سیاسی قیادت ،انتظامی افسران اور سوہاوہ کے مسائل

0

سوہاوہ شہیدوں اور غازیوں کی سر زمین ہے مگر بد قسمتی سے اس نے اس طرح ترقی نہیں کی جس طرح دینہ اور گوجرخان میں ترقی ہوئی اہلیان سوہاوہ گزشتہ پندرہ سالوں سے سیاسی یتیمی جیسے الفاظ سنتے بھی آئے اور اس کا شکار بھی رہے۔

گزشتہ پانچ سال میں ایم پی اے راجہ اویس خالد نے اپنے حلقے کی عوام میں اپنے متعلق ایک اچھا تاثر چھوڑا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جہاں ایک طرف تھانہ کچہری کی سیاست سے دور رہے وہیں دوسری طرف انہوں نے انتقامی سیاست نہ کر کے ایک اچھی روایت قائم کی لیکن بد قسمتی سے ان کے دور اقتدار میں پنجاب اور وفاق کی طرف سے کوئی خاطر خواہ فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے ترقیاتی کاموں کی زیادہ تختیاں ان کے حصے میں نہ آ سکیں۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترقیاتی کام میں صرف گلیاں نالیاں پکی کرانا شامل نہیں سوہاوہ کی عوام کے لیے کس کے دور اقتدار میں کتنا کام ہوا اور کتنا نہیں ہماری عوام اس بات سے قطعی تعلق نہیں رکھتی کیونکہ اگر کسی امیدوار کی کارکردگی کا جائزہ کام سے لیا جانا ہوتا تو راجہ پرویز اشرف پچھلے دور اقتدار میں اپنی سیٹ نہ ہارتا۔

راقم کی تحریر کا مقصد اور عنوان سوہاوہ کی محرومیاں اور ٹرانسفر ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر کی اس شہر سے دوستی اور ان کی فرض شناسی کی عکاسی کرنا ہے کیونکہ ان کی مختصر تعیناتی میں انہوں کس محبت اور لگن سے اس عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کیا اور آنے والے نئے نوجوان اسسٹنٹ کمشنر کو کیا چیلنجز در پیش ہونگے۔

ایسی کیا وجہ ہے کہ آج ایک عرصے کے بعد سوہاوہ کی تاجر برادری جس پر ایف آئی آرز بھی ہوئیں جرمانے بھی ہوئے پانی کا مسئلہ صفائی کے معاملات بھی حل نہیں ہوئے لیکن ان سب کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے ان کے حق میں بینرز آویزاں کیے جا رہے ہیں ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے جن پر ایف آئی آرز ہوئیں۔

ریٹ لسٹ کے حوالے سے وہی تاجر ان کو پھولوں کے گلدستے پیش کر رہے ہیں جن تاجروں کو دکان کے اندر سامان رکھنے کا پابند کیا گیا وہی تاجر ان کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں اور خوبصورت الفاظ میں ان کو الوداع کر رہے ہیں ۔راقم کی ناقص یاداشت کے مطابق جب اسسٹنٹ کمشنر طارق علی بسرا جو کہ اب ڈپٹی سیکرٹری لاہور ہیں ان کا سیاسی مداخلت پر تبادلہ ہوا تو اس وقت تجاوزات کے خلاف آپریشن چل رہا تھا۔

اےسی ذوالفقار احمد کے چارج سنبھالتےوقت میونسپل کمیٹی سوہاوہ میں چیئرمین شپ چل رہی تھی جبکہ حکومت ایم پی اے ایم این اے حکومتی پارٹی اور چیئرمین اور اکثریت کونسلر حضرات ن لیگ کے تھے ۔

اسسٹنٹ کمشنر ذوالفقار احمد نے اپنا چارج لینے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ اپنے قائدانہ صلاحیتوں سے بہت کم وقت میں شہر گھر میں اپنی نیک نامی پیدا کی اور بالخصوص سرکاری اداروں میں آپ کےوزٹ کے بعد ان اداروں کے ذمہ داران کی طرف سے آپ کے اخلاق اور حسن سلوک کے بارے میں زبان زد عام ہونا شروع ہو گیا۔

آپ کی طرف سے شہر کی خوبصورتی اس کی تزئین وآرائش اور شجر کاری مہم میں دلچسپی شہریوں سے ملاقات اپنے آفس میں ہر آنے والے سائل سے خوش اسلوبی سے پیش آنے کی وجہ سے لوگوں میں آپ پر اعتماد پیدا ہوا اور آپ کے دفاتر میں معمولی سے معمولی درخواست اور راقم کے ذاتی مشاہدے کے مطابق متعدد ایسے لوگ جن کے فوجداری نوعیت کے معاملات تھے۔

انہوں نے بھی آپ کے آفس میں اپنے مسئلے کے حل کے لیے درخواستیں گزاریں جنہیں آپ نے رد نہیں کیا اور نہ ہی درخواست گزار کو مایوس کیا آپ نے چئیرمین میونسپل کمیٹی کی عدم دلچسپی کے باوجود انتہائی فرض شناسی سے اس بار ماہ رمضان میں تاجر برادری سے اپنی قابلیت اور حسن سلوک سے بہترین رمضان بازار کا انعقاد کروایا اور شہریوں کو سستے داموں حکومتی نرخوں کے مطابق اشیائے خوردو نوش کی فروخت کو یقینی بنایا جبکہ تاجر برادری نے آپ سے متاثر ہو کر اس بار گراں فروشی سے بھی گریز کیا۔

