کھیوڑہاہم خبریں

سول ہسپتال کھیوڑہ کی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے قاتلانہ حملے میں ڈاکٹر ثاقب اور ان کی اہلیہ کو نامزد کر دیا

کھیوڑہ: سول ہسپتال کھیوڑہ لیڈی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے قاتلانہ حملے میں ڈاکٹر ثاقب اور ان کی اہلیہ کو نامزد کر دیا، قاتلانہ حملہ سول ہسپتال کھیوڑہ کے ایس ایم او ڈاکٹر ثاقب کی بیوی روزینہ نے کیا، جس نے محض شک رقابت اور غصے کی آگ میں جل کر اپنے خاوند کے پستول سے اندھا دھندفائرکیے، ڈاکٹر ثاقب نے منہ بند رکھنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

تفصیلات کے مطابق سول ہسپتال کھیوڑہ میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ بطور ڈنٹیٹل سرجن ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہے مورخہ 29اگست شام تقریبا 7 سے 8بجے کے درمیان اپنے گھر میں فریج سے پانی نکال رہی تھی حملہ آور نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے ایک گولی دائیں طرف کہنی کے نیچے اور دائیں طرف ران پر لگی شدید زخمی حالت میں ڈاکٹر عائشہ کے شور مچانے پر حملہ آور فرار ہو گیا مغویہ نے حملہ آور کو پہچان لیا اور شدید زخمی حالت میںخون سے لت پت ہسپتال پہنچ گئی۔

ایمرجنسی میں ڈاکٹر ثاقب کے پہنچنے پر لیڈی ڈاکٹر مغویہ نے حملہ آور کا نام بتایا جس پر ڈاکٹر ثاقب مغویہ کو تڑپتا چھوڑ کر اپنے گھر کی طرف بھاگ گیا پرائیویٹ ڈاکٹر محمد اختر نجمی ڈاکٹر عابد صدیق ریحان اطلاع ملنے پر ہسپتال پہنچ گئے اور ڈاکٹر محمد اختر نجمی نے شدید زخمی حالت میں تڑپتی ہوئی لیڈی ڈاکٹر عائشہ کا علاج معالجہ کا شروع کر دیا، اسی اثنا میں ڈاکٹر ثاقب بھی دوبارہ پہنچ گیا اور مغویہ کو اکیلے منہ بند رکھنے کی سنگین نتائج کی دھمکیاں دی۔

گزشتہ روز لیڈی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ان کی والدہ محترمہ اور بھائی نے ڈی ایس پی پنڈدادنخان کو اپنا تحریری بیان میں قاتلانہ حملہ آور کا نام بتا یا لیڈی ڈاکٹر عائشہ صدیقہ ان کی والد والدہ اور بھائی نے صحافیوں کو اپنے وڈیو بیان میں بتایا کہ ڈاکٹر ثاقب کی بیوی روزینہ ثاقب نے محض شک رقابت اور غصے میں آکر مجھ پر قاتلانہ حملہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پچھلے چند دنوں سے ڈاکٹر ثاقب بیوی کو بچانے کے لیے مختلف حیلوں بہانوں سے مغویہ اور لواحقین کو دباو ڈال رہا تھا مگر پولیس کی طرف سے مکمل تحفظ کی یقین دہانی ملنے پر لیڈی ڈاکٹر اور ان کے لواحقین نے حقائق آشکار کر دئیے ڈاکٹر ثاقب اور اس کی بیوی روزینہ ثاقب کو پولیس نے ملزم نامزد کر دیا ہے تاہم ڈاکٹر ثاقب اور ان کی اہلیہ روزینہ ثاقب نے ایڈیشنل سیشن جج پنڈدادنخان کی عدالت سے عبوری ضمانت کروا لی ہے جس کی آمدہ پیشی 22ستمبر ہے۔

لیڈی ڈاکٹر عائشہ اور ان کے لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلی پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، کمشنر راولپنڈی، آر پی او راولپنڈی، ڈی سی جہلم، ای ڈی او ہیلتھ جہلم، ڈی پی او جہلم، ڈی ایس پی پنڈدادنخان سے انصاف کی بھرپور اپیل کی ہے۔

ڈاکٹر ثاقب نے اپنے موقف میں ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس واقعہ میں میرا اور میری فیملی کا نام کیسے آ گیا میں اپنے ہائی کورٹ کے وکیل کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد ہی کچھ بتا سکتا ہوں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button