کالم و مضامین

تحفظ ختم نبوت میں اکابر کا سنہری کردار اور 26 مئی یومِ مرگ مرزا غلام احمد قادیانی

تحریر: محمد نعمان فاروق

مجھے اچھی طرح یاد ہے 26 مئی 2008ء کو قادیانیوں نے جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو فوت ہوئے سوسال پورے ہونے پر پاکستان میں سوسالہ جشن منانے کا اعلان کیا تو جہلم میں مجاہد تحفظ ختم نبوت ولی کامل مولانا عبداللطیف جہلمی رحمہ اللہ کے فرزند و جانشین مجاہد اہل سنت مولانا قاری خبیب احمد عمر رحمہ اللہ نے اپنی فطری اور روائیتی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم میں ختم نبوت کانفرنس کا اعلانِ عام کردیا۔

ادھر قادیانی بڑے ہی جوش و جذبے کیساتھ سرکاری سرپرستی میں تیاریوں میں مصروف تھے اور دوسری طرف علماء حق نے بھی ایوان اقبال لاہور کا سٹیج سنبھال لیا اور ملک کی مقتدد دینی قیادت کو ایوان اقبال میں جمع کرکے قادیانیت کو یہ واضح پیغام دیا کہ اگر آج قادیانیت نے اس طرح سرِعام سوسالہ جشن منایا تو پاکستان میں قادیانیت کا یہ آخری دن ہوگا۔

حسبِ معمول چند روز قبل مجھے حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ کا فون آیا کہ والد صاحب کو بھی آگاہ کر دیا جائے اور کانفرنس کی بھرپور تیاریاں شروع کردی جائیں، ایام بہت کم تھے چنانچہ اسی دن ہی بندہ نے علاقے بھر کی مساجد کے ذمہ داران کو ٹیلی فون کرکے والد گرامی مولانا قاری محمد اسحاق فاروقی مدظلہ کے بیانات کا شیڈول تیار کیا اور والد گرامی مدظلہ نے عصر کی نماز کے بعد اپنی مدنی جامع مسجد ڈومیلی سے آغاز کرکے علاقے بھر کی مساجد کے دورے شروع کردیے۔

غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ ختم نبوت کے عنوان پر علاقہ ڈومیلی سے چھوٹی بڑی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر مشتمل قریباً 250 سے زاید افراد نے شرکت کی

26 مئی 2008ء کو مغرب کے بعد کانفرس کا آغاز ہوا جس میں ضلع جہلم کے مقامی علمائے کرام کے بشمول خصوصی طور پر شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا مدظلہ اور جامعہ فاروقیہ دھمیال کیمپ راولپنڈی کے مدیر مولانا قاضی عبدالرشید مدظلہ کا پرجوش خطاب ہوا، دور دراز سے کثیر تعداد میں احباب اہل سنت نے بھرہور شرکت کی اور پروگرام ہرلحاظ سے کامیاب ہوا

دعا کے بعد دفتر میں حضرت قاری صاحب رحمہ اللہ نے مولانا اللہ وسایا مدظلہ سے ملاقات کروائی اور مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے میری ڈائری پر آٹو گراف تحریر کیا

عکس تحریر: شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

حق پہ رہ ثابت قدم باطل کا شیدائی نہ بن
گر تجھے ایمان پیارا ہے تو مرزائی نہ بن
ظفر علی خان
فقیر اللہ وسایا

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close