کالم و مضامین

امی کو جدا ہوئے، آج 8 ماہ گرز گئے!

کرہ ارض کی عمر تحقیق انسانی کے مطابق 2سے 2.1/2 لاکھ سال پر محیط ہے جبکہ انسانی زندگی یہاں 50ہزار سال سے اپنے کرتب دکھا رہی ہے اس میں لکھاری کی عددی عمر تو 57سال ہے جبکہ عقلی عمر 40سال کے برابر بنتی ہے ،نہیں معلوم ان عرصوں کے دوران یہ زمین اپنے اندر پتا نہیں کتنی اعلیٰ ارواح کوسینے میں لیئے بیٹھی ہے ان میں راقم کے کئی رشتے دادیہال ، ننہال سے پھر سسرال سے جدا ہوئے۔

8اکتوبر 1996ء والد گرامی 10سال کی طویل علالت کے بعدپدری شفقت کی چھتری سے محروم ہو ا ۔ان کے سائے سے محرومی کے بعد اب امی کے ساتھ زندگی گزارنے کا وقت آگیا اس دوران نانا جان ، نانی جان بڑے ماموں جان اور منجھلے مامون جان، ایک ہفتے کے وقفے سے خالہ اور خالو ، کس کس کی بات کروں چچا زاد بھائی ، ایک پھوپھی زاد ، پھوپھیاں ،چچا جان حتی کہ خوش دامن بھی اور پتا نہیں کون کون ۔

والد گرامی کی دائمی روانگی کے بعد تین سال تک امی جان تھوڑی صحت مند رہیں لیکن دنیا کے بھنور کے سامنے شایدثابت قدم نہ رہ سکیں ایک کے بعد ایک بیماریاں ظاہر ہونے لگیں جوڑوں کے دردوں سے سلسلہ شروع ہو امختلف قسم کی ادویات استعمال کرتی رہیں لیکن بات بن نہ پائی اچانک نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئیں بھول پن عام ہو گیایاداشت سخت کمزور ہو گئی تھی جسم کمزور ہوتا گیا جیسے 12بجے کے بعد سورج اپنی تپش آہستہ آہستہ کم کر تا جاتا ہے ۔

2008ء تا 2010ء تک اپنی امی جان کو اکیلے ساتھ رکھ کر خدمت کا جو موقع پایا شاید کسی کو ملے یہ کرب کا دور انیہ تھا ۔لیکن یاد گار کیونکہ اسی دوران واہ فیکٹری میں دو دہشت گرد حملے ہوئے اور میں معجزاتی طور پر محفوظ رہازندگی اور موت کے درمیان منٹوں کا فرق رہا، میں نے امی جان کی خدمت جوکرنا تھی۔

2010ء میں ملازمت کے 25سال مکمل ہو گئے اب اپنے سامنے دو راستے تھے امی جان کے لئے خود کو وقف کر دینا یا پھر اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے ملازمت کو جاری رکھنا ۔ فیصلہ امی جان کے حق میں کیا فطرت کا یہی فیصلہ تھا کہ ملازمت کو خیر آباد کہنا ٹھہرا واپس گھر پہنچا تو علم ہو ا کہ صرف دو سال گھر سے دور رہنے کی وجہ سے کیا کچھ ہو گیا بیان نہیں کیا جا سکتا زندگی بے قدری کے ہاتھوں میں تھی ،برداشت کا دامن نہ چھوڑا نظام چلتا رہا ۔

2010ء سے 2019ء کا سال آگیا اس دوران صوبہ پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے صوبائی کالجوں میں محدود مدتی کالج ٹیچنگ انٹرنز اساتذہ میں ملازمت کا موقع ملا تو پانچ سالوں میں بات یہاں پہنچی کہ اپنی قلمی صلاحیتوں کے نتیجے میں ان کالج اساتذہ کا ایک گروہ مرتب کر لیا اور سب نے ایک مطالبے کے ساتھ عدلیہ کے دروازے پر دستک دی کہ ان محدود مدتی کالج اساتذہ کو بھی تجربہ کی بنیاد پر مستقل کیا جائے ،یہ مقدمہ لاہورہائی کورٹ راولپنڈی بنچ میں زیر سماعت ہے میری ہمیشہ کے لئے جدا ہونے والے ماں کی دعاؤں کے نتیجے میں یقین محکم ہے کہ انصاف ملے گا ۔

