سوہاوہاہم خبریں

پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دیدی گئی، بلدیاتی انتخابات مارچ 2019 میں ہونگے

سوہاوہ: پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دیدی گئی ، بلدیاتی انتخابات مارچ 2019 میں ہونگے ، ایم این ایز اور ایم پی ایز قانون سازی تک محدود ، منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو فنڈز نہیں ملیں گے ، نئے بلدیاتی نظام کی منظوری کے بعد موجود ہ سسٹم کی بساط لپیٹ دی جائے گی ، ایم این اے اور ایم پی اے کا کردار صرف قانون سازی تک محدود کر دیا جائیگا، بلدیاتی نمائندوں کے لئے تعلیم کی شرط نہیں رکھی جارہی ، بلدیاتی انتخابات مارچ 2019 ء میں منعقد ہونگے۔

تفصیلات کے مطابق جہلم سمیت پنجاب بھر میں نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے ، انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق مجوزہ بلدیاتی قانون پنجاب اسمبلی سے ایک ایکٹ کے ذریعے منظور کروایا جائیگا، پنجاب اسمبلی سے منظور ہوتے ہی پنجاب کے موجودہ بلدیاتی نظام کی بساط لپیٹ دی جائیگی اور صوبے بھر میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کا اعلان جلد کر دیا جائیگا۔

اطلاعات کے مطابق بلدیاتی انتخابات مارچ2019 ء میں کرائے جائیں گے ، نئے بلدیاتی نظام میں تقریباً 70 فیصد جنرل مشرف کے ضلعی حکومتی نظام کو شامل کیا گیاہے ، قانون سازی کے بعد بلدیاتی الیکشن کمیشن گاؤں اور ہمسائیہ کونسلز کے لئے حلقہ بندیاں کریگا، کونسلوں کا سائز چھوٹاکرکے 12 سے 15 ہزار کی آبادی پر مشتمل رکھا جائیگا، عوام اس کونسل کے ممبران کو ووٹ کے زریعے منتخب کریں گے ۔

پنجاب کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد حصہ ہمسایہ کونسل جبکہ 33 فیصد ویلج کونسلیں خرچ کریں گی ، ضلع کا ناظم براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوگا، ایم این اے ، ایم پی اے کے پاس کوئی ترقیاتی فنڈز نہیں ہونگے اور ان کو صرف قانون سازی تک محدود کردیاجائیگا، جنرل مشر ف کے نظام میں بھی ویلج کمیٹیوں کا قیام شامل تھا مگر وہ نہ بن سکیں ، جنرل مشرف کے نظام میں تمام بلدیاتی نظام کے اوپر ایک ضلعی محتسب بھی تعینات کیا جاناتھا لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکاتھا جبکہ اب ہر ضلع میں بلدیاتی نظام پر کڑی نظر رکھنے کے لئے ضلعی محتسب کی تقرری بھی کی جائیگی۔

اطلاعات کے مطابق بلدیاتی نمائندوں کے لئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں رکھی جارہی ، ضلعی ناظم کے لئے ایف اے ، بی اے کی شرط لازمی طور پر رکھی جانے کا امکان ہے ، نئے تشکیل شدہ بلدیاتی نظام میں 24 صوبائی محکمہ جات ضلعی سطح پر ضلعی حکومت میں ضم ہو جائیں گی ، پرائمری ، ایلیمنٹری ایجوکیشن پرائمری ہیلتھ ، سمیت 24 محکمہ جات پرائمری سطح پر ضلعی حکومت کے پاس چلے جائیں گے ، یونین کونسل اور ضلع کونسل ڈسٹرکٹ گورنمنٹ میں بھی کوئی نائب ناظم یا وائس چیئرمین نہیں ہوگا۔

ٹاؤن یا تحصیل سطح پر منتخب ہونے والے نائب ناظم ، وائس چیئرمین یا ڈپٹی میئر میں سے سب سے سینئر ضلع کونسل حکومت کی صدارت (بطور سپیکر ) کریگا، یونین کونسل کے ناظم ضلعی حکومت کے ممبران ہونگے اور ایک سینئر کونسلر اس ہاؤس کی صدرات کریگا، بلدیاتی نمائندے یونین کونسل اورٹاؤن یا تحصیل میں تمام ترقیاتی کام سیوریج ، واٹر سپلائی صفائی پانی کی فراہمی ، سڑک کی تعمیر گلیوں کی سولنگ اور نالیوں کی تعمیر و مرمت کرنے کے مجاز ہونگے ، شناختی کارڈ پاسپورٹ اسناد وغیرہ کی تصدیق بھی کر سکیں گے ، یونین کونسل ویلیج کونسل طرز کا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق بلدیاتی نظام کو فائنل کرکے اکتوبر کے پہلے ہفتہ میں گورنر پنجاب آرڈیننس کے ذریعے نافذ کریں گے ، بلدیاتی نظام کے نفاذ کے بعد ایک ہفتہ کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائیگا اور تین ماہ کے اندر اندر بلدیاتی انتخابات ہونگے، ذرائع کے مطابق ماہ جنوری کے پہلے ہفتے یا مارچ تک بلدیاتی انتخابات منعقد ہونگے۔

دوسری جانب پولیس اصلاحات کے لئے سابق آئی جی پختونخواہ ناصردرائی نے بھی اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیدی ہے اور آئندہ ایک دور وز میں وہ یہ سفارشات وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو پیش کریں گے ، پولیس کے موجودہ سسٹم میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جارہی ہیں ، ضلعی سطح پر ڈی پی او کو تبادلوں اور تقرریوں میں فری ہینڈ دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ تمام تھانوں میں تقرریاں اور تبادلے ڈی پی او کی صوابدیدپر ہونگے،اور ہر ضلع میں جرائم کے حوالے سے ڈی پی او جوابدہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button