کالم و مضامین

پیر قلندر سید صفدر شاہ بخاری عرف پیر کاکی تاڑ — تحریر: آصف حیات مرزا

دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ ۔۔۔اور میں ایک ـــــــ سچ لیے شام تک بیٹھا رہا
ہمارا مشن ہی پیار کرنا اور نفرت کو ختم کرنا ہے ر ب کے گھر تو دنیا میں بہت ہیں لیکن اصل گھر انسان کا دل ہے پیر قلندر سید صفدر شاہ بخاری عرف پیر کاکی تاڑ
پیر قلندر سید صفدر شاہ بخاری عرف پیر کاکی تاڑ نے دماغی ،نفسیاتی اور جسمانی طور پر بیمار ہونے والے لوگوں کو صورۃرحمان کی تھرپی دی
صورۃرحمان کی تھرپی سے لوگ آج بھی فیض حاصل کر رہے ہیں اپنے آپ کو پیر کاکی تاڑ کہلانا پسند کرتے تھے
دس سالوں میں 300 سے زیادہ مظلوم اور غلام بچیوں سے یہ گندہ پیشہ چھڑوا کر ان کی شادیاں کروائیں
معدنیات سے مالا مال زمینوں کا مالک رئیس اعظم سید خاندان سے تعلق راولپنڈی گارڈن کالج سے گریجویٹ لوگوں کو گند سے نکالنے چل پڑا

اللہ تعالی جب انسان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرتا ہے تو اسے دنیا کے دھندوں سے دور اور اپنے قریب لے جاتا ہے اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان جب اللہ پاک کے لیے دنیا کی رنگینیاں چھوڑتا ہے تو رب جلیل اسی دنیا کو اس انسان کا عقیدت مند بنا دیتا ہے کسی بھی بزرگ کے دربار پر کوئی مانگنے تانگنے نہیں جاتے بلکہ تعظیم میں جاتے ہیں کیونکہ ان سے رشتہ مانگنے تانگنے کا نہیں پیار محبت اور الفت کا ہوتا ہے یہ پیار ہی پیار ہوتا ہے جو صالحین شہدا ،صدیقین ، و انبیاء کوئی بھی ہوں ان کے دربار پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان کی عظیم قربانیوں پر سیلوٹ پیش کرتے ہیں ۔ باقی آرام انہوں نے کیا کرنا ہے یہ ازل سے ابتک کسی نہ کسی فارم پر ڈیوٹی سے بندھے ہوتے ہیں۔

سید صفدر شاہ بخاری عرف پیر کاکی تاڑکا 3روزہ عرس مبارک ڈھڈی تھل میں شروع ہو چکاہے دربار کو عرق گلاب سے غسل دیا گیا اور کئی من پھول نچھاور کیے گئے آج عرس مبارک کا آخری دن ہے عرس مبارک میں شامل ہونے کے لیے عقیدت مندبہت دور دور بلکہ بیرون ملک سے بھی ہزاروں کی تعداد میں دربار پر اپنی عقیدت کے پھول چڑھانے آتے ہیں کوئلے کی معدنیات سے مالا مال زمینوں کا مالک رئیس اعظم ایک خاموش سماجی کارکن سید خاندان سے تعلق راولپنڈی گارڈن کالج سے گریجویٹ کرنے والا شخص سید صفدر شاہ بخاری کو اچانک ایک دن گندگی کی دلدل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو اس گندگی سے باہر نکالنے کا خیال آتا ہے تو اپنی زندگی کے تمام آسائشیں اور آرائشیں چھوڑ کر ہیرا منڈی لاہور میں ڈیرہ ڈال لیتا ہے جہاں ہر ایک نے اسے روایتی پیری کے درجے کا لیبل لگایا یہاں تک کہ لڑکیوں کو دیکھنے کے الزامات بھی لگائے اسی وجہ سے انہیں پیر کاکی تاڑ کا درجہ دیا۔

