کالم و مضامین

’’ کورونا‘‘ اور ’’پیشہ ور مشیر‘‘

یہ کوئی اٹلی یا امریکہ تو نہیں جہاں خیال بکتا ہو۔یہاں مشورے حاصل کرنے کے لیے روپیہ خرچ کرنا ہوتا ہے۔ کسی سے ملنے یا باتیں کرنے کے لیے ہفتوں پہلے ’’ شرفِ ملاقات ‘‘ کے لیے بھی ’’ طے شدہ‘‘ ملاقات کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر یہ تو پاکستان ہے پاکستان،جہاں رشتہ داروں سے زیادہ ملاقاتی اورملاقاتیوں سے زیادہ احباب ہوتے ہیں اور ان سب سے زیادہ جو بکثرت پائے جاتے ہیں وہ ہوتے ہیں۔

’’مشیر‘‘اور مفت کا مشورہ، بالکل مفت،ایک دم مفت اور قطعی مشورے دینے والے ہر قسم اور ہر عمر کے حضرات و خواتین سے ہمارا آئے دن پالا پڑتا رہتا ہے۔کوئی صورت نہیں کہ ہم ہر ایک کے قیمتی اور فاضل مشوروں سے جان چھڑا سکیں۔

سچ پوچھیئے ، تو یہ ’’ مشیر‘‘ بڑے ہی فراخ دل ہوتے ہیں۔ آپ ان سے خوش ہوں نہ ہوں، لیکن یہ عام طور پر آپ سے ناخوش رہا کرتے ہیں کہ آپ انکے فالتو مشوروں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ ہی انکی صلاحیتوں سے مستفید ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

مشورے دینے والے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک تو وہ جو وقت بے وقت ہر جگہ اور ہر موقع پر اپنی قیمتی رائے دینے کو تیار رہتے ہیں۔ در اصل یہ’’ پیشہ ور مشیر ‘‘ ہوتے ہیں، لیکن مشورے انکے بالکل مفت ہوتے ہیں۔ انکے مفت مشورے اکثر جان لیواثابت ہوتے ہیں جن پر بھولے سے بھی عمل کرنے کے بعد زندگی بھر قیمت چکانی پڑتی ہے۔ یہ ابتلاء کا دور ہے ، دنیا بھر سمیت’’ کورونا‘‘ جیسے موذی وائرس سے لاکھوں افراد متاثر اور لاکھوں لقمہ اجل بن رہے ہیں۔

اسکی جاری تحقیق میں بتایا جا رہا ہے کہ ساوتھ کوریا، چائنا اور اٹلی میں بعض کنفرم کیسسز میں صرف چھکنے یا سونگھنے کی علامات کے علاوہ کوئی دوسری علامت سامنے نہیں آئی۔ مگر لفظ ’’ وائرس ‘‘ سے بھی نا آشنا خود ساختہ سائنسدان، دانشور، ڈاکٹرز، نیم حکیموں اور پیشہ ور مشیروں کی الگ الگ افواج سوشل میڈیا اور اور معاشرے میں یکساں توازن سے متحرک ہیں۔

یہ عناصر دنیا بھر کت سائنسدانوں اور محققین کو مات دے کر وائرس کے علاج سے لیکر دنیا کو اسکے وجود سے پاک کرنے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ان مشورہ دینے والوں کے آئے روز کے مشوروں سے تو ہمارے کان پک گئے ہیں۔ لطف کی بات یہ مشورہ دینے والے جس چیز کے متعلق مشورے دیتے ہیں وہ اس کے بارے میں قطعی ناواقف ہیں۔

مگر سب سے زیادہ غصہ تو ان پر آتا ہے، جو کھانے پینے کی چیزوں میں اپنا مشورہ ملا کر کھانے پینے کا ناس مار دیتے ہیں۔مثلاََ آپکو آلو ، مٹر اور ٹماٹر پسند ہیں وہ ( مشیر) آپکو کدو، کریلا اور بھنڈی کی افادیت پر غور کرنے کا مشورہ دیں گے،اگر آپ کو چاول پسند ہیں تو وہ اصرار کریں گے کہ روٹی کھایا کرو۔ اس قسم کے مشورے لاکھ اس کان سے سنکر اس کان سے اڑا دیں اس سے ہماری ’’ جنرل نالج ‘‘ میں جو اضافہ ہوتا ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، کہ کس ترکاری میںوٹامن ’’ ب ‘ ‘ ہے اور کس میں ’ـ’ ٹ ‘‘ ۔ غرضیکہ ٹ، ث ، ج ، چ، ح ،خ سبھی طرح کے وٹامنوں سے واقفیت ہو جاتی ہے۔