گزرتے وقت کے ساتھ آپ نے وقت آنے پر میونسپل کمیٹی سوہاوہ کا بطور ایڈمنسٹریٹر چارج سنبھالا تو سب سے پہلے سابقہ ادوار میں سیاسیوں سمیت سرکاری افسران کے لیے سونے کی چڑیاں ثابت ہونے والی واٹر سپلائی اور انتہائی کم افرادی قوت کے ساتھ صفائی کی ابتر صورتحال کو اپنے لیے چیلنج کے طور پر لیا اور واٹر سپلائی کو فوری بحال کر کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جس پر آپ کچھ ماہ کے لیے کامیاب بھی رہے۔

یہ سکیمیں ماضی کے سرکاری ملازمین اور افسران سمیت سیاسیوں کے لیے سونے کی چڑیاں تھیں اس وجہ سے میونسپل کمیٹی کا ایک مافیا اس سونے کی چڑیاں کو ازاد کروانے میں رکاوٹ بنتا رہا لیکن کیونکہ یہ سکیمیں اپنی مدت پوری کر چکی تھی اس وجہ سے بجائے حکومتی خزانے سے اس پر مزید رقم خرچ کی جاتی۔

اے سی سوہاوہ نے ذاتی دلچسپی لے کر جون 2020 تک کے لیے جاری ہونے والی گرانٹ میں اس کے مستقل حل کے لیے ٹینڈرز بنائے تاکہ مستقبل میں شہریوں کو نہ صرف روزانہ بلکہ صاف ستھرا پانی ملے جبکہ شہر سمیت گلی محلوں وارد لیول تک صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے افرادی قوت کو دیکھتے ہوئے اے سی سوہاوہ نے خود کار نظام صفائی کا پلان ترتیب دیتے ہوئے ٹینڈرز میں جہاں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پروجیکٹ شامل کیے گے وہیں سروس روڈ ۔سٹریٹ لائٹس ۔روڈ۔لائسٹس سمیت دیگر اہم پروجیکٹ شامل ہیں۔

دیوانی معاملات میں شہریوں کی طرف سے قبضہ کی نشاندہی پر آپ نے بغیر کسی دباؤ اور لالچ کے میرٹ پر فیصلہ کر کے شہریوں کے لیے ایک مثال قائم کر دی کہ اگر آپ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں تو مشکل سے مشکل کام آسان نظر آنے لگتا ہے۔

اب اگر بات کی جائے کہ آپ کے جانے سے پہلے اور آپ کے جانے کے بعد نئے آنے والے اسسٹنٹ کمشنر کو کن چیلنجز کا مقابلہ کرنا پڑے گا تو سب سے پہلے وہ اعتماد جو ایک عام آدمی کو اے سی آفس سے ملا اس کو برقرار رکھنا نئے تعینات ہونے والے اے سی سوہاوہ شرجیل شاہد کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا جبکہ پانی اور صفائی کے حوالے سے جس ٹیم ورک کے ساتھ پانی کی فراہمی اور صفائی ہے نظام کو پہلے سے بہتر بنایا گیا اس کو برقرار رکھنا بھی کسی مشکل مرحلے سے کم نہ ہو گا اور بالخصوص ایک ایسی روایت کہ جن تاجروں پر پرائز کنٹرول کے تحت ایف آئی آرز اور جرمانے کیے گئے۔

آج وہی تاجر اسسٹنٹ کمشنر سوہاوہ ذوالفقار احمد کو اچھے اور خوبصورت انداز میں خراج تحسین پیش کرتے ہویے الوداع کر رہے ہیں جو کہ شرجیل شاہد کے لیے ایک مشکل ٹاسک ہو گا آخر میں راقم اتنا کہنا چاہے گا کہ سرکاری ملازمین کسی بھی علاقے میں مہمان کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اگر وہ اپنے عرصہ تعیناتی میں شہریوں کے ساتھ ایک گھر کے فرد کی طرح مشاورت اور باہمی تعاون کی فضا قائم کر کے چلیں تو نہ صرف ایک اچھی روایت قائم ہوتے ہے بلکہ کم محنت میں وہ رزلٹ مختصر مدت میں حاصل ہو جاتے ہیں جو شاہد سخت محنت کے بعد ایک لمبے عرصے کے بعد حاصل ہوتے ہیں۔

امید ہے نئے تعینات ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر شرجیل شاہد بھی اس اچھی روایت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرینگے اور سوہاوہ کی محرومیوں کے ازالے کے لیے بطور ایڈمنسٹریٹر اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرینگے جبکہ ان کی خوش قسمتی ہے کہ سخت محنت اور مکمل اعتماد دینے والے ڈپٹی کمشنر سیف انور جپہ کی سپر ویژن میں وہ کام کرینگے جبکہ راقم سمیت سوہاوہ الیکٹرانک میڈیا کی پوری ٹیم کی طرف سے آپ جو یہ یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ شہریوں کے مسائل کے حل میں آپ کے شانہ بشانہ ہونگے اللہ پاک ہم سے جس حامی و ناصر ہو۔

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.