پیر کاکی تاڑ کا خطاب ملنے پر بھی انہوں نے اپنا کام جاری رکھا اور ہزاروں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راستہ دکھایا ہر ایک کا مذاق بنتے رہے اور دس سالوں میں 300 سے زیادہ ان مظلوم اور غلام بچیوں سے یہ گندہ پیشہ چھڑوا کر ان کی شادیاں کروائیں لیکن شروع میں انہی کو ان کے مسائل کے لیے کہتے گھنگرو باندھو دھمال لگائو تمہارے گھنگرو کی چیخ و پکار میں بھی دعا ہے شفاء ہے وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم بہت گنہگار ہیں اللہ ہماری کیسے سن سکتا ہے پھر جو عیاش امیر طبقہ مجرہ دیکھنے یا حرامذدگی کرنے آتا انہیں اچانک انہی کی کسی پرابلم کے لیے بول دیتے اس کاکی کی دھمال میں پائوں کو دیکھتے رہو تمہارے لیے دعاکر رہی ہیں اب دونوں حیرت میں پڑ جاتے سوچتے شرمندہ ہوتے طوائف یا ان کے دلال اس حال میں بھی اللہ کا سوچنے پر مجبور اپنے گناہ پر شرمندہ ہوتے تھے لیکن اس بازار اور ان لوگوں کو ان کی ہی زبان میں سمجھایا ۔لیکن تبدیلی آئی جب تک ان کو خبر ہوئی بابا اپناکام کر گیا۔

ہاں اسی دوران میڈیا بلیک میلر کا رول کرنے پہنچا علماء نے کفر کے فتوے لگائے لیکن آج تبلیغی جماعت بھی مانتی ہے کہ جہاں ہم نہیں پہنچ سکتے تھے وہاں بابا پہنچ گیا بہر حال وہ اپنا تعارف گندے گنہگارکے طور پر کروانے پر خوش تھے پیر قلندر سید صفدر شاہ بخاری عرف پیر کاکی تاڑ کے دو پیٹے سید منشا ،عباس بخاری،سید فرعت عباس بخاری ہیں سید منشا بحاری تحصیل پنڈدادن خان کی معروف سماجی ،رفاہی،مذہبی،و سیاسی شخصیات میں شامل ہیں لیکن پیر کاکی تاڑنے اپنے کسی بیٹے کو اپنا گدی نشین نہیں بنایا بلکہ اپنے ایک ساتھی عزیر شاکر جو کہ نہایت ہی اعلی شخصیت کے مالک ہیں اور سرکار قلندر کو ان میں اپنا آپ نظر آیا اور ان کو اس قابل سمجھا کہ اپنی گدی کا وارث عزیر شاکر کو بنایا جائے اور اس طرح عزیر شاکر قلندر سرکار کے جانشین بن گئے اور آج تک اس گدی سید صفدر شاہ بخاری کی روایات کے مبطابق چلا رہے ہیں۔

قلندر سرکار کے دونوں بیٹوں نے سرکار کے حکم کے مطابق گدی کے معاملہ میں کھبی دخل اندازی نہیں کی بلکہ دوسرے عقیدت مندوں کی طرح اپنے آپ کو دربار اور سرکار کے عقیدت مندوں کی خدمت میں لگا دیا اور عزیر شاکر کو اپنے والد کا درجہ دیا لکھنے کو تو ابھی بہت کچھ باقی ہے لیکن صفحات اجازت نہیں دیتے کو شش کی ہے کہ مختصر تحریر میں قلندر سرکار کی زندگی پر روشنی ڈال کر اپنی عقیدت کا حصہ بھی ڈال دوںآج سرکار کے عرس مبارک کا آخری دن ہے دربار پر عقیدت مندوں اور سرکار پیر کاکی تاڑ کے شاہنے والوں کا ایک ہجوم ہے کوئی فیض حاصل کر کے اپنی عقیدت کے بھول نچھاور کرنے آیا ہے اور کوئی فیض حاصل کرنے اپنے حاضری دینے آیا ہے اور یہ سلسلہ تو صدا چلتا رہے گا کیونکہ سرکار قلندر سید صفدر شاہ بخاری کا مشن ہی پیار کرنا اور نفرت کو ختم کرنا ہے جو ہمیشہ جاری رہے گا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button