ان نو سالوں میں اپنی ماں کی خدمت میں ہر وقت کوشش رہی کہ کوئی بے ادبی نہ ہو جائے راتوں کو مریض کے ساتھ جاگنا اور دن کو معاشی اور معاشرتی مصروفیات میں رہنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ جولائی/ اگست 2019ء میں ماں کی کمزوری برداشت سے باہر محسوس کی تو قریبی علاقہ ڈوھمن چکوال کے رورل ہیلتھ سنٹر میں چیک اپ کا پروگرام بنایا۔

اس چیک اپ کے دوران میڈیکل آفیسر کے مشورے سے ڈرپ لگائی گئی لیکن امی جان بار بار استفسار کر رہی تھیں کہ’’ اگر مارنا تھا تو گھر میں ہی مار لیتے‘‘ میں دنیا کی طرح سوچ رہا تھا کہ امی جان بہتر ہوجائیں گی لیکن شایدا نہیں چھٹی حس بتا رہی تھی کہ راہ آخرت کا سامان ہو رہا ہے ۔

ایک ماہ کے وقفے کے بعد دوبارہ ہسپتال لے جایا گیا لیکن یہ بات واضح ہو گئی تھی امی جان پہلی ڈرپ لگنے کے بعد بجائے بہتر ہونے کے مزید کمزور ہو تی گئیں دوسری مرتبہ جب ہسپتال لے جایا گیا تو ڈاکٹر محترم نے ڈرپ میں طاقت کے لئے دو انجکشن بھی شامل کر دیے کہ مریض کو توانائی مل سکے لیکن بقول شاعر :۔

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

میں مذکورہ چیک اپ کے فیصلے کو زندگی کی بڑی غلطی تصور کرتار ہوں گا لیکن فیصلے فطرت کے ہوتے ہیں ۔مریض کے جسم میں دن بدن کمزوری بڑھتی گئی اپنے علاوہ ماں کو سنبھالنے والا کوئی نہ تھا آخر اکتوبر کا وہ مہینہ آگیا جس کی شاید فطرت منتظر تھی 4اکتوبر 2019ء کو جمعہ کا دن تھاگھر والوں نے امی کو غسل دیا کہ جسم صاف ہو جائے لیکن میں جمعہ کی نماز سے واپس آیا تو امی جان نے انتہائی نحیف آواز میں کہہ دیا کہ ’’افتخار اب میں مر جاؤں گی ‘‘یہ میرے لئے انکا آخری پیغام تھا۔

میں رسمی طور پر دلاسے دے رہا تھا اللہ بہتر کرے گا ساتھ اپنے اعصاب کو مضبوط کر رہا تھا کہ ضبط نہ ٹوٹ جائے ۔ اسی اثنا میں کچھ محبت کرنے والوں کو اطلاع کی کہ مریض کی حالت ٹھیک نہیں ہے وقت ہو تو دیکھ لیں شاید ان کی قسمت میں نہ تھا ۔ سنا تھا کہ اگر گھر میں اگر کوئی ناگہانی آفت آنے والی ہو تو نیند بہت آتی ہے خود اس کا مظاہرہ دیکھا 5/6اکتوبر ہفتہ اتوار کی درمیانی رات مجھے اس قدر نیندنے دبوچ کے رکھا کہ صبح آنکھ کھلی اس وقت اپنی امی کی حالت غیر ہو چکی تھی پانی منہ میں ڈالا کچھ جسم میں حرکت پیدا ہو ئی تھوڑا بہتر تصور کیا بعد میں چائے کے چمچ بھی لے لئے پھر اپنا دل کو مطمئن کیا فطرت کے فیصلوں کو کون ٹال سکتا ہے۔

6اکتوبر 2019 بروز اتوارصبح 8بجے کے قریب مریض کی سانس بدل چکی تھی میں اپنے چھوٹے شرجیل ،اپنی اہلیہ کے ہمراہ بے بس کھڑا تھا کر بھی کیا سکتا تھا ۔اپنی ماں کا آخری سفر شروع ہو چکا تھا ٹھیک 8بج کر 15منٹ ہوئے 82سالہ دنیا کا سفر کر نے کے بعدامی جان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اب سوائے رونے کے کیا تھا ’’میری دنیا لٹ رہی تھی اور میں خاموش تھا‘‘ ابھی بھی میرے ضبط کا بندھن ٹو ٹ رہاہے ۔مجھے میت کے قریب سے ہٹا دیا گیا پہلا غسل میری اہلیہ نے دیا ۔لیکن دل کی بھڑاس نکال رہا ہوں شاید یہ جو گزشتہ 8ماہ سے طویل تحریروں سے دور رہنے والا روزہ ٹوٹ سکے یا دائمی جدائی کے غم میں کمی واقع ہو سکے ۔

