوٹ مافیا نے الگ ریاست قائم کر رکھی ہے ، مرغیوں کی آنتوں ، حلال حرام جانوروں کی باقیات سے نکالے گئے تیل سے چپس اور نمکو تیار کرنے کے کارخانے شہر کے گنجان آباد علاقوں سمیت مضافاتی علاقوں میں قائم ہیں۔

اندرون شہر بازاروں میں معروف برانڈز کی جعلی ٹافیاں ، مشروبات کھلے عام فروخت کئے جارہے ہیں ، پھلوں کو کپڑے رنگنے والے مہلک رنگ لگا کر شہریوں کو بیوقوف بناکر بیماریاں فروخت کی جارہی ہیں جبکہ ماہانہ لاکھوں کروڑوں روپے قومی خزانے سے تنخواہیں حاصل کرنے والے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے افسران واہلکاروں نے خاموشی اختیار کر رکھی جو کہ سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان ، چیف جسٹس آف پاکستان ، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سمیت ارباب اختیار سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button