معذور افراد، ان کے حقوق اور آشیانہ سپیشل چلڈرن سکول — تحریر: محمد برہان الحق جلالی

0

معذوری کیا ہے؟
معذوری کا لفظ اردو زبان میں دماغی اور جسمانی عارضِ کو کہتے ہیں اور جس کو یہ عارضہ لاحق ہو وہ معذور کہلاتا ہے۔مگر عربی زبان ہیں یہ عام ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو معاشرے میں اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کر سکتا ہواور عربی میں ایسے شخص کو (عاجزمن العمل)جو کام کرنے میں عاجزاور کمزور ہواسی طرح(الّذی لہ عذر)یعنی جو صیحح طور پر کام سر انجام نہ دے سکتا ہو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق معذور وہ شخص ہے جس کو طویل المیعاد جسمانی‘ذہنی کمزوری ہو اور وہ معاشرے میں کردار ادا کرنے میں رکاوٹ کا سبب ہو۔(معذوری کی تعریف)وہ پیدائشی یا حادثاتی مرض جو صحت کے بنیادی اصولوں سے محرومی کا سبب بنے۔

کل مذاہبِ عالم اور ادیان اور خصوصا بالخصوصدین اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو اُن کی تعلیمات میں سائلین، محرومین، مستضعفین اور کسی بھی انداز کی معذوری اور محتاجی کے سدباب کے اشارے یا واضح اسلوب موجود ہیں۔ مذاہب عالم کی تعلیمات میں ممکن ہے معذور اور اپاہج کے الفاظ نہ ملیں یا براہِ راست ایسے لوگوں کے بارے واضح تصورات کا ذکر نہ ہو مگر اُن کی تعلیمات میں محرومین کی فلاح اور دیکھ بھال کرنے اور مختلف حوادث کا شکار ہونے والے طبقہ کی بھلائی کے واضح احکامات موجود ہیں۔

٭قارئین معذوری کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے کہ جتنا خود انسان اور معذوری کی کئی ایک اقسام ہیں جن میں سے (ما لی‘جسمانی‘علمی)بعض عارضی طور پر ہوتی ہیں جیسے(بے ہوشی وغیرہ)اور بعض ہمیشہ کے لییانسان کو لاحق ہوتی ہیں جیسے(اندھا پن‘پاگل پن وغیرہ)اسی طرح بعض پیدائشی ہوتی ہیں جیسے(لنگڑا پن‘بہرہ پن وغیرہ)بعض حادثاتی طور پرانسان کو لاحق ہو جاتی ہیں جیسے(ایکسیڈینٹ یا مشین وغیرہ میں آ کرہاتھ یا بازو وغیرہ کا کٹ جانا)اسی طرح بعض اجتمائی طور پر لاحق ہو جاتی ہیں جیسے(قہط سالی‘زلزلہ‘سیلاب وغیرہ)اور بعض انفرادی ہوتی ہیں جیسے(شوگر‘فالج‘لقوہ‘مرگی)جب سے انسان پیدا ہوا ہے اسی دن سے پیدائشی عارضے انسان کی زندگی میں لاحق ہوتے رہیاسی وجہ سے ہر دور میں معذورین کے ساتھ مختلف ادوار میں بہیمانہ سلوک کیا جاتا رہااسلام سے قبل معذورین کی حثیت جانوروں سے کم نہ سمجھی جاتی تھی۔اور اسلام آنے کے بعد بھی جاہلیت اور اسلامی تعلیمات سے عدم واقفیت کی بنیاد بر معذورین کو معاشرے بوجھ تصور کیا جانیاور ان کو حصول رزق کا موثر ترین ذریعہ سمجھا جانے لگا۔جس کے سبب گداگری کا ٰطوق ان بیچاروں کے گلے میں ڈال دیا گیا اور در در کے دھکے جبکہ اسلام نے آ کر ان کو تحفظ دیا اور ان کو ان کے حقوق دیے‘اسلام نے مالی معذور سے حج اور زکوٰۃ وغیرہ کو ساقط کر دیا‘۔

(حضرت عائشہ رضی اللہ عنھاکی حدیث سے معلوم ہوا کہ)تین قسم کے لوگوں سے نماز ساقط ہے ان میں سے مجنون بھی ہے‘علمی معذوری میں سے جاہل اور عدم واقفیت کی بنیاد پر تفصیلی احکام الہی کانے کا مطالبہ نہیں کرتا سوائے بنیادی چیزو ںکے۔اس کے علاوہ ان کو جائیداد میں سے حصہ دیا اور نکاح وطلاق‘حصول علم کاروبار‘غرض کے ہر ممکن حد تک معذور کی حوصلہ افزائی فرمائی اور اس کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب دی اسلام نے معذوروں کو ان کے حقوق دلائے ان کو معاشرے میں مقام دیا۔

دینِ اسلام نے زندگی کے معاملات میں ہر انسان کو بلا تمیز رنگ و نسل یا سماجی مرتبہ مساوی حیثیت عطا کی ہے۔ یہ عام سماجی رویہ ہے کہ معذور افراد کو زندگی کے عام معاملات اور میل جول میں نظرانداز کرنے کی روش اختیار کی جاتی ہے۔ قرآنی تعلیمات نے اِس روش اور عادت کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے ہر انسان کو لائقِ عزت و وقار قرار دیا ہے۔

معاشرتی رتبہ اور توجہ کا حق دین اسلام نے کسی شخص کے جسمانی نقص یا کمزوری کی بنا پر اُس کی عزت و توقیر اور معاشرتی رُتبہ کو کم کرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی بلکہ جا بجا ایسے واقعات اور احکامات موجود ہیں جن کی بنیاد پر اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمنے ایسے لوگوں کو دوسرے انسانوں کی نسبت زیادہ عزت بخشی ہے۔