اس قسم کے مشورے دینے والوں کی اس وقت سب سے زیادہ بن آتی ہے جب انکی دعا سے انکا کوئی عزیز یا رشتہ دار بیمار پڑ جاتا ہے۔

اسکے بعد انکے غول کے غول غریب خانے پر گرنا شروع ہو جائیں گے،انہیں اس سے بحث نہیں کہ آپکو محض موسمی بخار یا معمولی نزلہ زکام ہو گیا ہے، وہ کسی بھی صورت میں اسے ’’ کورونا ‘‘ سے کم درجہ نہ دیں گے۔ انکی پوری کوشش ہو گی کہ آپ زندگی سے ہاتھ نہ دھو سکیں تو کم از کم صحت سے تو دھو ہی لیں۔

ڈبلیو ایچ او نے پاکستان میں ’’ کورونا وائرس‘‘ سے بچاؤ کے متعلق پھیلنے والی ایسی خرافات اور مشوروں کی نشاندہی کرتے ہوئے انسان کو ان سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔ان خرافات اور مشوروں سے متعلق ’’ متھ بسٹرز‘‘ کے نام سے ڈبلیو اچ او نے ایڈوائزری بھی جاری کر دی ہے۔

اس میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے علاج اور شناخت کے لیے مختلف ٹوٹکے جن میں اینٹی بائیوٹک، نمونیا کی ویکسین،لہسن سے علاج، دھوپ میں بیٹھ کر یا گرم پانی سے نہا کر وائرس بھگانا،الکوحل کا استعمال، گرم مربوط علاقوں سے وائرس کے خاتمے کی پیشن گوئی،سرد موسم اور برفباری میں وائرس کی موت جیسے ٹوٹکے شامل ہیں۔

بات ’’ مشیروں ‘‘ کی ہو رہی ہے تو اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مشورہ دینے والوں کی دوسری تکلیف قسم وہ ہے جو وقتی طور پر کسی تکلیف سے متا ثر ہونے کے بعد آپ کو کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں ۔ مثلاََ جب آپ اپنا ٹمپریچر، نبض وغیرہ کی تفصیل معلوم ہونے کے بعد مطمئن ہوں کہ معمولی بخا ر ہے اتر جائے گا تو دوسری قسم والے ’’ مشیر وں‘‘ کا پارہ چڑھ جاتا ہے جو اس صورت میں اترا کہ’’ بس بس‘‘ یہی سب کچے پن کی باتیں ہیں دشمن اور بیماری کو کبھی حقیر نہیں سمجھنا چایئے تم کہتے ہو کہ بخار 99ڈگری ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ 99کاپھیرا بُرا ہوتا ہے۔

یہ ’’ مشیر ‘‘ نہ آپکا پارہ کم ہونے دیتے نہ آپ کو سکون لینے دیتے ۔بقول چوہدری شجاعت حسین کہ ہمارے وزیر اعظم ’’ اناڑی ‘‘ مشیروں کے گھیرے میں ہیں۔ تبھی تو آئے روز نت نئے مشورے دیکھنے اور سننے کو مل رہے ہیں جیسے کہ ’ لاک ڈاؤن میں کپڑے کی دکانیں بند اور درزی کی دکانیں کھلی‘ مکینک کی دکانیں کھلی جبکہ سپیئرپارٹس کی بند،مستریوں کو اجازت مگر سیمنٹ والوں کی دکانیں بند ، وزیر اعظم کا اعلان لاک ڈاؤن نہیں ہو گا ،صوبوں کا اعلان ہو گا۔

وزیر اعظم کا اعلان ٹرانسپورٹ چلے گی، صوبے کہتے نہیں چلے گی ، وزیر اعظم کہتے قرضہ نہیں لوں گا مگر ( مشیروں نے لیکر دیا )، میٹرو نہیں بناؤں گا ۔مگر ( مشیروں نے بنوائی) ۔ ہندوستان سے دوستی نہیں کروں گا ۔ مگر (مشیروں نے خیر سگالی کا ہاتھ بڑھایا)۔ وغیرہ وغیرہ کی ایک لمبی فہرست ہے جس میں وزیر اعظم کے فیصلوں سے زیادہ ’’ مشیروں ‘‘ کے فیصلے بولتے بھی اور دکھائی بھی دیتے ہیں ۔ لگتا یہ ہے کہ کچھ ’’ مشیر ‘‘ وزیر اعظم کا ’’ کورونا ‘‘ کے نام پر ہی ’’ کچھ ۔۔۔۔کرو ‘‘ والی گردان کا پانچ سالہ نہیں بلکہ ’’ آخری سالہ‘‘ کا راگ الاپنے میں مصروف ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button