پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال

مصدقہ کیسز
64,028
+2,801 (24h)
اموات
1,317
+57 (24h)
صحت یاب
22,305
34.84%
زیر علاج
40,406
63.11%
کالم و مضامین

’’کورونا ‘‘ کا عذاب اور جذبہ خدمت خلق

پیارے پڑھنے والو!
یہ سطور میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک اٹلی میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔یہاں روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں اسکے ساتھ ساتھ پیارے پاکستان میں بھی اس وباء نے پنجے گاڑرکھے ہیں۔وبائی امراض یا کورونا وائرس کا پھیلنا ایک قسم کا عذاب خداوندی ہے اس سے نہ صرف لوگوں کی موتیں واقع ہورہی ہیں؛ بلکہ دنیا بالکل سمٹ سی گئی ہے۔

اسفار پر پابندی ہے، لوگ ادھر سے ادھر نہیں جا پارہے ہیں، معیشت کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے، چیزیں بہت سے علاقوں میں مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں، ظاہر ہے کہ یہ سب عام لوگوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے اس لیے بحیثیت مسلمان اور محمد ﷺ کے غلام اور ایک عالمی و آفاقی امت ہونے کے ہمیں آپ ﷺ نے جو ہدایات دی ہیں ان کو بروئے کار لاکر اس سے نجات پانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے۔

انسان ایک سماجی مخلوق ہے اس لئے سماج سے الگ ہٹ کرزندگی نہیں گذارسکتا، اس کے تمام تر مشکلات کا حل سماج میں موجو دہے، مال ودولت کی وسعتوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود انسان ایک دوسرے کا محتاج ہے، اس لئے ایک دوسرے کی محتاجی کو دور کرنے کے لئے آپسی تعاون، ہمدردی،خیر خواہی اور محبت کا جذبہ سماجی ضرورت بھی ہے،مذہب اسلام چونکہ ایک صالح معاشرہ اور پرامن سماج کی تشکیل کا علم بردار ہے،اس لئے مذہب اسلام نے ان افراد کی حوصلہ افزائی کی جو خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہو،سماج کے دوسرے ضرورت مندوں اور محتاجوں کا درد اپنے دلوں میں سمیٹے،تنگ دستوں اور تہی دستوں کے مسائل کو حل کرنے کی فکر کرے،اپنے آرام کو قربان کرکے دوسروں کی راحت رسانی میں اپنا وقت صرف کرے

ریاکاری یا نمودو نمائش بہت خطرناک روحانی مرض ہے۔ یہ کسی مسلمان کی بڑی سے بڑی نیکی کو اس طرح ضائع کر دیتا ہے جیسے وہ کی ہی نہ ہو۔ کبھی کبھار اس کا وبال بھی انسان کو جھیلنا پڑتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر کثیر تعداد اپنی اچھائیاں، اپنے کام، اپنے کمالات اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا کو بتانے کی کوشش کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کریں، اسے پسند کریں اور اس کی نیک نامی ہو۔ دیکھا گیا ہے کہ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر اگر لوگ ایک دوسرے کے کام کو لائک نہ کریں تو بعض لوگ اس پر بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔

وہ سوچنے لگتے ہیں کہ شائد وہ شخص مجھ سے حسد کرتا یا جلتا ہے، اس لئے میری پوسٹ کو لائک نہیں کرتا۔ یہ معلوم کرنا تو بہت دشوار ہے کہ سبب حسد ہے یا نہیں، لیکن اس سوچ کے پروان چڑھنے سے یہ بات ضرور ظاہر ہو رہی ہے کہ یہ شخص اس بات سے بے خبر ہے کہ اُس کی یہ سوچ اس کے اپنے اندر چھپی ایک روحانی بیماری کا پتہ دے رہی ہے جسے نمود ونمائش کہتے ہیں۔ یہ روحانی بیماری کسی مسلمان کے ایمان کے لئے خطرناک ہے۔ قرون اولیٰ کے اولیاء اللہ اور صالحین اس سے بچا کرتے تھے۔

محمد یوسف اصلاحی اپنی کتاب روشن ستارے میں ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن نُجید نیشا پور کے رہنے والے تھے اور آپؒ کا شمار بہت بڑے عالموں، زاہدوں، متقی اور پرہیزگار لوگوں میں ہو تا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؒ کو بہت طیب مال بھی دے رکھا تھا جو کہ آپؒ کو وراثت سے بھی ملا تھا۔ یہ مال آپؒ دین کا علم حاصل کرنے والوں، غرباء اور مساکین پر خرچ کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ سرحد پر لڑنے والے مجاہدوں کے لئے رقم کی ضرورت پڑی تو آپؒ کے اُستا د محترم ابو عثمان ؒ نے مجاہدوں کی تکالیف اور بھوک پیاس کو لوگوں کے سامنے بیان کیا اور یہ بیان کرتے ہوئے آپؒ آبدیدہ ہو گئے۔

حضرت ابن نُجیدؒ پر اس کا اتنا اثر ہوا کہ فوراً گھر گئے اور دو ہزار اشرفیوں کی ایک تھیلی لا کر چپکے سے اپنے استاد محترم کو پیش کر دی۔ اتنی بڑی رقم سے آپ کے اُستاد محترم اس قدر خوش ہوئے کہ مجمع کے سامنے حضرت ابن نُجیدؒ کی تعریف کر دی تاکہ دوسروں کو بھی راہ خدا میں خرچ کرنے کا شوق پیدا ہو، لیکن حضرت ابن نُجیدؒ نے جب یہ دیکھا کہ یہ بات اُن کے استاد محترم نے لوگوں کے سامنے بیان کر دی ہے تو آپؒ اتنے پریشان ہوئے کہ فوراً سب کے سامنے کھڑے ہوئے اور مودبانہ عرض کرنے لگے کہ حضرت غلطی سے یہ رقم میں اپنی والدہ محترمہ کی اجازت کے بغیر لے آیا تھا اب معلوم نہیں کہ وہ اتنی بڑی رقم دینے پر راضی ہوں بھی یا نہیں اس لئے آپؒ یہ رقم مجھے واپس کر دیں۔