ایک موقع پر حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم رئوسائے مشرکین کو تبلیغ فرما رہے تھے کہ اتنے میں نابینا صحابی حضرت عبد اللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دوسروں سے مصروف گفتگو ہونے کی وجہ سے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ بن اُم مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ نہ ہو سکے تو اِس عدم توجہی پر یہ آیت قرآنی نازل ہوئی:

’’اُن کے چہرہ (اقدس) پر ناگواری آئی اور رُخ (انور) موڑ لیا۔ اِس وجہ سے کہ اُن کے پاس ایک نابینا آیا (جس نے آپ کی بات کو ٹوکا)۔ اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا خبر شاید وہ (آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہ سے مزید) پاک ہو جاتا۔ یا (آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی) نصیحت قبول کرتا تو نصیحت اس کو (اور) فائدہ دیتی۔‘‘
(عبس80، 1تا 4)

حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن اُمِ مکتوم کا واقعہ بڑی اہمیت کا حامل اور ہمارے موضوع ’’معاشرتی رتبہ اور توجہ کا حق‘‘ کے قریب تر ہے۔ وہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنا کچھ مدعا بیان کرنا چاہتے ہیں اور تعلیماتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہرہ مند ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ بینائی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مصروفیت اور تبلیغ دین میں انہماک کا اندازہ نہ ہوسکا، اُنہوں نے حاضرِ خدمت ہو کر اپنا مدعا بیان کرنا شروع کر دیا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کچھ اشرافِ قریش کو دین حق کی تبلیغ فرما رہے تھے۔ دعوت حق کی حکمت عملی اور محویت کے باعث آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عبداللہ کی طرف توجہ نہ دے سکے اور اُن کے سوالات کا جواب بھی نہ دیا۔ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کی بار بار نِدا اور مداخلت سے سرکارِ دو عالم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قدرے ناگواری ہوئی۔ مگر باری تعالیٰ نے اپنے حبیب مکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متوجہ فرماتے ہوئے حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخلصانہ طلب اور راہِ حق کی سچی جستجو کو زیادہ اہمیت دینے کی نشاندہی فرمائی۔

معذور افراد کس طرح کی توجہ اور معاشرتی مقام کے حقدار ہیں، اس کا اندازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طرزِ عمل سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ایک دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے کہ ایک شخص کو دیکھا جو بائیں ہاتھ سے کھانا کھا رہا تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے بندہ خدا! دائیں ہاتھ سے کھا۔ اُس نے جواب دیا کہ ’’وہ مشغول ہے۔‘‘ آپ آگے بڑھ گئے۔ جب دوبارہ گزرے تو پھر وہی فرمایا اور اُس شخص نے پھر وہی جواب دیا۔ جب تیسری بار آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس کو ٹوکا تو اُس نے جواب دیا کہ ’’موتہ کی لڑائی میں میرا دایاں ہاتھ کٹ گیا تھا۔‘‘ یہ سن کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رونے لگے اور پاس بیٹھ کر اُس سے پوچھنے لگے کہ تمہارے کپڑے کون دھوتا ہے؟ اور تمہاری دیگر ضروریات کیسے پوری ہوتی ہیں؟ تفصیلات معلوم ہونے پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے لیے ایک ملازم لگوا دیا۔ اسے ایک سواری دلوائی اور دیگر ضروریاتِ زندگی بھی دِلوائیں۔
(کتاب الآثار، ابو يوسف 1: 208)

اِس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتِ اسلامیہ کا فرض ہے کہ وہ معذور افراد کی ضروریات کا خیال رکھنے میں کوتاہی اور سستی کی مرتکب نہ ہو۔ہمارے معاشرے میں معذوروں کا ہر لحاظ سے استحصال کیا جا رھا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو احساس کمتری سے بچایا جائے اور ان کے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو سامنے لایا جائے۔ اسی مقصد کو لے کر آشیانہ اسپیشل چلڈرن اسکول قریشی محلہ لالہ موسی میں اس راہ پر گامزن ہے معاشرے کے رویوں سے مایوس بچوں کو امید کی کرن دکھاتا ہے غمگین بچوں کو خوشیاں فراہم کرتا ہے یہ معذور بچوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کا سامنے لاتا ہے معذور بچوں کی بے ترتیب زندگی کو سنوارتا ہے شفقت ومحبت سے محروم بچوں شفقت و محبت دیتا ہے۔

انہی مقاصد سے عوام الناس کو روشناس کروانے کے لئے گاہے بگاہے سیمینارز کا اہتمام بھی کرتا ہے اسی سلسلے میں ۲ ستمبر کو عجوہ میرج ھال میں ایک سیمنار کا اہتمام کیا گیاجس میں ماہر تعلیم ڈاکٹر سمیرہ راشد اور میاں عمران مسعود نے خطاب کیا اور معذور بچوں کے حوالے سے اپنے تاثرات عوام الناس تک پہنچائے اور اس بات پر زور دیا کہ اگر ان معذور افراد کو معاشرے کا کامیاب شہری بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان مقاصد کو لے کر چلنے والے اداروں کے دست راست بنیں تا کہ ان بچوں کو ان کا جائز حق مل سکے ان کو معاشرے میں ایک مقام مل سکے۔

اگر اس تحریر میں کہیں بھی غلطی کمی کوتاہی ہو گئی تو بارگاہ الہی میں توبہ معافی کا طلبگار ہوں۔ اللہ تعالی ہمارے ملک پاکستان کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے اور اس کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.