میں نے امی جان کے جانے کے بعد سے اب تک کوئی تحقیقی یا تجزیاتی تحریر سپرد قلم نہیں کی آج دنیا کے حالات اس قدر تہہ و بالا ہو رہے ہیں ہر روز جب کئی تحریروں کا مطالعہ کرتا ہوں یا سنتا اور دیکھتا ہوں تو اپنے کرب کے اظہار کے لئے دل مچلتا ہے ۔ اس لئے سوچا کیو ں نہ ’’امی جی ‘‘کی یاد میں ایک تحریرلکھوں شاید غم جدائی کم ہوسکے یہ سوگ کا روزہ تو اصل میں ایک سال تک ہو نا چاہیے تھا دل کی بات تو یہی ہے بس رسم ادا کر رہا ہوں ۔

6اکتوبر 2019ء میری زندگی کا دوسراتاریک دن تھا جب چوبیس سال کے وقفے کے بعد میرے سر سے دوسری اور بڑی چھتری ہمیشہ کے لئے اتر گئی ۔ اہل خاندان آئے رسمی غم میں شامل ہوئے اور پھرزندگی نئے چلن سے آگے بڑھنے لگی ۔ مجھے جینے کا ڈھنگ سکھانے والے تو ہمیشہ کے لئے چلے گئے اب مجھے اوروں کے لئے زندہ رہنے کا ڈھنگ سیکھنا تھا جو سیکھ رہا ہوں برداشت اور حوصلہ تو بہتر ہے لیکن پھر بھی ماحول کے مطابق کبھی کبھی صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے ۔

اب امی چلی گئیں تو چالیس روز تک باقاعدہ قبر پر حاضری ایک معمول رہا بلکہ ایک روز سخت بارش میں ایک دعائیہ تقریب سے اٹھا تو ساتھ قبرستان حاضری کے لئے چلا گیا ۔ شب برات آگئی شام کو بچوں کو ساتھ لیا قبرستا ن پہنچ گیا فرط جذبات آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی ۔ اسی طرح رمضان المبارک میں 27ویں شام کو بھی قبرستان میں حاضری دی اور والدین کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ عید الفطر کی صبح جب قبر پر حاضری دی تو ایک مرتبہ پھر محبت مادری و پدری نے جوش مارا صبر آگیا ۔

میری ماں کے بغیر یہ پہلی عید کا موقع تھا سب کا پتا چل گیا کون کتنے پانی میں ہے ثابت ہو گیا رشتے خون کے ہوتے ہیں نہ احساس کے بلکہ صرف اور صرف مفادات کے ہوتے ہیں ۔ صرف ماموں کے علاوہ کسی نے موبائل پر کال کرنا بھی پسند نہ کیا ۔ گلہ نہیں ہے صرف زمینی حقائق کی بات کر رہا ہوں ۔

آٹھ ماہ کا عرصہ یا 24سال کا عرصہ والد گرامی کی جدائی شاید زیادہ اس لئے محسوس نہیں ہوئی کہ ماں کا سایہ موجود تھا میری ماں کتنا یاد کروں ایک محبتوں بھری داستان تھیں میرے علاوہ بھی احباب یاد کرتے ہیں۔دین سے ان کی بے پناہ محبت اور خدمات جیسے کئی خواتین کو قرآن کی تعلیم سے آراستہ کیا، رمضان المبارک میں ایک قرآن پاک مکمل تلاوت کرکے ایصال ثواب کیا ،مغفرت کی دعا تو عام طور پر زبان پر رہتی ہے ۔

عید الفطر کی بات کر رہا تھا صرف ایک نسبتی خاندان اچانک آیا اور پہلاسوال کیا کہ ماں کے بغیر پہلی عید تھا میر ا جواب تھا زیادہ نہیں بے ضبط ہو جاؤں گا ۔ آج آٹھ ماہ گز ر گئے کبھی آٹھ سال بھی گزر جائیں گے اور میں ہم دنیا کی رنگینیوں میں کھو جائیں گے ۔ اس دعا کے ساتھ ختم کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب ﷺکے صدقے سے سب دنیا سے سفر کر جانے والوں کی مغفرت فرمائے بشمول میرے پیارے والدین کے ۔آمین

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close