آپؒ کے استاد محترم نے وہ رقم فوراً واپس کر دی اور آپؒ یہ رقم واپس لے کر گھر آگئے۔ جب رات اندھیری ہو گئی اور سب لوگ سو گئے تو آپؒ دوبارہ یہ تھیلی لے کر اپنے استاد محترم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ حضرت بات یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری نیکی لوگوں کے سامنے ظاہر ہو، میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے یہ رقم راہ خدا میں خرچ کر رہا ہوں۔ اس کا مقصد لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو نیک ظاہر کرنا نہیں ہے۔ اس لئے آپ یہ رقم قبول کرلیں اور کسی کو معلوم نہ ہو نے دیں۔ آپؒ کے استاد محترم حضرت ابو عثمانؒ یہ بات سن کر رونے لگے اور حضرت ابن نجیدؒ کو گلے لگایا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ یاد رکھیں نیکی وہ ہے جس سے پہلے ٹال مٹول نہ ہو اور اس کے آخر میں احسان نہ جتایا جائے۔

نیکی خدا کیلئے ہوتی ہے، خدا کیلئے کی گئی نیکی کا صلہ مخلوقِ خدا سے پانا۔۔۔خدا سے بے وفائی ہے۔ اپنی نیکی کی داد وصول کرنایا کسی طرف سے داد کے انتظارمیں رہنا دراصل نیکی کا مول لگوانا ہے۔ نیکی انمول ہوتی ہے۔۔۔اور مول لگوانے سے انمول بے مول ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں نیکی کے بارے میں ارشاد ہے:

مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ جو اگاتا ہے سات بالیں (اور) ہر بال میں سو دانہ ہوں(اور) اللہ تعالیٰ (اس سے بھی)بڑھا دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور اللہ وسیع بخشش والا جاننے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس کی رضا اور خوش نودی حاصل کرنے کے لیے اپنا مال اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا ثواب عطا فرماتا ہے۔ بلکہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک عطا فرما دیتا ہے۔

کسی پراحسان جتلانا اسے زیر بار کرنا ہے، اسے شرمندہ کرنا ہے۔شرمندہ کرنا بھی سزا دینے کے برابر ہوتاہے۔ اپنی نیکی کو کوڑا نہیں بنانا چاہیے کہ جس نے روگردانی کی‘ اس پر برسنے لگے۔ نیکی تو شاداب کرتی ہے، شرابور نہیں کرتی۔ نیکی کوئی فن نہیں، کہ ’’فن کار‘‘ اپنے فن پاروں کی نمائش لگاتا رہے۔ اس کے برعکس نیکی کو چھپانا ایک فن ہے۔ اس فن میں طاق لوگ یکتا ہوتے ہیں۔ وہ اس سبق پر عامل ہیں کہ ایک ہاتھ سے دیا جائے تو دوسرے کو خبر نہ ہو۔ وہ دینے کے بعد لینے والے کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔حضرت واصف علی واصف کا قول ہے: ’’نیکی کی نمائش ہی نیکی کی نفی ہے‘‘ دراصل مخلوق میں نیکی کی نمائش لگانانیکی کی توہین ہے۔نمائش کی غرض شہرت ہے۔۔۔ اور شہرت کے لیئے لوگ نیکی کے بعد احسان جتاتے ہیں، اپنی نیکیوں کو اپنے عیبوں کی طرح چھپا کر رکھنا چاہیے۔

اس شخص کے لیے بھی وعید ہے جو کسی آدمی کو کوئی چیز از قسم زکوٰۃ، صدقہ یا خیرات دے اور پھر اس پر وہ احسان جتاتا پھرے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے؛

’’اے ایمان والو! مت ضائع کورو اپنے صدقات کو احسان جتلا کر اور دکھ پہنچا کر،اس آدمی کی طرح جو خرچ کرتا ہے اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے اور یقین نہیں رکھتا اللہ پر اور قیامت کے دن پر، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چکنی چٹان ہو، جس پر مٹی پڑی ہو، پھر برسے اس پر زور کی بارش اور چھوڑ جائے اسے چٹیل صاف پتھر۔‘‘

یعنی اے ایمان والو! صدقہ و خیرات کے بعد احسان جتلا کر اوراذیت دے کر اپنے صدقات کو باطل نہ کورو۔احسان جتلانے سے اور اذیت پہنچانے کے گناہ سے صدقہ کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔‘‘ جو کوئی صدقہ خیرات کرتا ہے تو یا تو وہ لوگوں کو دکھانے اور نمود و نمائش کے لیے کرے گا یا اللہ کی رضامندی کے لیے۔ اگر اللہ کی رضامندی مقصود ہے تو پھر چاہیے کہ کسی کے ساتھ بھلائی کر کے اسے بھول جائے، نہ کہ اس کا تذکرہ کرتا پھرے یا اس شخص پر احسان جتلاتا رہے۔ اس طرح کرنے سے وہ اپنی نیکی کو برباد کر دیتاہے۔

قرآن کریم میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’جو لوگ خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں، پھر جو خرچ کیا اس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ دکھ دیتے ہیں، انہیں کے لیے ثواب ہے ان کا ان کے رب کے پاس، نہ کوئی خوف ہے ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close